پروین شاکر
چہرہ میرا تھا ، نگاہیں اُس کی
خامشی میں بھی وہ باتیں اُس کی
میرے چہرے پہ غزل لکھتی گئیں
شعر کہتی ہوئی آنکھیں اُس کی
شوخ لمحوں کا پتہ دینے لگیں
تیز ہوئی ہُوئی سانسیں اُس کی
ایسے موسم بھی گزارے ہم نے
صبحیں جب اپنی تھیں، شامیں اُس کی
دھیان میں اُس کے یہ عالم تھا کبھی
آنکھ...
غزل
(مہتاب قدر)
میری تعریف بھی جھوٹی ہی سہی لکّھو نا
"اک غزل تم بھی میرے نام کبھی لکّھو نا "
میکشی ایک بہانہ ہے فقط ملنے کا
شوقِ دیدار پس تشنہ لبی لکّھو نا
کھل کے لکّھو نا مری جورو جفا کے قصے
اور کبھی اپنی بھی آشفتہ سری لکّھو نا
اہل دنیا کی طرف دیکھ کے رکنا کیسا...
غزل
( ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی)
ہیں کسی کی یہ کرم فرمائیاں
بج رہی ہیں ذہن میں شہنائیاں
اس کا آنا ایک فال نیک ہے
زندگی میں ہیں مری رعنائیاں
مرتعش ہو جاتا ہے تار وجود
جس گھڑی لیتا ہے وہ انگڑائیاں
اس کی چشم نیلگوں ہے ایسی جھیل
جسکی لا محدود ہیں گہرائیاں
چاہتا ہے دل یہ اس...
غزل
(مرزا اسد اللہ خاں غالب رحمتہ اللہ علیہ)
دل مرا سوزِ نہاں سے بے محابا جل گیا
آتشِ خاموش کی مانند گویا جل گیا
دل میںذوقِ وصل و یاد یار تک باقی نہیں
آگ اس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا
میں عدم سے بھی پرے ہوں ورنہ غافل بارہا
میری آہِ آتشیں سے بالِ عنقا جل گیا
عرض کیجئے...
نعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
(سہیل احمد صدیقی)
مہ و نجوم سے بھی معتبر مدینہ ہے
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیسے کہوں، میرا گھر مدینہ ہے
نصیب ہو تو مروں جا کے میں بھی طیبہ میں
کہ مانتا ہوں شفاعت نگر مدینہ ہے
تجلیات کا صدقہ عطا ہو تو آقا
کہ جلوہ گاہ عتیق و عمر مدینہ ہے
حضور...
حمد باریء تعالٰی
(صبا اکبر آبادی)
پیش نگاہ خاص و عام، شام بھی تو، سحر بھی تو
جلوہ طراز اِدھر بھی تو ، روح نواز اُدھر بھی تو
ایک نگاہ میںجلال، ایک نگاہ میں جمال
منزل طور پر بھی تو، مسند عرش پر بھی تو
عجز و نیاز بندگی تیری نوازشوں سے ہے
حاکم ہر دعا بھی تو، بارگہ اثر بھی تو
پردہء...
نعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
(صبا اکبر آبادی)
موڑ لو دل کو مدینے کی طرف
اب چلو یارو مدینے کی طرف
شوق بے پایاں سے جو لرزاںہوں
لے چلو مجھ کو مدینے کی طرف
حج بیت اللہ سے فارغہوئے
آؤ اب دوڑو مدینے کی طرف
ہر طرف سے خود ہی دل پھر جائے گا
دیکھنا لوگو مدینے کی طرف
صدق دل...
غزل
( شفیق خلش)
کیوں روٹھ گئے ہو یہ بتا کیوں نہیں دیتے؟
اب مجھ کو محبت کی سزا کیوں نہیں دیتے؟
جس پھول سے گل رنگ ہوئی جاتی ہیں راہیں
وہ پھول مرے دل میںکھلا کیوں نہیں دیتے؟
اقرار محبت ہے اگر جرم تو جاناں
مجرم ہوں، محبت کی سزا کیوں نہیںدیتے؟
جس باغ میںپھولوں کا تصور بھی نہیںہے...
غزل
( طاہرہ صفی)
گزر گئی شب ہجراں اگر تو کیا ہوگا
جو کھل گیا یہ فریب نظر تو کیا ہوگا
درِقفس تو کھلا ہے مگر یہ ڈر ہے مجھے
بکھر گئے کہیںسب بال و پر تو کیا ہوگا
وہ قتل کرتا ہے اور یہ تو سوچتا ہی نہیں
نکل کے آگئے سب نوحہ گر تو کیا ہوگا
صنم تراشا ہے میں نے اندھیری آنکھوں سے
پلٹ کے...
غزل
(فیض احمد فیض)
یوں سجا چاند کہ جھلکا ترے انداز کا رنگ
یوں فضا مہکی کہ بدلا مرے ہمراز کا رنگ
سایہء چشم میںحیراں رُخِ روشن کا جمال
سُرخیء لب میںپریشاں تری آواز کا رنگ
بے پئے ہوں کہ اگر لطف کرو آخر شب
شیشہء مے میںڈھلے صبح کے آغاز کا رنگ
چنگ و نے رنگ پہ تھے اپنے لہو کے دم سے...
غزل
(شیخاعجاز، فلوریڈا - امریکہ)
جب تک ہے دل ، رہے گا حسینوں سے واسطہ
رہتا ہے ہر مکاں کا مکینوں سے واسطہ
آداب عشق سیکھنا لازم ہوا ہے اب
تاکہ رہے جنوںکے قرینوں سے واسطہ
ہم کو جہاںمیں پیار کی دولت نصیب ہے
رکھا ہوا ہے ہم نے خزینوںسے واسطہ
سجدے کا شوق در پہ تو لائے گا بار بار...
غزل
(جگر مراد آبادی)
تجھی سے ابتدا ہے، تو ہی اک دن انتہا ہوگا
صدائے ساز ہوگی اور نہ ساز بے صدا ہوگا
ہمیں معلوم ہے، ہم سے سنو محشر میںکیا ہوگا
سب اس کو دیکھتے ہوںگے، وہ ہم کو دیکھتا ہوگا
سرمحشر ہم ایسے عاصیوں کا اور کیا ہوگا
درِجنت نہ وا ہوگا، درِ رحمت تو وا ہوگا
جہنم ہو کہ...
غزل
(شکیل سروش)
میںجو ترے گھر اُس دن پہلی بار آیا تھا
لینا دینا کیا تھا، جیون ہار آیا تھا
بھول آیا تھا ہاتھ بھی تیرے دروازے پر
آنکھیں بھی تیرے چہرے پر وار آیا تھا
سانسیں کہاںبھول آیا تھا کچھ یاد نہیں
اتنا یاد ہے تجھ پر بے حد پیار آیا تھا
تم بھی اس دن کیا آئے تھے دروازے پر
ہوا...
اہل پاکستان کے نام ایک خوبصورت غزل۔۔۔۔۔
غزل
(شکیل سروش)
زمانے میںسروش اپنی یہی پہچان رکھیں گے
ہم امریکہ میںرہ کر دل کو پاکستان رکھیں گے
تجھے دل میںبٹھائیں گے، کبھی لکھیں گے آنکھوں پر
خیال یار تجھ کو اس طرح مہمان رکھیں گے
تری آنکھوں کو دے کر روشنی اپنی نگاہوں کی
ترے بلور...
غزل
(سرور عالم راز سرور)
نگاہ خود پہ جو ڈالی تو یہ ہُوا معلوم
نہ ابتدا کی خبر ہے، نہ انتہا معلوم!
سوائے اس کے نہیں کچھ بھی باخدا معلوم
ہمیں تو اپنا بھی یارو نہیں پتا معلوم!
مآل شکوہء غم، حاصلِ دُعا معلوم!
غریبِ شہرِ وفا کا علاج، لامعلوم!
خزاں گزیدہ بہاروں نے کیا کہا تجھ سے؟
مآلِ...
غزل
(علی مینائی)
یوں تو جو مل جائے، ہو جاتے ہیں اس منظر کے لوگ
آرزوئے عہد نو رکھتے ہیںدنیا بھر کے لوگ
کون دیوانہ ہے ٹکرائے جو سر دیوار سے
آئینے کے گھر ہیں اسی بستی میں اور پتھر کے لوگ
یہ بھی اک ترتیب سنگ و خشت و آہن ہی تو ہے
جانے کیوںگرویدہ ہو جاتے ہیں بام و در کے لوگ
ہاتھ میں...
غزل
(شوکت علی خاں فانی بدایونی)
یاں ہوش سے بیزار ہوا بھی نہیںجاتا
اُس بزم میںہُشیار ہوا بھی نہیںجاتا
کہتے ہو کہ ہم وعدہ پرسش نہیںکرتے
یہ سن کے تو بیمار ہوا بھی نہیںجاتا
دشواری، انکار سے طالب نہیںڈرتے
یوں سہل تو اقرار ہوا بھی نہیںجاتا
آتے ہیں عیادت کو تو کرتے ہیںنصیحت
احباب سے غم...
غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
یاں دل میں خیال اور ہے، واں مدنظر اور
ہے حال طبیعت کا اِدھر اور، اُدھر اور
ہر وقت ہے چتون تری اے شعبدہ گر اور
اک دم میںمزاج اور ہے، اک پل میں نظر اور
ناکارہ و نادان کوئی مجھ سا بھی ہوگا
آیا نہ بجز بے خبری مجھ کو ہنر اور
ہوں پہلے ہی میں عشق...
غزل
(کنور اخلاق محمد خاں شہریار - علیگڑھ، ہندوستان)
مشعلِ درد پھر اک بار جلا لی جائے
جشن ہو جائے، ذرا دھوم مچالی جائے
خون میں جوش نہیں آیا زمانہ گذرا
دوستو آؤ کوئی بات نکالی جائے
جان بھی میری چلی جائے تو کچھ بات نہیں
وار تیرا نہ مگر ایک بھی خالی جائے
جو بھی ملنا ہے ترے در سے ہی...