نتائج تلاش

  1. کاشفی

    کر کے وعدہ وہ کسی وقت مُکر جائے گا - ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی

    غزل (ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی - ہندوستان) کر کے وعدہ وہ کسی وقت مُکر جائے گا رنگ اپنا وہ دکھائے گا جدھر جائے گا جارہا ہے وہ اگر روٹھ کے جانے دو اُسے وہ یہیں لوٹ کے آئے گا کدھر جائے گا وہ مرے درپئے آزار ہے لیکن پھر بھی اس کا الزام کسی اور کے سر جائے گا وہ ہے سرشار ابھی بادہء نخوت...
  2. کاشفی

    عذاب آئے کچھ ایسے کہ ہم بکھر سے گئے - اقبال طالب

    غزل (اقبال طالب - سعودی عرب) عذاب آئے کچھ ایسے کہ ہم بکھر سے گئے وہی اداس دروبام ہم جدھر سے گئے نشاطِ محفلِ یاراں میں اس قدر الجھے فرازِ علم و ہنر اپنی رہگزر سے گئے خدا کو بھول گئے مشرکوں کی صحبت میں نتیجہ دیکھا دعاؤں کے بھی ثمر سے گئے بچھڑ کے اپنے مدارس سے درس گاہوں سے جمود...
  3. کاشفی

    غمِ دوراں کی کسی رات سے کب گزرا ہے - سہیل ثاقب

    غزل (سہیل ثاقب) غمِ دوراں کی کسی رات سے کب گزرا ہے یہ جنوں کرب کے لمحات سے کب گزرا ہے تُو بھی میری ہی طرح خود سے گریزاں ہوتا تُو مری جاں مرے خدشات سے کب گزرا ہے شاعری، نغمہ گری، عشقِ بتاں، حسنِ خیال دل مرا ایسے کمالات سے کب گزرا ہے ہر گھڑی خوف لگا رہتا ہے کھو جانے کا تُو ابھی...
  4. کاشفی

    کلامِ جوشش - شیخ محمد روشن عظیم آبادی

    کلامِ جوشش (شیخ محمد روشن عظیم آبادی) تعارفِ شاعر جوشش تخلص، شیخ محمد روشن نام، وطن ان کا عظیم آباد ہے، خوش لیاقتی ان کی جو کچھ کہئے اُس سے زیادہ ہے۔ طبیعت ان کی نظمِ ریختہ میں نہایت رسا ہے، اور معنی بیگانہ سے بہ شدت آشنا ہے۔ چاشنی درد کی کلام سے ان کے ظاہر، اور علم عروض سے یہ بخوبی...
  5. کاشفی

    کلامِ تاباں - میر عبدالحئ شاہ جہاں آبادی

    کلامِ تاباں (میر عبدالحئ شاہ جہاں آبادی) تعارفِ شاعر: تاباں تخلص، میر عبدالحئ نام، شاہ جہاں آبادی۔ نہایت عزیز خوبصورت اور صاحبِ جمال تھا، ایسا کہ دلی سے شہر میں بے مثال تھا۔ ہندو مسلمان ہر گلی کوچہ میں لیک نگاہ پر اس کی لاکھ جان سے دین و دل نذر کرتے تھے، اور پرے کے پرے عاشقانِ جانباز کے...
  6. کاشفی

    میر مہدی مجروح ایذا ہی درد ہجر سے پائی تمام رات - میرمہدی مجروح دہلوی صاحب

    غزل (جناب میر مہدی صاحب مجروح دہلوی مرحوم رحمتہ اللہ علیہ) شاگرد رشید (حضرت نجم الدولہ دبیرالملک اسد اللہ خاں غالب رحمتہ اللہ علیہ) ایذا ہی درد ہجر سے پائی تمام رات کل ایک لمحہ ہم نے نہ پائی تمام رات بیدار ایک میں ہی فراق صنم میں ہوں سوتی ہے ورنہ ساری خدائی تمام رات اپنی شب وصال...
  7. کاشفی

    نظم: سرِشام - مہتاب قدر

    سرِ شام از: مہتاب قدر میں سرِ شام آئینہ بن کر اپنے دن کا حساب کرتا ہوں کبھی ہوتا ہوں مطمئن خود سے کبھی خود پر عتاب کرتا ہوں لمحہ لمحہ نچوڑ‌ کر اپنا میں سبق اکتساب کرتا ہوں سخت لمحوں کو طاقِ نسیاں میں میں سجا کر گلاب کرتا ہوں تیرہ و تار شب کے دامن میں فکر کو ماہتاب کرتا ہوں...
  8. کاشفی

