میر مہدی مجروح ایذا ہی درد ہجر سے پائی تمام رات - میرمہدی مجروح دہلوی صاحب

کاشفی

محفلین
غزل
(جناب میر مہدی صاحب مجروح دہلوی مرحوم رحمتہ اللہ علیہ)
شاگرد رشید
(حضرت نجم الدولہ دبیرالملک اسد اللہ خاں غالب رحمتہ اللہ علیہ)


ایذا ہی درد ہجر سے پائی تمام رات
کل ایک لمحہ ہم نے نہ پائی تمام رات

بیدار ایک میں ہی فراق صنم میں ہوں
سوتی ہے ورنہ ساری خدائی تمام رات

اپنی شب وصال تھی یا جنگ غیر تھا
تھی ہر سخن پہ اُن سے لڑائی تمام رات

بارے اس اضطراب کا کچھ تو اثر ہوا
گھر میں اُنہیں بھی نیند نہ آئی تمام رات

وہ اور اُن کے منہ کا دکھانا تو اک طرف
صورت نہ موت نے بھی دکھائی تمام رات

کیا ناز کی ہے واہ کہ گجروں کے بوجھ سے
دُکھتی رہی وہ نرم کلائی تمام رات

بننے سنورنے ہی میں اُنہیں صبح ہوگئی
فرصت نہ عرضِ شوق کی پائی تمام رات

اپنی نہ کوئی شب ہوئی آرام سے بسر
رہتا ہے فکر روز جدائی تمام رات

زخم دل و جگر میں‌ رہی ٹیس اس قدر

مجروح مجھ کو نیند نہ آئی تمام رات
 

فرخ منظور

لائبریرین
بننے سنورنے ہی میں اُنہیں صبح ہوگئی
فرصت نہ غرض شوق کی پائی تمام رات


شکریہ کاشفی صاحب اچھی غزل ہے۔ اس شعر کے دوسرے مصرع میں غرض نہیں عرض ہے یعنی عرضِ شوق۔ بہت سی جگہوں پر آپ نے اضافتیں بھی نہیں ڈالیں وہ بھی ڈال دیجیے گا۔ :)
 

فاتح

لائبریرین
ہم میر مہدی مجروح کو ان کے کلام کے حوالے سے تو نہیں لیکن غالب کے خطوط کے حوالے سے ضرور جانتے ہیں۔
خوبصورت انتخاب ہے۔ شریک محفل کرنے پر شکریہ
 
Top