غزل : مرزا اسد اللہ خاں‌ غالب اور متین امروہوی - 1

کاشفی

محفلین
غزل
(مرزا اسد اللہ خاں‌ غالب رحمتہ اللہ علیہ)

دل مرا سوزِ نہاں سے بے محابا جل گیا
آتشِ خاموش کی مانند گویا جل گیا

دل میں‌ذوقِ وصل و یاد یار تک باقی نہیں
آگ اس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا

میں عدم سے بھی پرے ہوں ورنہ غافل بارہا
میری آہِ آتشیں سے بالِ عنقا جل گیا

عرض کیجئے جو ہر اندیشہ کی گرمی کہاں
کچھ خیال آیا تھا وحشت کا کہ صحرا جل گیا

دل نہیں، تجھ کو دکھاتا ورنہ داغوں کی بہار
اس چراغاں کا کروں کیا، کار فرما جل گیا

میں‌ہوں اور افسردگی کی آرزو غالب کہ دل
دیکھ کر طرزِ تپاکِ اہلِ دنیا جل گیا


غزل
(متین امروہوی)

آتشِ غم سے بتائیں کیا کہ کیا کیا جل گیا
دل ہمارا جل گیا، پھر جسم سارا جل گیا

اک نظر اس نے بھری محفل میں جو دیکھا مجھے
دیکھ کر ہر اک تماشائی، تماشا جل گیا

بے خودی میں بوسہ انگاروں‌کا ہم نے لے لیا
گرمیء رخسار سے یوں منہ ہمارا جل گیا

ہوگئے جذب محبت میں یہ جب آتش فشاں
باغ لیلی سے جلا، مجنوں‌ سے صحرا جل گیا

برق پہلے تو نشیمن پر گری، اہل چمن!
پھر خس و خاشاک سے گلشن ہی سارا جل گیا

آج یہ کس راگ میں‌گائی مری اُس نے غزل
آگ پانی میں لگی ایسی کی دریا جل گیا
 
Top