خفیف و لطیف طنز و مزاح۔۔۔۔
نٹ کھٹ روزہ دار
(نادر خان سَر گِروہ ، مقیم : مکہ مکرمہ)
Nadir Khan Sargiroh
روزے رکھنا ہم نے اُسی وقت سے ہی شروع کر دیا تھا جب ہمیں یہ علم ہوا کہ کھاناپینا ہمارے لئے کتنا ضروری ہے۔بچپن میں ایک رمضان کی تپتی ہوئی دھوپ کا ذکر ہے کہ ہم روزے سے تھے اور اِفطار...
طنز و مزاح ۔۔۔۔محاوروں کا استعمال عام کرنا میرے مقاصد میں سے ہے۔۔(محاورے سُرخ رنگ میں لکھے ہوئے ہیں)کینگروُ کی ماں کب تک خیر منائے گی
(نادر خان سر گروہ - مقیم مکہ مکرمہ)
(یاد کیجئے۔۔ویسٹ میں منعقد کرکٹ ورلڈ کپ 2007 ۔۔جہاں فائنل میں آسٹریلیا نے سری لنکا کو ہرایا تھا۔۔۔
جبکہ بھارت اور...
غزل
(نانا غالب رحمتہ اللہ علیہ)
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے، یہی انتظار ہوتا
ترے وعدے پہ جئے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
تری ناز کی سے جانا کہ بنا تھا عہد بودا
کبھی تُو نہ توڑ سکتا اگر استوار ہوتا
کوئی میرے دل سے پوچھے...
بسم اللہ الرحمن الرحیم
سبحان اللہ و بحمدہ سبحان اللہ العظیم
یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سلام علیکم
یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم سلام علیکم
یا حبیب صلی اللہ علیہ وسلم سلام علیکم
صلوات اللہ علیکم
اللھم صل علی محمد صلی اللہ علیہ وسلم وعلی آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم
زينبيہ جو آج شہر...
اسلامی جمہوریہ پاکستان
(مزارِ قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ - کراچی سندھ پاکستان)
(غروبِ آفتاب کا ایک خوبصورت منظر - کراچی سندھ پاکستان)
(سینڈز پِٹ - کراچی سندھ پاکستان)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
سبحان اللہ و بحمدہ سبحان اللہ العظیم
یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سلام علیکم
یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم سلام علیکم
یا حبیب صلی اللہ علیہ وسلم سلام علیکم
صلوات اللہ علیکم
اللھم صل علی محمد صلی اللہ علیہ وسلم وعلی آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم
غزل
(غلام ربّانی تاباں)
دلِ تباہ نے اک تازہ زندگی پائی
تمھیں چراغ ملا، ہم نے روشنی پائی
ترے خیال سے فرصت اگر کبھی پائی
بھری بھری سی یہ دُنیا تہی تہی پائی
ستم بھی تیرے تغافل کو سازگار آیا
وفا کی داد بھی ہم نے کبھی کبھی پائی
نکھر گئے ہیں پسینے بھی بھیگ کر عارض
گلوں نے اور بھی شبنم...
غزل
(زاہدہ رئیس راجی)
صورت نہیں رہتی، کبھی سیرت نہیں رہتی
یکساں تو کسی کی کبھی حالت نہیں رہتی
انسان پہ وقت ایسا بھی آسکتا ہے اک دن
حالات سے لڑنے کی بھی ہمت نہیں رہتی
دل تب بھی اُجالوں کی تمنا نہیں کرتا
جب سامنے خوابوں کی حقیقت نہیں رہتی
گر بھیڑ میں تنہائی کی عادت ہو کسی کو
محفل...
غزل
(فاطمہ سحر)
دلوں کو ملانے کے دن آرہے ہیں
چمن کو سجانے کے دن آرہے ہیں
کہیں بھول جاؤں نہ خود کو خوشی میں
تیرے پاس آنے کے دن آرہے ہیں
کھنکنے لگے ہیں یہ کنگن بھی اب تو
کہ سجنے سجانے کے دن آرہے ہیں
دُعاؤں نے میری یہ رنگ اب دکھایا
کہ مہندی رچانے کے دن آرہے ہیں
نظر آئے ہر سو...
الوداع اے ماہِ رمضاں الوادع
(ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی)
دیکھتے ہیں اہلِ ایماں تیری راہ، الوداع اے ماہِ رمضاں الوادع
تجھ پہ قرباں مال و دولت عزّ و جاہ، الوداع اے ماہِ رمضاں الوادع
مٹ گئے تیری بدولت سب گناہ، الوداع اے ماہِ رمضاں الوادع
جارہا ہے چھوڑ کر تو ہم کو آہ، الوداع اے ماہِ رمضاں...
مناجاب
(اختر علی خان اختر چھتاروی)
حقیر ذرے کو چاہے تو آسماں کردے
تُو بے کراں ہے جسے چاہے بے کراں کردے
عیاں کو پل میں نہاں، اور نہاں، عیاں کردے
اگر تُو چاہے تو پیدا نئے جہاں کردے
تعینات کے منظر کو، بے نشاں کردے
گماں کے سارے مکانات، لامکاں کردے
کرادے میرا تعارف، بطونِ ظاہر سے
دل...
نظم
اسماعیل اعجاز (خیال)
دبی دبی سی ہنسی تمہارے
لبوں پہ آکے جو رک گئی ہے
اسے نہ روکو
یہ رک گئی تو
یہ سارے منظر یہ ساری دنیا
ہے چار دن کی ہماری دنیا
اداسیوں کا نگر لگے گی
غموں میں ڈوبی ڈگر لگے گی
تم ہنس دو تھوڑا سا مسکرا دو
"خیال" ہم کو ہماری دنیا
حسین جنت کا گھر لگے گی
ہزاروں...
احتجاج
(ضیا بلوچ)
ہم بلوچوں سے یہ اک جرم ہوا ہے تو سہی!
سچ کا اظہار سرِ عام کیا ہے تو سہی!
اور کیا چاہیئے بولان کی وادی میں تجھے؟
اس کے گلشن میں رواں موجِ قضا ہے تو سہی!
نام دیتا ہے جسے جامِ اُخوت کا تو
ہم نے یہ زہر کئی بار پیا ہے تو سہی!
اور کب تک یونہی خاموش تماشائی بنیں؟...
غزل
اسماعیل اعجاز (خیال) - کراچی پاکستان
تیری خاموش نگاہوں میں گلہ ہے تو سہی
سلسلہ پھر بھی تیرے ساتھ جُڑا ہے تو سہی
تجھ سے ہی روٹھنا، اور تجھ کو مناتے رہنا
"ایک اُلجھا ہُوا ہاتھوں میں سِرا ہے تو سہی"
اپنی ہر بات کو منسوب تجھی سے کرنا
دل میںجلتا ہُوا چاہت کا دِیا ہے تو سہی
جس کو...
غزل
(سہیل اختر ہاشمی - کراچی پاکستان)
سہیل اختر ہاشمی نے علامہ اقبال کالج کراچی سے گریجویش کیا تھا پھر یہ ایران چلے گئے تھے انقلاب ایران کے بعد واپس آئے۔۔ جانے سے پہلے کراچی کے نوعمر ابھرتے ہوئے شعراء میں ان کو سلیم کوثر،جمال احسانی، عزم بہزاد، اختر سعیدی، شاداب احسانی وغیرہ کے ساتھ مشاعروں...
غزل
(سید انور جاوید ہاشمی - کراچی پاکستان)
کہنے کی بات ہے تو کہو جانِ جاں کہو
توڑو سکوت، مہر بہ لب کچھ تو ہاں کہو
ٹوٹا جو شاخ سے تو دوبارہ نہ جڑ سکے
دل پھول مثل تھا کہ نہیں! گلرخاں کہو
جتلارہے ہو اپنی سخن سازیاں ہمیں
حاصل ہوئی ہیں کتنی پشیمانیاں کہو
وہ آئینہ مثال شناسا کدھر گئے...
غزل
(عادل رشید - نئی دہلی، ہندوستان)
اپنا شعور اپنی انا کھو چکے ہیں ہم
اب جاگنا پڑیگا بہت سو چکے ہیں ہم
اب کون بڑھ کے ہم کو گلے سے لگائے گا
کانٹے تو اپنے چارو طرف بو چکے ہیں ہم
احساسِ کمتری کا ہوئے ہیں شکار یوں
اب احتجاج تک کا ہنر کھو چکے ہیں ہم
اب راہ تک رہے ہیں ابابیلیں آئیں گی...