    نظم : جئے ہند - چلو پیغام دیں اہلِ وطن کو - عادل رشید

    نظم جئے ہند (عادل رشید - ابو الفضل انکلیو - جامعہ نگر نئی دہلی، ہندوستان) چلو پیغام دیں اہلِ وطن کو کہ ہم شاداب رکھیں اِس چمن کو نہ ہم رسوا کریں گنگ و جمن کو کریں ماحول پیدا دوستی کا یہی مقصد بنا لیں زندگی کا قسم کھائیں چلو امن و اماں کی بڑھائیں آب و تاب اِس گلستاں کی ہمیں تقدیر...
  9. کاشفی

    جھرنوں کی بات کیجئے گاگر اُچھالئے - سید انجم کاظمی

    غزل (سید انجم کاظمی) جھرنوں کی بات کیجئے گاگر اُچھالئے رسموں کو توڑ تاڑ کے ساغر اُچھالئے الفت کے پھول توڑئیے در در اُچھالئے پیغام روشنی کا یہ گھر گھر اُچھالئے آنکھیں لگیں ہیں شہر کی کچھ معجزہ سا ہو حرفِ دعائے خاص کے گوہر اُچھالئے رائج ہیں شہرِ فن میں بلندی کے کچھ اُصول اک شے تو...
  10. کاشفی

    شریر بچے کا یہ مان اچھا لگتا ہے - سہیل ثاقب

    غزل (سہیل ثاقب) شریر بچے کا یہ مان اچھا لگتا ہے کہ چاند چھونے کا ارمان اچھا لگتا ہے خموش رہتا ہے سنتا ہے مسکراتا ہے وہ بکھرا بکھرا سا انسان اچھا لگتا ہے تمہارے جانے کا دُکھ تو ضرور ہے لیکن تمہارے آنے کا امکان اچھا لگتا ہے نظر جھکان جھجکنا سمٹنا شرمانا وہ پہلا پہلا سا رومان اچھا...
  11. کاشفی

    دشواریوں نے راہ کو آساں ‌بنا دیا - سید محمد حنیف اخگر

    غزل (سید محمد حنیف اخگر ملیح آبادی - ہندوستان و کراچی پاکستان ، امریکہ) دشواریوں نے راہ کو آساں ‌بنا دیا ہر مرحلے کو منزلِ جاناں بنا دیا کتنی تھی تابِ حسن کہ اُس کی نگاہ نے ہر آرزو کو شعلہ بداماں بنا دیا چارہ گروں کی شعبدہ بازی پہ دل نثار درماں کو درد، درد کو درماں بنا دیا محدودِ...
  12. کاشفی

    مصحفی کلامِ مصحفی - غلام ہمدانی مصحفی امروہوی

    کلامِ مصحفی (غلام ہمدانی مصحفی امروہوی) مصحفی تخلص، غلام ہمدانی نام، ساکن امروہے کا ۔ اپنی قوم کا اشراف ہے، سچ تو یہ ہے کہ گفتگو اس کی بہت صاف صاف ہے۔ بندش نظم میں اس کے ایک صفائی اور شیرینی ہے، اور معنی بندش میں اس کے بلندی اور رنگینی۔ ایک مدت شاہ عالم بادشاہ غازی کے عہد سلطنت میں مقیم شاہ...
  13. کاشفی

    کلامِ امین - خواجہ امین الدین عظیم آبادی

    کلامِ امین (خواجہ امین الدین عظیم آبادی) امین تخلص، خواجہ امین الدین نام، عظیم آبادی۔ عالم دوستی اور اتحاد میں باقرینہ ہیں۔ علی ابراہیم خاں مرحوم کے یار دیرینہ ہیں۔ شعر فہمی اور سخن رسی میں زمانے کے یادگار ہیں۔ مضمون تراشی اور ادا بندی میں نادرِ روزگار ہیں۔ ذہن کو ان کے بندش کی صفائی میں...
  14. کاشفی

