ہاتھ تھے روشنائی میں ڈوبے ہوئے اور لکھنے کو کوئی عبارت نہ تھی - بانی

کاشفی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 13, 2016

  1. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,393
    غزل
    (بانی)
    ہاتھ تھے روشنائی میں ڈوبے ہوئے اور لکھنے کو کوئی عبارت نہ تھی
    ذہن میں کچھ لکیریں تھیں، خاکہ نہ تھا۔ کچھ نشاں تھے نظر میں، علامت نہ تھی

    زرد پتے کہ آگاہ تقدیر تھے، ایک زائل تعلق کی تصویر تھے
    شاخ سے سب کو ہونا تھا آخر جُدا، ایسی اندھی ہوا کی ضرورت نہ تھی

    اک رفاقت تھی زہریلی ہوتی ہوئی، راستہ منتظر خود دو راہے کا تھا
    پھر وہ اک دوسرے سے جُدا ہو گئے، دونوں چپ تھے کہ دونوں کو حیرت نہ تھی

    ایک آراستہ گھر میں تھا کب سے میں، ایک صدبرگ منظر میں تھا کب سے میں
    میری خاطر تھیں کیا کیا ہنرکاریاں، اک نظر دیکھنے کی بھی فرصت نہ تھی

    آج رکھا ہے لمحہ ترے ہاتھ پر، لمس اوّل کی لذت کو محفوظ کر
    کل نہ کہنا فلک خوش تعاون نہ تھا، کل نہ کہنا زمیں خوبصورت نہ تھی!

    کتنا پانی بہا لے گئی ندی، کتنے منظر اُڑا لے گئی ہے ہوا
    اک خزانہ کہ اب تک نہ خالی ہوا، اک زیاں تھا کہ جس کی شکایت نہ تھی

    ایک اک لفظ کے سینہء خشک سے فصل صد رنگ معنی اگانا پڑی
    اپنی تقدیر میں کوئی ورثہ نہ تھا، نام اپنے کوئی وصیت نہ تھی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
  2. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    36,466
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    بانی کے نام پر فوراً چلا آیا یہاں۔ خوب غزل ہے۔
    آخری شعر بلکہ آخری مصرع میں کچھ لفظ چھوٹ گیا ہے’کوئی‘ سے پہلے یا بعد میں شاید ‘بھی‘
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • متفق متفق × 1
  3. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,393
    بیحد شکریہ ۔ خوش رہیئے۔۔
    [​IMG]
     
  4. سید عاطف علی

    سید عاطف علی مدیر

    مراسلے:
    13,775
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    کاشفی بھائی ۔ بانی صاحب کا کچھ اورتعارف ؟
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • متفق متفق × 1
  5. سید لبید غزنوی

    سید لبید غزنوی محفلین

    مراسلے:
    3,541
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    بہت خوب عمدہ غزل ہے۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,393
    تعارفِ شاعر: مندرجہ بالا غزل کے شاعر بانی کا پورا نام راجیندر منچندا بتخلص بانی ہے۔ آپ 1932ء میں ملتان شریف میں پیدا ہوئے۔ بعد میں ان کا خاندان دہلی ہجرت کرگیا۔۔
    انہوں نے معاشیات میں ماسٹرز کی ڈگری دہلی سے حاصل کی۔
    1981ء بانی صاحب اس دنیا سے کوچ کرگئے۔۔۔
     
    • زبردست زبردست × 1
  7. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,393
    شکریہ جناب!
     
  8. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,393
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  9. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,393
    محمد وارث صاحب! غزل پسند فرمانے کے لیئے آپ کا شکریہ۔
     

اس صفحے کی تشہیر