جگر ہم کو مٹا سکے ، یہ زمانے میں دم نہیں - جگر مراد آبادی

کاشفی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 14, 2016

  1. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,384
    غزل
    (جگر مراد آبادی)
    ہم کو مٹا سکے ، یہ زمانے میں دم نہیں
    ہم سے زمانہ خود ہے ، زمانے سے ہم نہیں

    بے فائدہ الم نہیں ، بے کار غم نہیں
    توفیق دے خُدا تو یہ نعمت بھی کم نہیں

    میری زباں پہ شکوہَ اہلِ ستم نہیں
    مجھ کو جگا دیا ، یہی احسان کم نہیں

    یارب ہجومِ درد کو دے اور وسعتیں
    دامن تو کیا ابھی ، میری آنکھیں بھی نم نہیں

    شکوہ تو ایک چھیڑ ہے ، لیکن حقیقتاً
    تیرا ستم بھی تیری عنایت سے کم نہیں

    اب عشق اس مقام پہ ہے جستجو نورد
    سایہ نہیں جہاں، کوئی نقشِ قدم نہیں

    ملتا ہے کیوں مزہ ستم، روزگار میں! !
    تیرا کرم بھی خود جو شریک ِ سفر نہیں

    زاہد کچھ اور ہو نہ ہو مے خانے میں مگر
    کیا کم یہ ہے کہ فتنۂ دیر و حرم نہیں

    مرگِ جگر پر کیوں تیری آنکھیں ہیں اشک ریز؟
    اک سانحہ سہی، مگر اتنا اہم نہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  2. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,384
    درست شعر اس طرح ہے۔۔
    مرگِ جگر پر کیوں تری آنکھیں ہیں اشک ریز؟
    اک سانحہ سہی، مگر اتنا اہم نہیں
     
  3. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,384
    محترم بزرگ و پرہیزگار انتظامیہ سے درخواست ہے کہ اس لڑی کو پہلے سے موجود لڑی میں پرو کر شکریہ کا موقع عنایت کیجئے۔۔۔
     
  4. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    2,901
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    پہلے مصرع میں ’’پر‘‘ کی جگہ ’’پہ‘‘ کر لیجئے ۔

    درست یوں ہے:
    میری زباں پہ شکوہء اہلِ ستم نہیں
    درست یوں ہے:
    ملتا ہے کیوں مزہ ستمِ روزگار میں

    :):):)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر