1. اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں فراخدلانہ تعاون پر احباب کا بے حد شکریہ نیز ہدف کی تکمیل پر مبارکباد۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    $500.00
    اعلان ختم کریں

جمال احسانی غزل ۔ وہ ہاتھ ہی تھا اور، وہ پتھر ہی اور تھا ۔ جمال احسانی

محمداحمد نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 29, 2012

  1. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    21,770
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    غزل
    وہ ہاتھ ہی تھا اور، وہ پتھر ہی اور تھا
    دیکھا پلک جھپک کے تو منظر ہی اور تھا
    تیرے بغیر جس میں گزاری تھی ساری عمر
    تجھ سے جب آئے مل کے تو وہ گھر ہی اور تھا
    سُنتا وہ کیا کہ خوف بظاہر تھا بے سبب
    کہتا میں اُس سے کیا کہ مجھے ڈر کچھ اور تھا
    جاتی کہاں پہ بچ کے ہوائے چراغ گیر
    مجھ جیسا ایک میرے برابر ہی اور تھا
    کیا ہوتے ہم کلام بھلا ساحل و چراغ
    وہ شب ہی اور تھی، وہ سمندر ہی اور تھا
    جمالؔ احسانی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. سفیر آفریدی

    سفیر آفریدی محفلین

    مراسلے:
    403
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    بهلا ساحل و چراغ
     

اس صفحے کی تشہیر