اردو ادب اور کراچی

  1. رشید حسرت

    نہیں تو

    کب ہم نے کہا تُم سے محبّت ہے، نہِیں تو دِل ہِجر سے آمادۂِ وحشت ہے، نہِیں تو باتیں تو بہُت کرتے ہیں ہم کُود اُچھل کر اِس عہد میں مزدُور کی عِزّت ہے، نہِیں تو مزدُوری بھی لاؤں تو اِسی کو ہی تھماؤں بِیوی میں بھلا لڑنے کی ہِمّت ہے، نہِیں تو دولت کے پُجاری ہیں فقط آج مسِیحا دُکھ بانٹنا ہے، یہ...
  2. کاشفی

    ہم اُردو بولیں گے

    ہم اُردو بولیں گے
  3. محمد خلیل الرحمٰن

    مرزا غالب کا ایک خط منشی ہرگوپال تفتہ کے نام

  4. سید افتخار احمد رشکؔ

    میری پسندیدہ غزلوں میں سے ایک

    غزل اگر ہے عشق، اشاروں سے بات کیا کرنا جو پیاس ہے تو کناروں سے بات کیا کرنا رکھو کسی کا بھی نہ آسرا کہ دل ٹوٹے ہو خود میں دم تو سہاروں سے بات کیا کرنا ہے راہِ عشق وہ جس پر سجے ہر اک موسم خزاں بھی ہو تو بہاروں سے بات کیا کرنا اکیلی زندگی کتنوں کے ساتھ بیتے گی ہو سچا ایک، ہزاروں سے بات کیا کرنا...
  5. سید افتخار احمد رشکؔ

    اردو غزل

    تازہ ترین کلام مرے سخن میں تجھے ہی تو جگمگانا ہے بیان میرا سہی, پر ترا فسانہ ہے جو خود کو جان گیا تجھ تلک تبھی پہنچا جو میرا دل ہے وہی تو ترا ٹھکانہ ہے وصال و ہجر, بہار و خزاں, سحر شب ہے تمہارے عشق کا موسم بڑا سہانہ ہے تمہارے عشق کا قیدی بھلا کہاں جائے تمہارے ساتھ ہی جیون مجھے بِتانا ہے ازل کے...
  6. سید افتخار احمد رشکؔ

    رشک کی شاعری

    غزل کہاں کی عاشقی یاں کون عاشقانہ ہے جسے بھی جانچ کے دیکھا وہ سوقیانہ ہے ہے جو بھی عرض تمہیں عشق ہی جٙتٙانا ہے زبان شاکی ہے دل پھر بھی عاشقانہ ہے گھرے ہوئے ہو جفا جُو تماش بینوں میں نہیں ہے فائدہ پھر بھی تمہیں بتانا ہے وفا کے پیشِ نظر اب تلک نہ توڑا ہے وہ سلسلہ جو جفائوں کا شاخسانہ ہے ہیں دل...
  7. کاشفی

    لغزشوں سے ماورا تو بھی نہیں میں بھی نہیں - سید عارف

    غزل (سید عارف) لغزشوں سے ماورا تو بھی نہیں میں بھی نہیں دونوں انساں ہیں خدا تو بھی نہیں میں بھی نہیں تو مجھے اور میں تجھے الزام دیتا ہوں مگر اپنے اندر جھانکتا تو بھی نہیں میں بھی نہیں مصلحت نے کر دیا دونوں میں پیدا اختلاف ورنہ فطرت کا برا تو بھی نہیں میں بھی نہیں چاہتے دونوں بہت اک...
  8. کاشفی

    فنا نظامی کانپوری ساقیا تو نے مرے ظرف کو سمجھا کیا ہے - فنا نظامی کانپوری

    غزل (فنا نظامی کانپوری) ساقیا تو نے مرے ظرف کو سمجھا کیا ہے زہر پی لوں گا ترے ہاتھ سے صہبا کیا ہے میں چلا آیا ترا حسن تغافل لے کر اب تری انجمن ناز میں رکھا کیا ہے نہ بگولے ہیں نہ کانٹے ہیں نہ دیوانے ہیں اب تو صحرا کا فقط نام ہے صحرا کیا ہے ہو کے مایوس وفا ترک وفا تو کر لوں لیکن اس ترک...
  9. کاشفی

    بشیر بدر دل میں اک تصویر چھپی تھی آن بسی ہے آنکھوں میں - بشیر بدر بھوپالی

    غزل (بشیر بدر بھوپالی) دل میں اک تصویر چھپی تھی آن بسی ہے آنکھوں میں شاید ہم نے آج غزل سی بات لکھی ہے آنکھوں میں جیسے اک ہریجن لڑکی مندر کے دروازے پر شام دیوں کی تھال سجائے جھانک رہی ہے آنکھوں میں اس رومال کو کام میں لاؤ اپنی پلکیں صاف کرو میلا میلا چاند نہیں ہے دھول جمی ہے آنکھوں میں پڑھتا...
  10. کاشفی

    انساں ہوں گھِر گیا ہوں زمیں کے خداؤں میں - خاطر غزنوی

    غزل (خاطر غزنوی) انساں ہوں گھِر گیا ہوں زمیں کے خداؤں میں اب بستیاں بساؤں گا جا کر خلاؤں میں یادوں کے نقش کندہ ہیں ناموں کے روپ میں ہم نے بھی دن گزارے درختوں کی چھاؤں میں دوڑا رگوں میں خوں کی طرح شور شہر کا خاموشیوں نے چھین لیا چین گاؤں کا یوں تو رواں ہیں میرے تعاقب میں منزلیں لیکن میں...
  11. کاشفی

    عشق کے شعلے کو بھڑکاؤ کہ کچھ رات کٹے - مخدوم محی الدین

    غزل (مخدوم محی الدین) عشق کے شعلے کو بھڑکاؤ کہ کچھ رات کٹے دل کے انگارے کو دہکاؤ کہ کچھ راٹ کٹے ہجر میں ملنے شبِ ماہ کے غم آئے ہیں چارہ سازوں کو بھی بلواؤ کہ کچھ رات کٹے کوئی جلتا ہی نہیں، کوئی پگھلتا ہی نہیں موم بن جاؤ پگھل جاؤ کہ کچھ رات کٹے چشم و رخسار کے اذکار کو جاری رکھو پیار کے نامہ کو...
  12. کاشفی

    اس شہرِ نگاراں کی کچھ بات نرالی ہے - دواکر راہی

    غزل (دواکر راہی) اس شہرِ نگاراں کی کچھ بات نرالی ہے ہر ہاتھ میں دولت ہے، ہر آنکھ سوالی ہے شاید غمِ دوراں کا مارا کوئی آجائے اس واسطے ساغر میں تھوڑی سی بچا لی ہے ہم لوگوں سے یہ دنیا بدلی نہ گئی لیکن ہم نے نئی دنیا کی بنیاد تو ڈالی ہے اُس آنکھ سے تم خود کو کس طرح چھپاؤ گے جو آنکھ پسِ پردہ بھی...
  13. کاشفی

    عرفان صدیقی حق فتح یاب میرے خدا کیوں نہیں ہوا - عرفان صدیقی

    غزل عرفان صدیقی، لکھنؤ - 1939 - 2004 حق فتح یاب میرے خدا کیوں نہیں ہوا تو نے کہا تھا تیرا کہا کیوں نہیں ہوا جب حشر اسی زمیں پہ اُٹھائے گئے تو پھر برپا یہیں پہ روزِ جزا کیوں نہیں ہوا وہ شمع بجھ گئی تھی تو کہرام تھا تمام دل بجھ گئے تو شور عزا کیوں نہیں ہوا داماندگاں پہ تنگ ہوئی کیوں تری زمیں...
  14. کاشفی

    لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا - داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ

    غزل (داغ دہلوی مرحوم و مغفور رحمتہ اللہ علیہ) لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا تیرا اپنے دل کو بھی بتاؤں نہ ٹھکانا تیرا سب نے جانا جو پتا ایک نے جانا تیرا تو جو اے زلف پریشان رہا کرتی ہے کس کے اُجڑے ہوئے دل میں ہے ٹھکانا تیرا آرزو ہی نہ رہی صبحِ وطن کی مجھ کو...
  15. کاشفی

    جانے کتنی اُڑان باقی ہے

    غزل (راجیش ریڈی) جانے کتنی اُڑان باقی ہے اس پرندے میں جان باقی ہے جتنی بٹنی تھی بٹ چکی یہ زمیں اب تو بس آسمان باقی ہے اب وہ دنیا عجیب لگتی ہے جس میں امن و امان باقی ہے امتحاں سے گزر کے کیا دیکھا اک نیا امتحان باقی ہے سر قلم ہوں گے کل یہاں ان کے جن کے منہ میں زبان باقی ہے
  16. کاشفی

    یہاں ہرشخص ہر پل حادثہ ہونے سے ڈرتا ہے - راجیش ریڈی

    غزل (راجیش ریڈی - ممبئی، ہندوستان) یہاں ہرشخص ہر پل حادثہ ہونے سے ڈرتا ہے کھلونا ہے جو مٹی کا فنا ہونے سے ڈرتا ہے مرے دل کے کسی کونے میں اک معصوم سا بچہ بڑوں کی دیکھ کر دنیا بڑا ہونے سے ڈرتا ہے نہ بس میں زندگی اس کے نہ قابو موت پر اس کا مگر انسان پھر بھی کب خدا ہونے سے ڈرتا ہے عجب یہ زندگی کی...
  17. کاشفی

    ہاتھ تھے روشنائی میں ڈوبے ہوئے اور لکھنے کو کوئی عبارت نہ تھی - بانی

    غزل (بانی) ہاتھ تھے روشنائی میں ڈوبے ہوئے اور لکھنے کو کوئی عبارت نہ تھی ذہن میں کچھ لکیریں تھیں، خاکہ نہ تھا۔ کچھ نشاں تھے نظر میں، علامت نہ تھی زرد پتے کہ آگاہ تقدیر تھے، ایک زائل تعلق کی تصویر تھے شاخ سے سب کو ہونا تھا آخر جُدا، ایسی اندھی ہوا کی ضرورت نہ تھی اک رفاقت تھی زہریلی ہوتی ہوئی،...
  18. کاشفی

    جگر تجھی سے ابتدا ہے، تو ہی اک دن انتہا ہوگا - جگر مراد آبادی

    غزل (جگر مراد آبادی) تجھی سے ابتدا ہے، تو ہی اک دن انتہا ہوگا صدائے ساز ہوگی اور نہ ساز بے صدا ہوگا ہمیں‌ معلوم ہے، ہم سے سنو محشر میں‌کیا ہوگا سب اس کو دیکھتے ہوں‌گے، وہ ہم کو دیکھتا ہوگا سرمحشر ہم ایسے عاصیوں کا اور کیا ہوگا درِجنت نہ وا ہوگا، درِ رحمت تو وا ہوگا جہنم ہو کہ...
  19. کاشفی

    حضور آپ کا بھی احترام کرتا چلوں - شاداب لاہوری

    غزل (شاداب لاہوری) حضور آپ کا بھی احترام کرتا چلوں ادھر سے گزرا تھا سوچا سلام کرتا چلوں نگاہ و دل کی یہی آخری تمنّا ہے تمہاری زُلف کے سائے ميں شام کرتا چلوں انہيں يہ ضِد کہ مجھے ديکھ کر کسی کو نہ ديکھ ميرا يہ شوق کہ سب سے کلام کرتا چلوں يہ ميرے خوابوں کی دُنيا نہيں سہی، ليکن اب آ گيا ہوں تو...
  20. کاشفی

    جدا وہ ہوتے تو ہم ان کی جستجو کرتے - پنڈت رتن پنڈوری

    غزل (پنڈت رتن پنڈوری) جدا وہ ہوتے تو ہم ان کی جستجو کرتے الگ نہیں ہیں تو پھر کس کی آرزو کرتے ملا نہ ہم کو کبھی عرضِ حال کا موقع زباں نہ چلتی تو آنکھوں سے گفتگو کرتے اگر یہ جانتے ہم بھی انہیں کی صورت ہیں کمالِ شوق سے اپنی ہی آرزو کرتے دلِ حزیں کے مکیں تو اگر صدا دیتا تری تلاش کبھی ہم نہ کُو بہ...
Top