    بہت ہیں روز ثواب و گناہ دیکھنے کو - من موہن تلخ

    غزل (من موہن تلخ - ہندوستان) بہت ہیں روز ثواب و گناہ دیکھنے کو کہ ہم ہیں زندگیء بے پناہ دیکھنے کو بنے گی اب نظر انکار سو رُکے ہیں سبھی خود اپنی آنکھ سے اپنی نگاہ دیکھنے کو جو بخش دے مجھے پاکیزگی ترستا ہوں وہ رنگِ جذبہ، وہ معصوم چاہ دیکھنے کو نہ سنگ راہ کہو دل کے اس دوراہے پر...
  15. کاشفی

    نعت مرسل اعظم صلی اللہ علیہ وسلم - از: کلیم الہ آبادی

    نعت مرسل اعظم صلی اللہ علیہ وسلم (کلیم الہ آبادی - علامہ السید ذیشان حیدر جوادی کلیم) کون جانے کس بلندی پر مرے سرکار صلی اللہ علیہ وسلم ہیں سب جہاں مجبور ہیں یہ احمد صلی اللہ علیہ وسلم مختار ہیں کہہ دو یہ اُن سے جو حق کے طالب دیدار ہیں حق سے ملنے کے مدینہ ہی میں کچھ آثار ہیں آسماں...
  16. کاشفی

    مری گردن پہ گرتے ہیں تو خنجر ٹوٹ جاتے ہیں - کرامت علی کرامت

    غزل (کرامت علی کرامت - اڑیسہ، ہندوستان) مری گردن پہ گرتے ہیں تو خنجر ٹوٹ جاتے ہیں جو دشمن مجھ سے ٹکراتے ہیں اکثر ٹوٹ جاتے ہیں کبھی ساحل سے ٹکرا کر مری کشتی بکھرتی ہے کبھی کشتی سے ٹکرا کر سمندر ٹوٹ جاتے ہیں اک ایسا دور بھی آتا ہے کوشش کے علاقے میں عمل بیکار ہوتا ہے، مقدر ٹوٹ جاتے ہیں...
  17. کاشفی

    ٹوٹ گئے اشکوں کے موتی اب یہ دامن خالی ہے - نسیم مخموری

    غزل (نسیم مخموری) ٹوٹ گئے اشکوں کے موتی اب یہ دامن خالی ہے کھو گئیں قدریں انسانوں کی اور پیراہن خالی ہے ہاتھ میں کوئی ہاتھ نہیں ہے، راہ میں کوئی ساتھ نہیں تنہائی کی برکھا برسی، وصل کا آنگن خالی ہے کس موسم کی بات کروں میں، کس رُت کو شاداب کہوں؟ ہر موسم کا وعدہ جھوٹا، شام سہاگن خالی...
  18. کاشفی

    دل ہی دل میں ڈرتا ہوں کچھ تجھے نہ ہوجائے - سرور عالم راز سرور

    غزل (سرور عالم راز سرور) دل ہی دل میں ڈرتا ہوں کچھ تجھے نہ ہوجائے ورنہ راہِ اُلفت میں جائے جان تو جائے میری کم نصیبی کا حال پوچھتے کیا ہو جیسے اپنے ہی گھر میں راہ کوئی کھو جائے گر تمہیں تکلف ہے میرے پاس آنے میں خواب میں چلے آؤ، یوں ہی بات ہو جائے جھوٹ مسکرائیں کیا، آؤ مل کے ہم...
  19. کاشفی

    محسن نقوی حضرت امام حسن علیہ السلام - از: محسن نقوی شہید

    حضرت امام حسن علیہ السلام (محسن نقوی شہید) چمکتا ہے کہاں افلاک پر مہرِ مبیں ایسا کہاں ہوگا ولایت کی انگوٹھی میں‌ نگیں ایسا خدا محفوظ رکھے چشمِ بَد سے حسن حیدر علیہ السلام کو بڑی مشکل سے پایا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جانشیں ایسا رئیسِ امامت لوحِ جہاں پہ فکر کی معراجِ فن کا نام...
  20. کاشفی

    بات ایسی ہوئی ہے کیا صاحب؟ - سرور عالم راز سرور

    غزل (سرور عالم راز سرور) بات ایسی ہوئی ہے کیا صاحب؟ ہو گئے آپ کیوں خفا صاحب؟ کچھ تو کہئے کہاں کی یہ آخر لگ گئی آپ کو ہوا صاحب؟ خامشی اور ایسی خاموشی! کب محبت میں‌ ہے روا صاحب؟ ہائے یہ کیسی بے نیازی ہے؟ رنگِ ہستی بکھر گیا صاحب! کیا کوئی مجھ سے بدگمانی ہے؟ توبہ توبہ، خدا خدا...
Top