غزل ۔ ہم نے پہلے دیکھ رکھے ہیں یہ تیرے سبز باغ ۔ محمد احمدؔ

محمداحمد

لائبریرین
غزل

عادتاً دیکھو تو دیکھو ہر سویرے سبز باغ
بقعہء اُمید میں ڈالیں نہ ڈیرے سبز باغ

اے مرے ہمدم اُلجھتا کیوں ہے تو مجھ سے بھلا
مختلف ہیں بس ذرا سے تیرے میرے سبز باغ

ہاتھ نیچے کرفسوں گر، مت ہمیں پاگل بنا
ہم نے پہلے دیکھ رکھے ہیں یہ تیرے سبز باغ

میں بھی ہوں محوِ تغافل، تو بھی ہے غفلت گزیں
میرے خوابوں سے کہاں بہتر ہیں تیرے سبز باغ

رات اک شب خون میں گزری مگر شاباش ہے
دیکھنے والوں نے دیکھے منہ اندھیرے سبز باغ

ساحر ِ شب تیرے فن کا معترف ہوں، واقعی
دلکش و رنگیں بہت ہیں سب یہ تیرے سبز باغ

اے خدا میرے چمن کو خیر خواہوں سے بچا
ایک نخلِ زرد اور اتنے لُٹیرے سبز باغ

ہم نے سینچا خود سرابوں سے انہیں احمدؔ، سو اب
دشت دل میں اٹ گئے دسیوں گھنیرے سبز باغ

محمد احمدؔ
 

جاسمن

مدیر
ایک ہی غزل میں اتنے ڈھیر سارے سبز باغات !
بہت ہی خوبصورت غزل ہے۔
ہر شعر لاجواب۔
ہر شعر پہ زبردست اور ہر زبردست پہ ڈھیروں زبریں۔
 
غزل

عادتاً دیکھو تو دیکھو ہر سویرے سبز باغ
بقعہء اُمید میں ڈالیں نہ ڈیرے سبز باغ

اے مرے ہمدم اُلجھتا کیوں ہے تو مجھ سے بھلا
مختلف ہیں بس ذرا سے تیرے میرے سبز باغ

ہاتھ نیچے کرفسوں گر، مت ہمیں پاگل بنا
ہم نے پہلے دیکھ رکھے ہیں یہ تیرے سبز باغ

میں بھی ہوں محوِ تغافل، تو بھی ہے غفلت گزیں
میرے خوابوں سے کہاں بہتر ہیں تیرے سبز باغ

رات اک شب خون میں گزری مگر شاباش ہے
دیکھنے والوں نے دیکھے منہ اندھیرے سبز باغ

ساحر ِ شب تیرے فن کا معترف ہوں، واقعی
دلکش و رنگیں بہت ہیں سب یہ تیرے سبز باغ

اے خدا میرے چمن کو خیر خواہوں سے بچا
ایک نخلِ زرد اور اتنے لُٹیرے سبز باغ

ہم نے سینچا خود سرابوں سے انہیں احمدؔ، سو اب
دشت دل میں اٹ گئے دسیوں گھنیرے سبز باغ

محمد احمدؔ
لاجواب غزل احمد بھائی۔
منفرد ردیف خوب نبھائی۔
 

عرفان سعید

محفلین
منفرد ردیف کے ساتھ شاندار غزل!
ان اشعار کی تو کیا ہی بات ہے
میں بھی ہوں محوِ تغافل، تو بھی ہے غفلت گزیں
میرے خوابوں سے کہاں بہتر ہیں تیرے سبز باغ

ساحر ِ شب تیرے فن کا معترف ہوں، واقعی
دلکش و رنگیں بہت ہیں سب یہ تیرے سبز باغ

ہم نے سینچا خود سرابوں سے انہیں احمدؔ، سو اب
دشت دل میں اٹ گئے دسیوں گھنیرے سبز باغ

کیا کیا شعروں میں احمد نے دکھائے سبز باغ
 

ظفری

لائبریرین
ہم نے سینچا خود سرابوں سے انہیں احمدؔ، سو اب
دشت دل میں اٹ گئے دسیوں گھنیرے سبز باغ

کیا بات ہے احمد بھائی ۔
 

منیب الف

محفلین
غزل

عادتاً دیکھو تو دیکھو ہر سویرے سبز باغ
بقعہء اُمید میں ڈالیں نہ ڈیرے سبز باغ

اے مرے ہمدم اُلجھتا کیوں ہے تو مجھ سے بھلا
مختلف ہیں بس ذرا سے تیرے میرے سبز باغ

ہاتھ نیچے کرفسوں گر، مت ہمیں پاگل بنا
ہم نے پہلے دیکھ رکھے ہیں یہ تیرے سبز باغ

میں بھی ہوں محوِ تغافل، تو بھی ہے غفلت گزیں
میرے خوابوں سے کہاں بہتر ہیں تیرے سبز باغ

رات اک شب خون میں گزری مگر شاباش ہے
دیکھنے والوں نے دیکھے منہ اندھیرے سبز باغ

ساحر ِ شب تیرے فن کا معترف ہوں، واقعی
دلکش و رنگیں بہت ہیں سب یہ تیرے سبز باغ

اے خدا میرے چمن کو خیر خواہوں سے بچا
ایک نخلِ زرد اور اتنے لُٹیرے سبز باغ

ہم نے سینچا خود سرابوں سے انہیں احمدؔ، سو اب
دشت دل میں اٹ گئے دسیوں گھنیرے سبز باغ

محمد احمدؔ
واہ، احمد بھائی!
کیا ہی رنگین بلکہ ایور گرین evergreen غزل ہے :)
مقطع لاجواب ہے :rose:
 
آخری تدوین:
واہ واہ! بہت خوب احمد بھائی !
؎ اے خدا میرے چمن کو خیر خواہوں سے بچا
اچھا مصرع ہے !

غزل کیا ہے حالاتِ حاضرہ پر جامع تبصرہ ہے ! اللہ قلم سلامت رکھے!
 

محمداحمد

لائبریرین
واہ واہ! بہت خوب احمد بھائی !
؎ اے خدا میرے چمن کو خیر خواہوں سے بچا
اچھا مصرع ہے !

غزل کیا ہے حالاتِ حاضرہ پر جامع تبصرہ ہے ! اللہ قلم سلامت رکھے!

بہت شکریہ ظہیر بھائی!

آپ کی طرف سے ملنے والی حوصلہ افزائی سے ہمت دو چند ہو جاتی ہے۔ :)
 

محمد عبدالرؤوف

لائبریرین
واہ واہ احمد بھائی! بہت ہی اچھی غزل ہے۔
اور سدا بہار غزل ہے۔ سدا بہار اپنی خوبصورتی کی وجہ سے بھی اور اس لیے بھی کہ ہمارے ہاں ہر چیز اور ہر نظریے کو زوال آیا سوائے ان "سبز باغات" کے، جن کی نشاندہی آپ نے اپنے ہر ہر شعر میں کی۔
ڈھیروں داد قبول کیجئے
 
Top