جگر تجھی سے ابتدا ہے، تو ہی اک دن انتہا ہوگا - جگر مراد آبادی

کاشفی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 12, 2009

  1. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,384
    غزل
    (جگر مراد آبادی)

    تجھی سے ابتدا ہے، تو ہی اک دن انتہا ہوگا
    صدائے ساز ہوگی اور نہ ساز بے صدا ہوگا

    ہمیں‌ معلوم ہے، ہم سے سنو محشر میں‌کیا ہوگا
    سب اس کو دیکھتے ہوں‌گے، وہ ہم کو دیکھتا ہوگا

    سرمحشر ہم ایسے عاصیوں کا اور کیا ہوگا
    درِجنت نہ وا ہوگا، درِ رحمت تو وا ہوگا

    جہنم ہو کہ جنت ، جو بھی ہوگا فیصلہ ہوگا
    یہ کیا کم ہے ہمارا اور اُن کا سامنا ہوگا

    ازل ہو یا ابد دونوں اسیر زلف حضرت ہیں
    جدھر نظریں‌اُٹھاؤ گے، یہی اک سلسلہ ہوگا

    یہ نسبت عشق کی بے رنگ لائے رہ نہیں‌سکتی
    جو محبوب خدا ہوگا، وہ محبوبِ خدا ہوگا

    اسی امید پر ہم طالبان درد جیتے ہیں
    خوشا دردے کہ تیرا درد، در د ِ لا دوا ہوگا

    نگاہِ قہر پر بھی جان و دل سب کھوئے بیٹھا ہے
    نگاہِ مہر ِ عاشق پر اگر ہوگی تو کیا ہوگا

    یہ مانا بھیج دے گا ہم کو محشر سے جہنم میں
    مگر جو دل پہ گذرے گی، وہ دل ہی جانتا ہوگا

    سمجھتا کیا ہے تو دیوانگاہِ عشق کو زاہد؟
    یہ ہو جائیں گی جس جانب، اسی جانب خدا ہوگا

    جگر کا ہاتھ ہوگا حشر میں اور دامنِ حضرت
    شکایت ہوگا، شکوہ جو بھی ہوگا، برملا ہوگا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
    • زبردست زبردست × 1
  2. شاہ حسین

    شاہ حسین محفلین

    مراسلے:
    2,901
    شکریہ کاشفی صاحب اچھا انتخاب ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    خوبصورت ارسال فرمانے پر آپ کا شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. اشتیاق علی

    اشتیاق علی لائبریرین

    مراسلے:
    10,994
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    اچھے انتخاب کیلئے شکریہ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. عمران شناور

    عمران شناور محفلین

    مراسلے:
    668
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    اچھا کلام ہے شیئر کرنے کے لیے شکریہ کاشفی صاحب!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,050
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    لاجواب!

    شکریہ کاشفی صاحب شیئر کرنے کیلیے!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,384
    شکریہ شاہ حسین صاحب!
     
  8. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,384
    شکریہ فاتح صاحب!
     
  9. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,384
    شکریہ اشتیاق علی صاحب!
     
  10. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,384
    شکریہ عمران شناور صاحب!
     
  11. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,384
    شکریہ محمد وارث صاحب!
     
  12. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,384
    شکریہ سخنور صاحب!

    شکریہ پیاسا صحرا صاحب!
     
  13. راجہ صاحب

    راجہ صاحب محفلین

    مراسلے:
    6,542
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    تجھی سے ابتدا ہے، تو ہی اک دن انتہا ہوگا
    صدائے ساز ہوگی اور نہ ساز بے صدا ہوگا

    ہمیں‌ معلوم ہے، ہم سے سنو محشر میں‌کیا ہوگا
    سب اس کو دیکھتے ہوں‌گے، وہ ہم کو دیکھتا ہوگا

    سرمحشر ہم ایسے عاصیوں کا اور کیا ہوگا
    درِجنت نہ وا ہوگا، درِ رحمت تو وا ہوگا

    جہنم ہو کہ جنت ، جو بھی ہوگا فیصلہ ہوگا
    یہ کیا کم ہے ہمارا اور اُن کا سامنا ہوگا

    ازل ہو یا ابد دونوں اسیر زلف حضرت ہیں
    جدھر نظریں‌اُٹھاؤ گے، یہی اک سلسلہ ہوگا

    یہ نسبت عشق کی بے رنگ لائے رہ نہیں‌سکتی
    جو محبوب خدا ہوگا، وہ محبوبِ خدا ہوگا

    اسی امید پر ہم طالبان درد جیتے ہیں
    خوشا دردے کہ تیرا درد، در د ِ لا دوا ہوگا

    نگاہِ قہر پر بھی جان و دل سب کھوئے بیٹھا ہے
    نگاہِ مہر ِ عاشق پر اگر ہوگی تو کیا ہوگا

