غامدی صاحب بھی امریکہ منتقل ہو گئے

جاسم محمد نے 'متفرقات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 11, 2019

  1. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    14,170
    جھنڈا:
    Pakistan
    ماشاء اللہ۔۔۔
    کم از کم ہمیں تو کافی مفید ، کارآمد اور رہنما باتیں معلوم ہوئیں!!!
    :):):)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  2. ابو ہاشم

    ابو ہاشم محفلین

    مراسلے:
    886
    فرض کریں وہ بات قرآن میں ہو تو؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  3. فہد اشرف

    فہد اشرف محفلین

    مراسلے:
    7,085
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Relaxed
    پروفیسر ایل کے حیدر شعبۂ معاشیات علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے صدر شعبہ تھے۔ ان کا ذکر اطہر پرویز کی کتاب علی گڑھ سے علی گڑھ تک میں بھی ہے۔
    [​IMG]

    [​IMG]

    [​IMG]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • زبردست زبردست × 1
  4. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    14,170
    جھنڈا:
    Pakistan
    جی علماء کرام اس بات کا جواب دیں کہ کیا قرآن کا ایسا کوئی حکم ہے جس پر ان ادوار میں عمل نہ کیا گیا ہو یا ان کی تشریح نہ کی گئی ہو؟
     
    • متفق متفق × 3
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. فہیم

    فہیم لائبریرین

    مراسلے:
    33,426
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Sleepy
    جی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ان کا آخری پیشہ تھا۔ اور ایک لحاظ سے سب سے ہلکا بھی۔ کیونکہ اس سے پہلے وہ انگریز سرکار میں کئی اہم عہدوں پر فائز رہے تھے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  6. بافقیہ

    بافقیہ محفلین

    مراسلے:
    523
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Volatile
    اپنی علمی کم مائیگی اور بے بضاعتی کے باوجود کچھ لکھنے کی جسارت کررہاہوں۔ کیونکہ ٹیگ کرنے کے باوجود شریک نہ ہونا علمی خیانت نہ سہی ، لیکن حالات نے اسے معاشرتی اور اجتماعی خیانت ضرور بنا رکھا ہے۔
    قرآن میں اکثر احکام بالکل واضح اور صاف ہیں۔ ہاں کچھ احکام پر شروع دور سے علمی اختلاف رہا ، اور بعض نے اس کی تشریح میں بعض ایسے مسائل پیش کئے جو ہر زمانے میں ناقابل قبول رہے۔ لیکن قرآن میں غور و خوض اور اس کے معانی میں غوطہ زنی ہر زمانے میں فاضل اور انقلابی شخصیات کرتی رہیں۔ اور اس کے ناپیدا کنار سمندر سے نئے نئے موتی چن کر لاتی رہیں۔
    لیکن کوئی زمانہ ایسا نہیں گزرا کہ قرآن کے کسی حکم ، کسی آیت اور کسی مفہوم کو تشنہ رکھا گیا ہو۔

    اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ قرآن کی تفسیر اور حدیث کی تشریح ایک نازک عمل ہے۔ اور اس کی صلاحیت کم ہی اشخاص میں ہوتی ہے۔ کیونکہ اس میدان میں قدم رکھنے کیلئے کم از کم اٹھارہ علوم و فنون میں مہارت تامہ کی ضرورت ہے۔ لفظ اٹھارہ ہی کافی ہے ۔ پوری بات خاطر خواہ سمجھنے کیلئے۔ ان اٹھارہ علوم کے ساتھ ضروری ہے کہ بالعموم جمہور کا ہمنوا ہو۔ ہم علامہ ابن تیمیہ ،علامہ ابن القیم اور امام غزالی وغیرہ کو بہت سے مسائل میں اختلاف کے باوجود انھیں امام کہتے ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ ان حضرات کی تصنیفات امت مسلمہ کا وہ لازوال کرشمہ ہے کہ جس نے تقریبا ہر ایک فن کو ایک نئی ڈگر دی۔ ان کے اختلاف کے ساتھ ان کے پاس ایسے ٹھوس دلائل ہوتے ہیں کہ اچھے اچھوں کے سر چکرانے لگتے ہیں۔
    اور جہاں تک حال یا ماضی قریب کی مختلف فیہ شخصیات کا تعلق ہے ۔ ان کے دلائل عوام کو تو بھاری نظر آتے ہیں لیکن ایک عام سی صلاحیت کا عالم بھی بلاجھجک اس پر انگلی رکھ کر نشاندہی کرسکتا ہے۔
    اور میرے حقیر خیال میں ’’ جس کو جمہورعلماء غلط سمجھتے ہیں وہ عقیدہ غلط ، وہ فیصلہ غلط، وہ مسئلہ غلط‘‘ ۔ ہاں البتہ اگر کچھ علماء کا خیال ہو کہ ان کا یہ نظریہ غلط ہے ۔ تو وہ میدان کھلا ہے‘‘۔ اس میں کچھ افہام و تفہیم کی کوشش ہوسکتی ہے۔

