نتائج تلاش

  1. کاشفی

    رنگ و خوشبو، شباب و رعنائی - سرور عالم راز سرور

    غزل (سرور عالم راز سرور) رنگ و خوشبو، شباب و رعنائی ہوگئی آپ سے شناسائی ہو تو کس کس کی ہو پذیرائی ناز، انداز، حسن ، زیبائی! لوگ جس کو بہار کہتے ہیں وہ کسی شوخ کی ہے انگڑائی ہم بھی مجبور، آپ بھی مجبور آہ دنیا کی کارفرمائی خستگانِ قفس کو کیا مطلب کب گئی اور کب بہار آئی...
  2. کاشفی

    ناظم اعلٰی کراچی پا کستان کا دورہء عظیم ریاست ہائے متحدہ امریکہ

    ناظم اعلٰی کراچی پا کستان کا دورہء عظیم ریاست ہائے متحدہ امریکہ CITY NAZIM KARACHI S. MUSTAFA KAMAL VISITS USA. 14Nov 2009 City Nazim Karachi Syed Mustafa Kamal giving lecture to the student of Columbia University of USA. While Dean of International affairs department of...
  3. کاشفی

    جس قدر شکوے تھے، سب حرفِ دُعا ہونے لگے - سرور عالم راز سرور

    غزل (سرور عالم راز سرور ) جس قدر شکوے تھے، سب حرفِ دُعا ہونے لگے ہم کسی کی آرزو میں‌کیا سے کیا ہونے لگے! بیکسی نے بے زبانی کو زباں کیا بخش دی جو نہ کہہ سکتے تھے، اشکوں سے ادا ہونے لگے! ہم زمانہ کی سخن فہمی کا شکوہ کیا کریں؟ جب ذرا سی بات پر تم بھی خفا ہونے لگے! رنگِ محفل دیکھ کر...
  4. کاشفی

    حسن جب بے نقاب ہوتا ہے - سرور عالم راز سرور

    غزل ( سرور عالم راز سرور) حسن جب بے نقاب ہوتا ہے آپ اپنا جواب ہوتا ہے عشق پر جب شباب ہوتا ہے آدمی پھر خراب ہوتا ہے جب بھی ہم سے خطاب ہوتا ہے بس وہی اک جواب ہوتا ہے جس کو دنیا عتاب کہتی ہے کرمِ بے حساب ہوتا ہے رنگ لائے لہو غریبوں کا یوں بھی عالی جناب ہوتا ہے یہ لگی دل کی،...
  5. کاشفی

    میرا جانا نہ ہوا، آپ کا آنا نہ ہوا - سرور عالم راز سرور

    غزل ( سرور عالم راز سرور) میرا جانا نہ ہوا، آپ کا آنا نہ ہوا بات اتنی تھی مگر اس پہ یہ افسانہ ہوا جان دینے میں مجھے عذر نہیں ہے لیکن ہاں! اگر پھر بھی مرے غم کا مداوا نہ ہوا؟ گر گیا ہو گا لہو آنکھ سے انجانے میں ورنہ کب ہم کو ترا درد گوارا نہ ہوا زخم دل، زخم جگر، زخم الم، خون امید...
  6. کاشفی

    صبحِ ظہور کیا ہے؟ تڑکا ہے، مصطفی کا - اختر علی خان اختر چھتاروی

    نعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (اختر علی خان اختر چھتاروی) صبحِ ظہور کیا ہے؟ تڑکا ہے، مصطفی کا اِفشائے کنزِ مخفی، اِفشا ہے مصطفی کا امروز، مصطفی کا، فردا ہے، مصطفی کا کہتے ہیں وقت جس کو، عرصہ ہے مصطفی کا جو ہو چکا جہاں میں، ہونا ہے، ہورہا ہے فیضانِ مصطفی ہے، منشا ہے مصطفی کا...
  7. کاشفی

    اخلاص - سلیم غوری

    اخلاص (سلیم غوری) تجھ کو ڈھونڈا ہے مسیحاؤں‌میں مسجدوں میں بھی، کلیساؤں میں دشمنوں، دوستوں، انجانوں میں اور محبوب کی اداؤں میں نہ تیرے فیصلے کی شدت میں نہ ہی اپنی کہی سزاؤں میں نہ ہی دنیا کی بھیڑ میں‌پایا نہ ہی اطراف کی خلاؤں میں عقل و دانش کی درسگاہوں میں نہ ہی جذبات کی...
  8. کاشفی

    تمہیں دیکھ کر مسکرانے لگا - اسماعیل اعجاز (خیال)

    غزل اسماعیل اعجاز (خیال) - کراچی پاکستان تمہیں دیکھ کر مسکرانے لگا تمہیں دیکھ کر گنگنانے لگا تمہارے لبوں کی میں‌پیاری ہنسی خود اپنے لبوں پر سجانے لگا یہ دنیا مجھے پیاری لگنے لگی میں پل پل میں‌جیون بتانے لگا میری آرزو تم میری جستجو میں تم کو تمہی سے چرانے لگا اچانک تمہیں یہ...
  9. کاشفی

    یہ ہر وقت آندھی کا ڈر کس لیئے ہو - عائشہ انمول

    غزل (عائشہ انمول ) یہ ہر وقت آندھی کا ڈر کس لیئے ہو مری زیست لرزاں شجر کس لیئے ہو کوئی تہمتیں آپ پر بھی لگائے ہر الزام میرے ہی سر کس لیئے ہو ہر اک ظلم ہنس کر کہاں تک سہیں ہم ہر اک بات پر درگزر کس لیئے ہو کوئی بات میری نہیں مانتے تم ہو ضدی مگر اس قدر کس لیئے ہو؟ مری شاعری...
  10. کاشفی

    اس شہر میں بھی کوئی سہارا نہیں رہا - شیخ اعجاز

    غزل (شیخ اعجاز - فلوریڈا، امریکہ) اس شہر میں بھی کوئی سہارا نہیں رہا اب کوچ کے سوا کوئی چارا نہیں رہا تونے بھی آج توڑ دیا دل کا آئینہ اب تو بھی غیر کا ہے، ہمارا نہیں رہا ایسے ہر اک رقیب سے ملنا پڑا مجھے اک پل بھی ملنا جس سے گوارا نہیں رہا اس پیار میں دکھوں سے ہوا ہوں میں مالا...
  11. کاشفی

    فیض کس حرف پہ تونے گوشہء لب اے جان جہاں غماز کیا - فیض احمد فیض

    غزل (فیض احمد فیض) کس حرف پہ تونے گوشہء لب اے جان جہاں غماز کیا اعلانِ جنوں دل والوں نے اب کے بہ ہزار انداز کیا سو پیکاں تھے پیوست گلو، جب چھیڑی ہم نے رقص آغاز سو تیر ترازو تھے دل میں جب ہم نے رقص آغاز کیا بے حرص و ہوا، بے خوف و خطر، اس ہاتھ پہ سر، اُس کف پہ جگر یوں کوئے صنم میں...
  12. کاشفی

    نہ شیشے کا گھر ہے، نہ پتھر کا ڈر ہے - صدف مرزا

    غزل (صدف مرزا - کوپن ہیگن، ڈنمارک ) نہ شیشے کا گھر ہے، نہ پتھر کا ڈر ہے یہ دل تو کھنڈر ہے، اسے کیا خطر ہے نہ دل میں شرر ہے، نہ ہی چشم تر ہے الہٰی دعا میری کیوں‌ بے اثر ہے؟ نہ کاٹے سے کٹتی ہے یہ راہ الفت یہ کیسی ڈگر ہے، یہ کیسا سفر ہے؟ مرا داغِ دل ہے، مری چشمِ نم ہے یہ رشکِ...
  13. کاشفی

    علی سردار جعفری اقبال خدا کے حضور میں - علی سردار جعفری

    اقبال خدا کے حضور میں (علی سردار جعفری) "اے انفس و آفاق میں‌پیدا ترے آیات حق یہ ہے کہ ہے زندہ و پائندہ تری ذات" برپا ہے ترے نام پہ دنیا میں‌قیامت ژولیدہ ہیں ارباب بصیرت کے خیالات ہے دھرم سیاست کے مداری کا تماشا مذہب کو بنا رکھا ہے یاروں نے خرافات سینوں میں نہیں اسم محمدصلی اللہ...
  14. کاشفی

    بہاروں کو خزاں ہونے میں کتنی دیر لگتی ہے - طاہرہ صفی

    غزل ( طاہرہ صفی) بہاروں کو خزاں ہونے میں کتنی دیر لگتی ہے یقیں کو بھی گماں ہونے میں کتنی دیر لگتی ہے اگر اس کی عنایت ہو، جو ہو اس کا کرم شامل تو ذرے کو جہاں ہونے میں‌کتنی دیر لگتی ہے ہوائیں رُخ بدل لیں تو بچیں گے آشیانے بھی کہ منظر کو دھواں ہونے میں کتنی دیر لگتی ہے جہاں نیت بدل...
  15. کاشفی

    دل جلے جب بھی کہیں جاں سے گزر جائیں گے - قمر الزماں قمر

    غزل ( قمر الزماں قمر) دل جلے جب بھی کہیں جاں سے گزر جائیں گے دور تک درد کے انگارے بکھر جائیں گے تشنہ ہونٹوں کے لئے خون سے تر جائیں گے اس طرح عرش پہ یہ خاک بسر جائیں گے چاندنی دھوپ کی گرمی سے پگھل جائے گی رات کے خواب سحر ہوتے بکھر جائیں گے رشتہء جاں کو نہیں جنجر قاتل کی طلب چاہنے...
  16. کاشفی

    عظیم قائد عظیم لیڈر - پرویز مشرف سید

  17. کاشفی

    حوصلہ دل کا نکل جانے دے - کنور اخلاق محمد خاں‌ شہریار

    غزل (کنور اخلاق محمد خاں‌ شہریار - علیگڑھ، ہندوستان) حوصلہ دل کا نکل جانے دے مجھ کو جلنے دے، پگھل جانے دے آنچ پھولوں پہ نہ آنے دے مگر خس و خاشاک کو جل جانے دے مدتوں بعد صبا آئی ہے موسم دل کو بدل جانے دے چھا رہی ہیں جو مری آنکھوں پر ان گھٹاؤں کو مچل جانے دے تذکرہ اُس کا ابھی...
  18. کاشفی

    مرزا اسد اللہ خاں‌ غالب اور متین امروہوی - 2

    غزل (مرزا اسد اللہ خاں‌ غالب رحمتہ اللہ علیہ) دہر میں نقش وفا وجہِ تسلی نہ ہوا ہے یہ وہ لفظ کہ شرمندہء معنی نہ ہوا سبزہء خط سے ترا کاکل سرکش نہ دبا یہ زمرد بھی حریف دم افعی نہ ہوا میں نے چاہا تھا کہ اندوہ وفا سے چھوٹوں وہ ستم گر مرے مرنے پہ بھی راضی نہ ہوا دل گزرگاہ خیال مے و...
  19. کاشفی

    غالب کبھی نیکی بھی اُس کے جی میں گر آجائے ہے مُجھ سے - غالب

    غزل (غالب رحمتہ اللہ علیہ) کبھی نیکی بھی اُس کے جی میں گر آجائے ہے مُجھ سے جفائیں کر کے اپنی یاد شرما جائے ہے مُجھ سے خُدایا جذبہء‌دل کی مگر تاثیر اُلٹی ہے کہ جتنا کھینچتا ہوں اور کھنچتا جائے ہے مُجھ سے وہ بَد خُو اور میری داستانِ عشق طولانی عبارت مختصر، قاصد بھی گھبرا جائے ہے...
  20. کاشفی

    جاوید اختر دل میں‌مہک رہے ہیں‌ کسی آرزو کے پھول - جاوید اختر

    غزل (جاوید اختر) دل میں‌مہک رہے ہیں‌ کسی آرزو کے پھول پلکوں میں کھلنے والے ہیں شاید لہو‌ کے پھول اب تک ہے کوئی بات مجھے یاد حرف حرف اب تک میں چن رہا ہوں کسی گفتگو کے پھول کلیاں چٹک رہی تھیں کہ آواز تھی کوئی اب تک سماعتوں میں اِک خوش گلو کے پھول مرے لہو کا رنگ ہے ہر نوکِ خار پر...
Top