اقبال عظیم وہ موجِ تبسّم شگفتہ شگفتہ ۔۔اقبال عظیم

حجاب نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 6, 2008

  1. حجاب

    حجاب محفلین

    مراسلے:
    3,433
    وہ موجِ تبسّم شگفتہ شگفتہ ، وہ بھولا سا چہرہ کتابی کتابی
    وہ سُنبل سے گیسو سنہرے سنہرے ، وہ مخمور آنکھیں گلابی گلابی
    کفِ دست نازک حنائی حنائی ، وہ لب ہائے شیریں شہابی شہابی
    وہ باتوں میں جادو اداؤں میں ٹونا ، وہ دُزدیدہ نظریں عقابی عقابی
    کبھی خوش مزاجی ، کبھی بے نیازی، ابھی ہوشیاری ، ابھی نیم خوابی
    قدم بہکے بہکے نظر کھوئی کھوئی ، وہ مخمور لہجہ شرابی شرابی
    نہ حرفِ تکلّم ، نہ سعیِ تخاطب ، سرِ بزم لیکن بہم ہم کلامی
    ادھر چند آنسو سوالی سوالی ، اُدھر کچھ تبسّم جوابی جوابی
    وہ سیلابِ خوشبو گلستاں گلستاں ، وہ سروِ خراماں بہاراں بہاراں
    فروزاں فروزاں جبیں کہکشانی ، درخشاں درخشاں نظر ماہتابی
    نہ ہونٹوں پہ سرخی ، نہ آنکھوں میں کاجل ، نہ ہاتھوں میں کنگن ، نہ پیروں میں پائل
    مگر ھُسنِ سادہ مثالی مثالی ، جوابِ شمائل فقط لاجوابی
    وہ شہرِ نگاراں کی گلیوں کے پھیرے ، سرِ کوئے خوباں فقیروں کے ڈیرے
    مگر حرفِ پُرسش ، نہ اِذنِ گزارش ، کبھی نامُرادی کبھی باریابی
    یہ سب کچھ کبھی تھا ، مگر اب نہیں ہے کہ آوارہ فرہاد گوشہ نشیں ہے
    نہ تیشہ بدوشی ، نہ خارہ شگافی ، نہ آہیں ، نہ آنسو ، نہ خانہ خرابی
    کہ نظروں میں اب کوئی شیریں نہیں ہے ، جدھر دیکھیئے ایک مریم کھڑی ہے
    نجابت ساپا ، شرافت تبسّم ، بہ عصمت مزاجی ، بہ عفّت مآبی
    جو گیسو سنہرے تھے اب نُقرئی ہیں ، جن آنکھوں میں جادو تھا ، اب باؤضو ہیں
    یہ پاکیزہ چہرے ، یہ معصوم آنکھیں ، نہ وہ بے حجابی ، نہ وہ بے نقابی
    وہ عشقِ مجازی حقیقت میں ڈھل کر تقدّس کی راہوں پہ اب گامزن ہے
    جو حُسنِ نگاراں فریبِ نظر تھا ، فرشتوں کی صورت ہے گِردوں جنابی
    وہ صورت پرستی سے اُکتا گیا ہے ، خلوصِ نظر اور کچھ ڈھونڈتا ہے
    نہ موجِ تبسّم ، نہ دستِ حنائی ، نہ مخمور آنکھیں گلابی گلابی
    نہ دُزدیدہ نظریں عقابی عقابی ، نہ مخمور لہجہ شرابی شرابی
    نہ سُنبل سے گیسو سنہرے سنہرے ، نہ لب ہائے شیریں شہابی شہابی ۔( اقبال عظیم )
    ِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 8
    • زبردست زبردست × 3
  2. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,903
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    واہ واہ، کیا مرصع کلام پیش کیا آپ نے بہت خوب۔ شکریہ حجاب صاحبہ شیئر کرنے کیلیئے۔
     
  3. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,834
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اچھی غزل ہے حجاب۔ شکریہ۔۔ میں سمجھا کہ اپنی شگفتہ نے پھر کوئ تیر مارا ہے اور یہ تہنیتی پیغام ہے!!
    شکریہ وارث کہ درست معانی میں ’مرصع‘ کا استعمال کیا۔ ورنہ آج کل تو اچھے اچھے شعرا اور نقاد بھی ہر اچھی شاعری کو مرصع کلام کہہ دیا کرتے ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  4. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,867
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    بہت خوب کہا اعجاز صاحب اب تو یار لوگ میری غزل کو بھی مرصع کہنے لگے ہیں - ظاہر ہے کہ وہ ہرگز مرصع نہیں ہے - :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  5. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,867
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    بہت اچھی غزل ہے حجاب !‌ بہت شکریہ!
     
  6. محمد مسلم

    محمد مسلم محفلین

    مراسلے:
    223
    کیا حسین شاعری ہے!
     
  7. خورشیدآزاد

    خورشیدآزاد محفلین

    مراسلے:
    514
    جھنڈا:
    HongKong
    موڈ:
    Confused
    بہت اعلٰی۔

    ویسے کیا اس غزل کو کسی گایا ہے؟
     
  8. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,288
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    یہ دھاگہ دوبارہ تازہ ہونا چاہیے۔
     
    • متفق متفق × 1
  9. نیرنگ خیال

    نیرنگ خیال لائبریرین

    مراسلے:
    18,632
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    وہ موج تبسم شگفتہ شگفتہ، وہ بھولا سا چہرہ کتابی کتابی​
    وہ سنبل سے گیسو سنہرے سنہرے، وہ مخمور آنکھیں گلابی گلابی​
    کف دست نازک حنائی حنائی، وہ لب ہائے شیریں شہابی شہابی​
    وہ باتوں میں جادو اداؤں میں ٹونا، وہ دزدیدہ نظریں عقابی عقابی​
    کبھی خوش مزاجی، کبھی بے نیازی، ابھی ہوشیاری، ابھی نیم خوابی​
    قدم بہکے بہکے نظر کھوئی کھوئی، وہ مخمور لہجہ شرابی شرابی​
    نہ حرف تکلم، نہ سعی تخاطب، سر بزم لیکن بہم ہم کلامی​
    اِدھر چند آنسو سوالی سوالی، اُدھر کچھ تبسم جوابی جوابی​
    وہ سیلاب خوشبو گلستاں گلستاں، وہ سرو خراماں بہاراں بہاراں​
    فروزاں فروزاں جبیں کہکشانی، درخشاں درخشاں نظر ماہتابی​
    نہ ہونٹوں پہ سرخی، نہ آنکھوں میں کاجل، نہ ہاتھوں میں کنگن، نہ پیروں میں پائل​
    مگر حسن سادہ مثالی مثالی، جواب شمائل فقط لاجوابی​
    وہ شہر نگاراں کی گلیوں کے پھیرے، سر کوئے خوباں فقیروں کے ڈیرے​
    مگر حرف پرسش نہ اذن گزارش، کبھی نامرادی کبھی باریابی​
    یہ سب کچھ کبھی تھا، مگر اب نہیں ہے کہ آوارہ فرہاد گوشہ نشیں ہے​
    نہ تیشہ بدوشی، نہ خارہ شگافی، نہ آہیں نہ آنسو نہ خانہ خرابی​
    کہ نظروں میں اب کوئی شیریں نہیں ہے، جدھر دیکھیئے ایک مریم کھڑی ہے​
    نجابت سراپا، شرافت تبسم، بہ عصمت مزاجی، بہ عفّت مآبی​
    جو گیسو سنہرے تھے اب نُقرئی ہیں، جن آنکھوں میں جادو تھا اب با وضو ہیں​
    یہ پاکیزہ چہرے یہ معصوم آنکھیں، نہ وہ بے حجابی نہ وہ بے نقابی​
    وہ عشق مجازی حقیقت میں ڈھل کر تقدس کی راہوں پہ اب گامزن ہے​
    جو حسن نگاراں فریب نظر تھا، فرشتوں کی صورت ہے گردوں جنابی​
    وہ صورت پرستی سے اکتا گیا ہے، خلوص نظر اور کچھ ڈھونڈتا ہے​
    نہ موج تبسم، نہ دست حنائی، نہ مخمور آنکھیں گلابی گلابی​
    نہ دزدیدہ نظریں عقابی عقابی، نہ مخمور لہجہ شرابی شرابی​
    نہ سنبل سے گیسو سنہرے سنہرے، نہ لب ہائے شیریں شہابی شہابی​
     
    • زبردست زبردست × 7
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  10. نکتہ ور

    نکتہ ور محفلین

    مراسلے:
    713
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    بہت عمدہ ،کیا خوب صورت کلام ہے، کیا کہنے
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  11. نیرنگ خیال

    نیرنگ خیال لائبریرین

    مراسلے:
    18,632
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    انتخاب کو پسند کرنے پر مشکور ہوں جناب :)
     
  12. الشفاء

    الشفاء لائبریرین

    مراسلے:
    2,932
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    واہ۔ بہت خوب انتخاب نیرنگ بھیا۔۔۔

    اقبال عظیم صاحب نے مجاز سے حقیقت کی طرف کا سفر بہت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ اور آخر میں حمدیہ و نعتیہ شاعری ہی ان کا حوالہ
    بنی۔ اپنی ایک نعت میں خود ہی فرماتے ہیں کہ

    وہی اقبال جس کو ناز تھا کل خوش مزاجی پر
    فراق طیبہ میں رہتا ہے اب رنجیدہ رنجیدہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • متفق متفق × 1
  13. محسن وقار علی

    محسن وقار علی محفلین

    مراسلے:
    12,013
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    وہ موج تبسم شگفتہ شگفتہ، وہ بھولا سا چہرہ کتابی کتابی
    وہ سنبل سے گیسو سنہرے سنہرے، وہ مخمور آنکھیں گلابی گلابی

    کف دست نازک حنائی حنائی، وہ لب ہائے شیریں شہابی شہابی
    وہ باتوں میں جادو اداؤں میں ٹونا، وہ دزدیدہ نظریں عقابی عقابی

    کبھی خوش مزاجی، کبھی بے نیازی، ابھی ہوشیاری، ابھی نیم خوابی
    قدم بہکے بہکے نظر کھوئی کھوئی، وہ مخمور لہجہ شرابی شرابی

    نہ حرف تکلم، نہ سعی تخاطب، سر بزم لیکن بہم ہم کلامی
    اِدھر چند آنسو سوالی سوالی، اُدھر کچھ تبسم جوابی جوابی

    وہ سیلاب خوشبو گلستاں گلستاں، وہ سرو خراماں بہاراں بہاراں
    فروزاں فروزاں جبیں کہکشانی، درخشاں درخشاں نظر ماہتابی


    خوبصورت کلام۔بہترین شئیرنگ
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • متفق متفق × 1
  14. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    23,101
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    بہت اعلیٰ۔۔۔۔!

    عمدہ انتخاب ہے۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  15. نیرنگ خیال

    نیرنگ خیال لائبریرین

    مراسلے:
    18,632
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    بالکل بجا فرمایا آپ نے :)
    اور خوشی ہوئی کہ انتخاب آپ کو پسند آیا۔ :)

    بہت شکریہ محسن :)

    شکریہ احمد بھائی۔ آپ کو بھی انتخاب پسند آگیا۔۔ :)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  16. محمد علم اللہ

    محمد علم اللہ محفلین

    مراسلے:
    5,832
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Daring
    بہت زبردست شیرنگ
    مبارکباد
     
  17. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,288
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    واہ بہت ہی خوبصورت غزل
    ایک ایک شعر میرا پسندیدہ ہے۔
    سدا بہار غزل
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  18. نایاب

    نایاب لائبریرین

    مراسلے:
    13,421
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Goofy
    بہت خوب کلام شریک محفل کیا محترم نیرنگ بھائی
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  19. مہ جبین

    مہ جبین محفلین

    مراسلے:
    6,246
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    بہت عمدہ اور زبردست کلام کا انتخاب کیا ہے نیرنگ خیال
    جو گیسو سنہرے تھے اب نُقرئی ہیں، جن آنکھوں میں جادو تھا اب با وضو ہیں
    یہ پاکیزہ چہرے یہ معصوم آنکھیں، نہ وہ بے حجابی نہ وہ بے نقابی
    وہ عشق مجازی حقیقت میں ڈھل کر تقدس کی راہوں پہ اب گامزن ہے
    جو حسن نگاراں فریب نظر تھا، فرشتوں کی صورت ہے گردوں جنابی
    واہ واہ کیا بات ہے اقبال عظیم مرحوم کے کلام کی کہ عشقِ مجازی سے عشقِ حقیقی کا سفر بہت عمدگی سے طے کیا ہے
     
    • متفق متفق × 2
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  20. نیرنگ خیال

    نیرنگ خیال لائبریرین

    مراسلے:
    18,632
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    :)

    بہت شکریہ نایاب بھائی :)

    بالکل اپیا۔۔۔ درست فرمایا آپ نے :)
    اور انتخاب کی پسندیدگی پر مشکور ہوں :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر