1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $453.00
    اعلان ختم کریں

جگر وہ مجسّم مری نگاہ میں ہے - جگر مراد آبادی

کاشفی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 25, 2013

  1. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,371
    غزل
    (جگر مراد آبادی)
    وہ مجسّم مری نگاہ میں ہے
    اک جھلک جس کی مہروماہ میں ہے

    کیا کشش حُسنِ بےپناہ میں ہے
    جو قدم ہے اسی کی راہ میں ہے

    میکدے میں نہ خانقاہ میں ہے
    میری جنّت تری نگاہ میں ہے

    ہائے وہ رازِغم کہ جو اب تک
    مرے دل میں تری نگاہ میں ہے

    ڈگمگانے لگے ہیں پائے طلب
    دل ابھی ابتدائے راہ میں ہے

    عشق میں کیسی منزلِ مقصود
    وہ بھی اک گرد ہے جو راہ میں ہے

    میرے پندارِ عشق پر مت جا
    یہ ادا نازِ گاہ گاہ میں ہے

    نقشِ حیرت ہے آج حُسن بھی خود
    کون یہ عشق کی نگاہ میں ہے

    مستیء چشمِ یار کیا کہئے
    مے تو کیا میکدہ نگاہ میں ہے

    اللہ اللہ اتحادِ مذاق
    عالمِ دل بھی اب نگاہ میں ہے

    حُسن کو بھی کہاں نصیب جگر
    وہ جو اک شے مری نگاہ میں ہے
     
    • زبردست زبردست × 2
  2. شیزان

    شیزان لائبریرین

    مراسلے:
    6,469
    موڈ:
    Cool
    عمدہ انتخاب پر شکریہ کاشفی جی
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,371
    شکریہ شیزان جی غزل کی پسندیدگی کے لیئے۔۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,371
    غزل کی پسندیدگی کے لیئے شکریہ طارق شاہ صاحب!
     

اس صفحے کی تشہیر