غزلیات

  1. محمداحمد

    دو غزلہ : رات بھر سوچتے رہے صاحب ۔۔۔ محمد احمدؔ

    السلام علیکم، یہ کلام تقریباً ڈیڑھ دو ماہ پرانا ہے ، اُن دنوں طبیعت میں روانی تھی ، سو یہ غزل سے دو غزلہ ہوگیا۔ احباب کےاعلیٰ ذوق کی نذر: دو غزلہ رات بھر سوچتے رہے صاحب آپ کس مخمصے میں تھے صاحب؟ اس نے 'کاہل 'کہا محبت سے ہنس دیئے ہم پڑے پڑے صاحب گرم چائے، کتاب، تنہائی اور ہوتے ہیں کیا...
  2. محمداحمد

    غزل: ہر اینٹ سوچتی ہے کہ دیوار اس سے ہے ۔۔۔گرچرن مہتا رجت

    غزل ہر اینٹ سوچتی ہے کہ دیوار اس سے ہے ہر سر یہی سمجھتا ہے دستار اس سے ہے ہے آگ پیٹ کی تبھی چھم چھم ہے رقص میں پائل سمجھتی ہے کہ یہ جھنکار اس سے ہے امید ان سے کوئی لگانا ہی ہے فضول ہر منتری کی سوچ ہے سرکار اس سے ہے گھر کو بنائیں گھر صدا گھر کے ہی لوگ سب اور آدمی سمجھتا ہے پریوار اس سے ہے...
  3. محمداحمد

    غزل: ایک پتھر کہ دست یار میں ہے ۔ ۔۔ قمر جمیل

    ایک دھاگے میں پھول پتھر پر ایک مصرع دیکھ کر یہ غزل یاد آئی۔ غزل ایک پتھر کہ دست یار میں ہے پھول بننے کے انتظار میں ہے اپنی ناکامیوں پہ آخر کار مسکرانا تو اختیار میں ہے ہم ستاروں کی طرح ڈوب گئے دن قیامت کے انتظار میں ہے اپنی تصویر کھینچتا ہوں میں اور آئینہ انتظار میں ہے کچھ ستارے...
  4. محمداحمد

    غزل : یوں نہ دل کو جلائیے صاحب

    غزل یوں نہ دل کو جلائیے صاحب چھوڑیئے بحث، جائیے صاحب اب دلیلوں کی جا ہے دل میرا اب پرخچے اُڑائیے صاحب مصرع زیست میں ہےگر سکتہ کچھ ترنم سے گائیے صاحب تہمتِ عشق در بہ در کیوں ہو ہم اُٹھاتے ہیں، لائیے صاحب سانس اٹکی ہوئی ہے سینے میں اُن کو جا کر بتائیے صاحب دید، الفت، وصال، ہجر، ملال جو کیا...
  5. محمداحمد

    غزل: زمانہ ہر اک پل تغیّر میں تھا

    ایک پرانی غزل ۔ احباب کے ذوق کی نذر! غزل زمانہ ہر اک پل تغیّر میں تھا وہی چل سکا جو تدبر میں تھا ہوا بُرد ہوتی رہیں دستکیں کوئی واہموں کے تحیّر میں تھا محبت ہے کیا جان پایا نہ میں اگرچہ ازل سے تفکر میں تھا نگر چھوڑنے کا مرا فیصلہ تیری الجھنوں کے تناظر میں تھا ندامت تھی مجھ کو اُسی بات پر...
  6. محمداحمد

    غزل : دشت میں کیا بھلا پُھول چنتا کوئی

    غزل دشت میں کیا بھلا پُھول چنتا کوئی میں بھی کہتا اگر میری سُنتا کوئی زندگی تیری گَت پر رہے ناچتے گر سمجھتا تجھے، سر بھی دُھنتا کوئی چُن لیا تھا مجھے میری تنہائی نے مجھ اکیلے کو کیوں آ کے چُنتا کوئی نفسا نفسی کا عالم ہے، فرصت کسے شعر کہتا کوئی، خواب بنتا کوئی کہہ دیا، میں ہوں خوش! کیوں مرے...
  7. محمداحمد

    غزل ۔۔۔ نظر سے گزری ہیں دسیوں ہزار تصویریں ۔۔۔ محمد احمدؔ

    غزل نظر سے گُزری ہیں دسیوں ہزار تصویریں سجی ہیں دل میں فقط یادگار تصویریں مری کتاب اٹھا لی جو دفعتاًاُس نے گِریں کتاب سے کچھ بے قرار تصویریں میں نقش گر ہوں، تبسّم لبوں پہ رکھتا ہوں مجھے پسند نہیں سوگوار تصویریں بس اک لفافہ! اثاثہ حیات کا؟ کیسے؟ بس اک کتاب، گلِ خشک، چار تصویریں! مجھے ہے خوف...
  8. محمداحمد

    غزل ۔۔۔ اُٹھا رکھوں سبھی کارِ جہاں، کتاب پڑھوں ۔۔۔ محمد احمدؔ

    غزل اُٹھا رکھوں سبھی کارِ جہاں، کتاب پڑھوں تیاگ دوں یہ جہاں، ناگہاں! کتاب پڑھوں وہاں پہنچ کے نہ جانے کہاں ٹھہرنا ہو سفر میں ہُوں تو یہاں تا وہاں، کتاب پڑھوں ابھی تو کیف سے پُر ہے حکایتِ ہستی نئی نئی ہے ابھی داستاں، کتاب پڑھوں رواں سفینہ ٴ ہستی ہے، رکھ نہ دوں پتوار؟ ہوا کی اور رکھوں بادباں،...
  9. محمداحمد

    غزل ۔۔۔خفا ہیں؟مگر! بات تو کیجیے۔۔۔ محمد احمد

    غزل خفا ہیں؟مگر! بات تو کیجیے ملیں مت، ملاقات تو کیجیے ملیں گے اگر تو ملیں گے کہاں بیاں کچھ مقامات تو کیجیے پلائیں نہ پانی ،بٹھائیں بھی مت مُسافر سے کچھ بات تو کیجیے نہیں اِتنے سادہ و معصوم وہ کبھی کچھ غلط بات تو کیجیے سنی وعظ و تقریر، اچھی لگی چلیں ،کچھ مناجات تو کیجیے نہیں دوستی کی فضا...
  10. محمداحمد

    غزل ۔۔۔ موسموں کا مزاج اچھا ہے ۔۔۔ محمد احمدؔ

    غزل موسموں کا مزاج اچھا ہے کل سے بہتر ہے آج، اچھا ہے فرد بہتر، معاشرہ بہتر آپ اچھے، سماج اچھا ہے روٹھ کر بھی وہ مسکراتے ہیں یہ چلن، یہ رواج اچھا ہے رستگاری غموں سے ہوتی ہے بیٹھے سے کام کاج اچھا ہے وہ تفنن جو دل پہ بار نہ ہو اے مرے خوش مزاج !اچھا ہے احمدؔ اچھی ہے تیری گمنامی تیرے سر پر یہ...
  11. نیرنگ خیال

    غزل ۔۔۔ اب بھی شہزادہ ہے پتھر راہ میں۔۔۔ محمداحمدؔ

    محمداحمد بھائی کی ایک ادھوری غزل پیش خدمت ہے۔ قریباً ایک دہائی پرانی اس غزل کی تکمیل کے انتظار میں میری عمر دس سال بڑھ گئی ہے۔ لیکن غزل ہے کہ وہی رکی ہوئی ہے۔ سو ایک تو میرا صبر جواب دے چکا ہے، اور دوسرا ظہیراحمدظہیر بھائی کے تقاضے کے سبب، آپ احباب کی خدمت یہ ادھوری غزل پیش خدمت ہے۔ اب بھی...
  12. محمد تابش صدیقی

    غزلیاتِ نظر ٭ مجموعۂ کلام ٭ نظر لکھنوی

    الحمد للہ۔ استادِ محترم اعجاز عبید صاحب کی مہربانی اور توجہ سے دادا مرحوم محمد عبد الحمید صدیقی نظرؔ لکھنوی کی تمام غزلیات پر مشتمل مجموعۂ کلام "غزلیاتِ نظر" کی ای بک تیار ہو گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ استادِ محترم کو ایمان و صحت کے ساتھ سلامتی والی زندگی عطا فرمائے۔ آمین۔ یوں الحمد للہ دادا مرحوم کا...
  13. محمداحمد

    غزل۔۔ ۔اوس کہتی ہے رات روئی ہے۔۔۔ محمد احمدؔ

    غزل اوس کہتی ہے رات روئی ہے ابر کہتا ہے اور کوئی ہے اشک قرطاسِ دل پہ برسے ہیں حرف و معنی کی فصل بوئی ہے میں تمھاری طرح نہ بن پایا میں نے اپنی شناخت کھوئی ہے ناخُدا نے خدا خدا کرکے تیرتی ناؤ لا ڈبوئی ہے جاگتے خواب مجھ سے کہتے ہیں نیند کن وادیوں میں سوئی ہے خود کلامی کی خُو نہیں جاتی کچھ...
  14. سردار محمد نعیم

    نصیر الدین نصیر دل حزیں کو تری یاد سے بچا نہ سکے

    دلِ حزیں کو تری یاد سے بچا نہ سکے ہزار بار بُھلایا ، مگر بُھلا نہ سکے بُجھے بُجھے سے رہے دل میں ، جگمگا نہ سکے ہمارے داغہاے تمنا ، فروغ پا نہ سکے زبانِ اشک سے حالِ دل اُن کو کہنا تھا ہم اُن کے سامنے آنسو مگر بہا نہ سکے نکل سکی نہ ملاقات کی کوئی صورت ہمیں بلا نہ سکے اور خود...
  15. محمداحمد

    غزل ۔ زعمِ عہدِ سلف میں رکھا ہوا ۔ محمد احمدؔ

    غزل زعمِ عہدِ سلف میں رکھا ہوا خاکزادہ ، خذف میں رکھا ہوا سُونی سُونی ہے سوزنِ مژگاں ہے نگینہ صدف میں رکھا ہوا منزلیں مل گئیں تو ہوگا کیا ؟ ایسا کیا ہے ہدف میں رکھا ہوا تھے وہاں سب بہ امرِ مجبوری میں بھی تھا ایک صف میں رکھا ہوا یہ ترا سنگِ در ، یہ دروازہ اور ہُوں اِک طرف، میں رکھا ہوا پھول...
  16. محمداحمد

    غزل ۔۔۔آ گیا تھا وہ خوش خصال پسند ۔۔۔ محمد احمدؔ

    غزل آ گیا تھا وہ خوش خصال پسند تھی ہماری بھی کیا کمال پسند حیف ! بد صورتی رویّوں کی ہائے دل تھا مرا جمال پسند کیوں بنایا تھا ٹِھیکرا دل کو کیوں کیا ساغرِ سفال پسند ٹھیک ہے میں نہیں پسند اُنہیں لیکن اس درجہ پائمال پسند سچ نہ کہیے کہ سچ ہے صبر طلب لوگ ہوتے ہیں اشتعال پسند ہاں مجھے آج بھی...
  17. سردار محمد نعیم

    دنیا کو میں خواب دے رہا ہوں

    دنیا کو میں خواب دے رہا ہوں اور وہ بھی بے حساب دے رہا ہوں اب کوئی تو زندگی سے پوچھے میں کس کا حساب دے رہا ہوں کس کس کا جواب دوں میں آخر لو ایک جواب دے رہا ہوں انسان نظر میں اب کہاں ہے میں خود کو سراب دے رہا ہوں کانٹے ہی دیے تھے جس نے مجھ کو میں اُس کو گلاب دے رہا ہوں ہر باب ہی روشنی...
  18. سردار محمد نعیم

    قابل اجمیری تمہیں جو میرے غم دل سے آگہی ہو جائے

    تمہیں جو میرے غم دل سے آگہی ہو جائے جگر میں پھول کھلیں آنکھ شبنمی ہو جائے اجل بھی اس کی بلندی کو چھو نہیں سکتی وہ زندگی جسے احساس زندگی ہو جائے یہی ہے دل کی ہلاکت یہی ہے عشق کی موت نگاہ دوست پہ اظہار بیکسی ہو جائے زمانہ دوست ہے کس کس کو یاد رکھوگے خدا کرے کہ تمہیں مجھ سے دشمنی ہو جائے...
  19. محمداحمد

    غزل ۔ ہم نے پہلے دیکھ رکھے ہیں یہ تیرے سبز باغ ۔ محمد احمدؔ

    غزل عادتاً دیکھو تو دیکھو ہر سویرے سبز باغ بقعہء اُمید میں ڈالیں نہ ڈیرے سبز باغ اے مرے ہمدم اُلجھتا کیوں ہے تو مجھ سے بھلا مختلف ہیں بس ذرا سے تیرے میرے سبز باغ ہاتھ نیچے کرفسوں گر، مت ہمیں پاگل بنا ہم نے پہلے دیکھ رکھے ہیں یہ تیرے سبز باغ میں بھی ہوں محوِ تغافل، تو بھی ہے غفلت گزیں میرے...
  20. محمداحمد

    ہم یوں تمہارے پاؤں پہ اے جانِ جاں گرے ۔۔۔قیس فریدی

    غزل ہم یوں تمہارے پاؤں پہ اے جانِ جاں گرے جیسے کسی غریب کا خستہ مکاں گرے مانا کہ اے ہوا تُو نہیں گن سکی مگر دیکھا تو ہوگا پات کہاں سے کہاں گرے پہلے ہی زخم زخم ہے دھرتی کا انگ انگ پھر کیا ضرور ہے کہ یہاں آسماں گرے یُوں صحنِ تیرگی میں پڑی چاند کی کرن جیسے خموش جھیل میں سنگِ گراں گرے ہم قیسؔ ،...
Top