    یہ مانا بھیج دے گا ہم کو محشر سے جہنم میں
    مگر جو دل پہ گذرے گی، وہ دل ہی جانتا ہوگا

    سمجھتا کیا ہے تو دیوانگاہِ عشق کو زاہد؟
    یہ ہو جائیں گی جس جانب، اسی جانب خدا ہوگا

    جگر کا ہاتھ ہوگا حشر میں اور دامنِ حضرت
    شکایت ہوگا، شکوہ جو بھی ہوگا، برملا ہوگا

    جگر مراد آبادی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  14. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,050
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    بہت شکریہ راجہ صاحب شیئر کرنے کیلیے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  15. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,384
    غزل
    (جگر مراد آبادی)
    ہمیں‌ معلوم ہے، ہم سے سنو محشر میں‌کیا ہو گا
    سب اس کو دیکھتے ہوں‌گے، وہ ہم کو دیکھتا ہو گا

    سر محشر ہم ایسے عاصیوں کا اور کیا ہو گا
    درِ جنت نہ وا ہو گا، درِ رحمت تو وا ہو گا

    جہنم ہو کہ جنت ، جو بھی ہو گا فیصلہ ہو گا
    یہ کیا کم ہے ہمارا اور اُن کا سامنا ہو گا

    ازل ہو یا ابد دونوں اسیر زلف حضرت ہیں
    جدھر نظریں‌ اُٹھاؤ گے، یہی اک سلسلہ ہو گا

    یہ نسبت عشق کی بے رنگ لائے رہ نہیں‌سکتی
    جو محبوب خدا ہو گا، وہ محبوبِ خدا ہو گا

    اسی امید پر ہم طالبان درد جیتے ہیں
    خوشا دردے کہ تیرا درد، در د ِ لا دوا ہو گا

    نگاہِ قہر پر بھی جان و دل سب کھوئے بیٹھا ہے
    نگاہِ مہر ِ عاشق پر اگر ہو گی تو کیا ہو گا

    یہ مانا بھیج دے گا ہم کو محشر سے جہنم میں
    مگر جو دل پہ گذرے گی، وہ دل ہی جانتا ہو گا

    سمجھتا کیا ہے تو دیوانگاہِ عشق کو زاہد؟
    یہ ہو جائیں گی جس جانب، اسی جانب خدا ہو گا

    جگر کا ہاتھ ہو گا حشر میں اور دامنِ حضرت
    شکایت ہو گا، شکوہ جو بھی ہو گا، برملا ہو گا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  16. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,384
    محترم انتظامیہ سے گزارش ہے کہ اس لڑی کو پہلے سے موجود لڑی میں پرو دیں یا ڈلیٹ دیں پلیز۔ شکریہ۔
     
  17. عبد الرحمٰن

    عبد الرحمٰن محفلین

    مراسلے:
    2,623
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    بتا دوں عشق میں دیوانہ بن جانے سے کیا ہوگا
    وہ بے پردہ ملیں گے پردہ دیوانے سے کیا ہوگا
    ملے گی شیخ کو جنت ہمیں دوزخ عطا ہوگا
    بس اتنی بات تھی جسکے لئے محشر بپا ہوگا
    ہمیں معلوم ہے ہم سے سنو محشر میں کیا ہوگا
    سب اسکو دیکھتے ہوں گے وہ ہم کو دیکھتا ہو گا
    رہے دو دو فرشتے ساتھ اب انصاف کیا ہو گا
    کسی نے کُچھ لِکھا ہو گا، کسی نے کُچھ لِکھا ہو گا
    جو کھو بیٹھے نماز عشق میں حوش و حواس اپنے
    حساب روز محشر ایسے دیوانے سے کیا ہوگا
    سمجھتا کیا ہے تو دیوانگان عشق کو زاہد
    یہ ہو جائیں گے جس جانب اسی جانب خدا ہوگا
    جِگر کا ہاتھ ھوگا حشر میں اور آپکا دامن
    شکایت ھو کہ شکوہ جو بھی ھوگا برملا ہو گا
    جِگر مُرادآبادی
     
    مدیر کی آخری تدوین: ‏جون 16, 2017
  18. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    9,213
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    چند ٹائپوز کی جانب توجہ فرمائیے



    وہ بے پردہ ملیں گے پردہ دیوانے سے کیا ہوگا


    رہے دو دو فرشتے ساتھ اب انصاف کیا ہوگا

    سمجھتا کیا ہے تو دیوانگانِ عشق کو زاہد

    شکایت
     
    آخری تدوین: ‏جون 13, 2017
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  19. عبد الرحمٰن

    عبد الرحمٰن محفلین

    مراسلے:
    2,623
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    شکریہ سر رہنمائی کے لیے
    سلامت رہیں
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر