نتائج تلاش

  1. کاشفی

    جہاں میں وہ ازل کے حُسن کا آئینہ دار آیا - ذیشان حیدر جوادی کلیم

    نعت مصطفی ﷺ (علامہ السید ذیشان حیدر جوادی کلیم الہ آبادی ) جہاں میں وہ ازل کے حُسن کا آئینہ دار آیا کہ جس کو دیکھ کر خود خالق اکبر کو پیار آیا حسیں ایسا کہ اُس کے حُسن پر یوسف بھی ہو قرباں اُسی کے عکس رُخ سے حُسن یوسف پر نکھار آیا وہ جس کی زندگی تھی اک نمونہ حُسنِ سیرت کا وہ جس...
  2. کاشفی

    مذہبِ انسانیت سب سے مقدم ہے - حسن اللہ ہما

    مذہبِ انسانیت سب سے مقدم ہے (حسن اللہ ہما) جونہی گونجی صدا مینار سے اللہ اکبر کی درِ مندر کھُلا اور رام جپ کر سنکھ پنڈت نے بجایا ہے کسی نے گوردوارے میں‌ گرو کہتے ہوئے سر کو عقیدت جھکایا گرنتھ کو آنکھوں سے چوما ہے کلیسا میں‌خداوندِیسوع کہہ کر صلیبِء شق پر راہب نے لب رکھے کہیں...
  3. کاشفی

    روز دیکھا ہے شفق سے وہ پگھلتا سونا - فرزانہ خان نیناں

    غزل (فرزانہ خان نیناں) روز دیکھا ہے شفق سے وہ پگھلتا سونا روز سوچا ہے کہ تم میرے ہو میرے ہونا میں تو اک کانچ کے دریا میں‌بہی جاتی ہوں گنگناتے ہوئے ہمراز مجھے سُن لو نا میں نے کانوں میں پہن لی ہے تمہاری آواز اب مرے واسطے بیکار ہیں‌چاندی سونا میری خاموشی کو چپکے سے سجا دو آکر...
  4. کاشفی

    دل سے مت روٹھ مرے دیکھ منالے اُس کو - فرزانہ خان نیناں

    غزل (فرزانہ خان نیناں) دل سے مت روٹھ مرے دیکھ منالے اُس کو کھو نہ جائے کہیں‌سینے سے لگا لے اُس کو وہ مسافر اُسے منزل کی طرف جانا ہے اِس لئے کر دیا رستے کے حوالے اس کو مدتوں وجد میں رہتے ہوئے دیوانے کو ہوش آیا ہے تو ہر بات سنالے اس کو کس لئے اَب شبِ تاریک سے گبھراتی ہوں خود ہی...
  5. کاشفی

    بسی ہے یاد کوئی آکے میرے کاجل میں - فرزانہ خان نیناں

    غزل (فرزانہ خان نیناں) بسی ہے یاد کوئی آکے میرے کاجل میں لپٹ گیا ہے اَدھورا خیال آنچل میں میں ایک سیپ ابھی مجھ کو تہہ میں رہنے دو گہر بنا نہیں‌کرتے ہیں ایک دو پَل میں خزاں کا دور ہے لیکن کسی کی چاہت سے دھڑک رہی ہے بہار ایک ایک کونپل میں میں زندگی کے لیئے پھول چننا چاہتی ہوں...
  6. کاشفی

    جب بھی چپکے سے نکلنے کا ارادہ باندھا - شہزاد نیر

    غزل (شہزاد نیر) جب بھی چپکے سے نکلنے کا ارادہ باندھا مجھ کو حالات نے پہلے سے زیادہ باندھا چلتے پھرتے اسے بندش کا گماں تک نہ رہے اس نے انسان کو اس درجہ کشادہ باندھا کتنی بھی تیز ہوئی حرص وہوس کی بارش ہم نے اک تارِ توکل سے لبادہ باندھا یک بیک جلوہء تازہ نے قدم روک لئے میں نے...
  7. کاشفی

    زندگی کے ہجر میں - ثروت زہرا

    زندگی کے ہجر میں ہماری کلاسیکی شاعری میں جذبوں اور کیفیتوں کو بیان کرنے کی جو طاقت ہے وہ ہر زمانے اور ہر فرد کے لئے ہمیشہ تخلیقی تحریک کا ذریعہ ہوتی ہے۔ یہی میرے ساتھ بھی ہوا۔ شاہ عبدالطیف بھٹائی نے سُر۔سامونڈی میں دورسمندر پار جانے والے تاجروں کی برہن بیوی کی واردات اور کیفیت کچھ اس طرح...
  8. کاشفی

    ربابِ زیست - پروین شاکر : تحریرنصرت زہرہ

    ربابِ زیست (تحریرنصرت زہرہ) شاہ جہاں بادشاہ کے دربار میں ایک شاعرِ بے بدل بادشاہ کو رموزِ شاعری کی تعلیم دیا کرتا تھا۔مگر کون جانتا تھا کہ اس کی نسلوں میں ایک ایسی کلی جنم لے گی ادب جس پر نازاں ہوگا،اب وقت ایک دربار ہے اور مسلسل ایک اٹھ جانے والی ہستی سے فیض پارہا ہے اب بھی وادیء مہران کے...
  9. کاشفی

    طریق ِ فکر وعمل مستقل خلاف ملا - خیال امروہوی

    غزل (خیال امروہوی) طریق ِ فکر وعمل مستقل خلاف ملا غلیظ جسم پہ کمخواب کا لباس ملا مخالفوں کے وطیرے تو مختلف تھے مگر جو ہم خیال تھا وہ بھی مرے خلاف ملا گماں یہی تھا کہ ہوگا خفیف سارخنہ کیا جو غور تو ہر قلب میں شگاف ملا بشر بہ فیض ِ خرد مشتری پہ جا پہنچا مگر خطیبِ حرم محو ِ اعتکاف...
  10. کاشفی

    تو نے سوچا ہی نہیں کچھ بھی ہٹا کر اس سے - رخشندہ نوید

    غزل (رخشندہ نوید) تو نے سوچا ہی نہیں کچھ بھی ہٹا کر اس سے اب بچھڑنا ہے تو پھر خود کو جدا کر اس سے وہ بگڑتا ہے تو دنیا ہی بگڑ جاتی ہے اس لئے رکھنی پڑی مجھ کو بنا کر اس سے ایک جگنو تھا مگر اسِ سے جلے کتنے چراغ رابطے بڑھتے گئے ربط بڑھا کر اِس سے بات کیا ہے کہ اٹھائی ہی نہ...
  11. کاشفی

    بچھڑتے وقت بھی رویا نہیں ہے - حمیرا راحت

    غزل (حمیرا راحت) بچھڑتے وقت بھی رویا نہیں ہے یہ دل اب ناسمجھ بچہ نہیں ہے میں ایسے راستے پہ چل رہی ہوں جو منزل کی طرف جاتا نہیں ہے محبت کی عدیم الفرصتی میں اسے چاہا مگر سوچا نہیں‌ہے لبوں پر مسکراہٹ بن کے چمکا جو آنسو آنکھ سے ٹپکا نہیں ہے جب آئینہ تھا تب چہرہ نہیں تھا ہے اب...
  12. کاشفی

    نظم: انتظار - سرور عالم راز سرور

    انتظار (سرور عالم راز سرور) ترے خیال کی سوگند، آرزو کی قسم دریدہ دامن دل، چشم بے بسی پرنم وہی جہان تمنا تھا اور وہی تھے ہم دل و دماغ پہ تھا اضطراب کا عالم شب امید ستاروں کے ساتھ جاگے ہم رباب قلب تھا یوں آشنائے زیر وبم کہ گھل کے رہ گئی کانوں میں کرب کی سر گم ادھر تھے پائے جنوں اور...
  13. کاشفی

    یہ عاصی کس طرح بھیجے کوئی ان کو پیام اپنا - سلمان غازی

    نعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (سلمان غازی) یہ عاصی کس طرح بھیجے کوئی ان کو پیام اپنا مدینے کے مسافر عرض کرنا بس سلام اپنا نہیں‌موقوف اُن صلی اللہ علیہ وسلم شان اس عاصی کی مدحت پر مشرف ذکرِ عالی سے کیا ہے بس کلام اپنا بھلا تصدیقِ اُمت کی کہیں ان کو ضرورت تھی خوشا کہ خیر...
  14. کاشفی

    حضور صل علٰی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر صلواۃ و سلام - حسن فرخ

    نعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (حسن فرخ) حضور صل علٰی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر صلواۃ و سلام یہ ہر نفس نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر صلواۃ و سلام سلام آپ پہ یا سیدِ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مرے حبیب خدا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر صلواۃ و سلام پہنچ کے آپ کے دربار میں‌خدا...
  15. کاشفی

    کیا قیامت تھی کیا قیامت تھی - سرور عالم راز سرور

    غزل (سرور عالم راز سرور) کیا قیامت تھی کیا قیامت تھی صاحبو! ہم کو جب محبت تھی سرزش کے لیئے ہی آجاتے آپ کو اس میں‌کیا قباحت تھی؟ ہوش آیا تو یہ ہوا معلوم بے خودی کس قدر غنیمت تھی غم نے مجبور کر دیا ورنہ بات سننے کی کس کو فرصت تھی؟ وقت آخر جو آپ آئے ہیں آخر اس کی بھی کیا ضرورت...
  16. کاشفی

    سنا ہے اربابِِ عقل و دانش ہمیں یوں دادِ کمال دیں‌گے - سرور عالم راز سرور

    غزل (سرور عالم راز سرور) سنا ہے اربابِِ عقل و دانش ہمیں یوں دادِ کمال دیں‌گے "جنوں کے دامن سے پھول چن کر خرد کے دامن میں ڈال دیں‌گے!" ذرا بتائیں کہ آپ کب تک فریبِ حسن و جمال دیں گے؟ سکوں کےبدلہ میں تحفہء‌غم ، قرار لے کے ملال دیں‌گے! ہم اپنے دل سے خیالِ دیر و حرم کو ایسے نکلال دیں گے...
  17. کاشفی

    دل کو یوں بہلا رکھا ہے - سرور عالم راز سرور

    غزل (سرور عالم راز سرور) دل کو یوں بہلا رکھا ہے درد کا نام دَوا رکھا ہے آؤ پیار کی باتیں کرلیں اِن باتوں میں‌کیا رکھا ہے اور بھی ہے کچھ باقی پیارے؟ کون سا ظلم اُٹھا رکھا ہے؟ جھلمل جھلمل کرتی آنکھیں جیسے ایک دیا رکھا ہے عقل نے اپنی مجبوری کا تھک کر نام خدا رکھا ہے راہِ...
  18. کاشفی

    مرزا اسد اللہ خاں‌ غالب اور متین امروہوی - 3

    غزل (مرزا اسد اللہ خاں‌ غالب رحمتہ اللہ علیہ) شوق ہر رنگ رقیب سر و ساماں نکلا قیس تصویر کے پردے میں‌بھی عریاں نکلا زخم نے داد نہ دی تنگئی دل کی یارب تیر بھی سینہء‌بسمل سے پر افشاں نکلا بوئے گل، نالہء دل، بوئے چراغ محفل جو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا دل حسرت زدہ تھا مائدہء لذت...
  19. کاشفی

    تم یاد ہو تو نقش ہو میرے حواس پر - سہیل اسلام

    صرف تمہارے لیئے سچ میں۔۔۔ تم یاد ہو تو نقش ہو میرے حواس پر تم اشک ہو تو میرے دکھوں کا علاج ہو تم خواب ہو تو میری ان آنکھوں میں ہو کہیں تم وہم ہو تو مجھ کو حقیقت سے کیا غرض تم باعث سفر ہو ہنر کی اُڑان ہو تم نیند ہو تو سو کے گزاریں گے یہ حیات تم حسن ہو تو میرے تخیل کی جان ہو تم رات...
  20. کاشفی

    دل نے کسی کی ایک نہ مانی - سرور عالم راز سرور

    غزل (سرور عالم راز سرور) دل نے کسی کی ایک نہ مانی اف ری محبت ، ہائے جوانی! خود ہی کرنا خود ہی بھرنا عشق میں‌ہے کتنی آسانی کھول نہ دے یہ راز تمہارے آئینہ کی یہ حیرانی آج چلی پھر کیا پروائی دل میں ہوک اٹھی انجانی ان کے بدلے بدلے تیور ڈھنگ نئے ہیں‌ریت پرانی کون کسی کا غم...
Top