    چھوٹا منھ بڑی بات :-(
     
    آخری تدوین: ‏اکتوبر 19, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ × 8
  7. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    14,170
    جھنڈا:
    Pakistan
    جزاک اللہ خیرا!!!
     
    • دوستانہ دوستانہ × 2
  8. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    38,909
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Bookworm
    میرے خیال سے کالم نگار نے اس انداز سے بات کر کے ٹھیک نہیں کیا کہ بنیادی بات ہاشمی اور ان کی اولاد کا مغرب میں رہنا تھی اور وہ حقیقت ہی ہے۔

    جہاں تک مجھے علم ہے فرحت ہاشمی کا کینیڈا میں ورک پرمٹ کا دس پندرہ سال پہلے کچھ مسئلہ ہوا تھا۔ اس سلسلے میں کی گئی قانونی چارہ جوئی کے کچھ ریکارڈ اخبارات میں آئے تھے
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  9. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,867
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    میرا غامدی صاحب سے اختلاف ہے نہ اتفاق البتہ چند دن قبل ایک سبب سے ان سے ان کے گھر پر ملاقات ہوئی اور اچھی نششست رہی۔ زیادہ تر تو وہ بولنے کی بجائے ہمارے ایک زود گو دوست کو سنتے ہی رہے۔ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  10. ابن جمال

    ابن جمال محفلین

    مراسلے:
    468
    بنیادی طورپر کالم نگار نے محض دوچار افراد کو مغرب میں مقیم دیکھ کر ایک فیصلہ کرلیا،اس کے بالمقابل وہ ہزاروں جید علماء جواپنے وطن میں ہی مقیم ہیں اورمغرب میں مقیم ہونے کی استطاعت کے باوجود اپنے وطن میں ہی دینی خدمات انجام دے رہے ہیں، ان کی جانب مضمون نگار کی نگاہ نہیں گئی، جب کہ علم عمل ، دین واخلاق ،دیانت وشرافت ،سب میں اپنے ملک میں مقیم رہ کر دینی خدمات انجام دینے والے مغرب میں بسنے والے علماء (جن کا ذکر کیاگیاہے)میلوں آگے ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  11. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    3,697
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    اس کا پس منظرمیں آپ کو بتادیتا ہوں ۔ ڈاکٹر فرحت ہاشمی اور ان کے شوہر ڈاکٹر ادریس زبیر پہلی دفعہ 2004 میں کینیڈا مدعو کئے گئے تھے ۔ ڈاکٹر صاحبہ کو مسی ساگا کی مقامی کمیونٹی نے لیکچرزدینے کے لئے بلایا تھا ۔الحمدللہ ان کے پروگرام اتنے مقبول ہوئے کہ اگلے سال انہیں پھر بلایا گیا ۔ ان کے پروگرامزکی بدولت پہلی دفعہ مقامی خواتین نے مسجد آنا شروع کیا اور باقاعدہ قرآنی علوم کی تعلیم کا آغاز کیا ۔ اسی سال مقامی کمیونٹی نے الہدیٰ اسلام آباد کی طرز کا ایک انسٹیٹیوٹ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ۔ چنانچہ ISNA اور مسی ساگا کی ایک مسجد نے ان کو مذہبی ورکر کے طور پر اسپانسر کیا ۔ بدقسمتی سے ہمارے پاکستانی بھائی ہر معاملے میں اپنے روایتی عدم احساسِ ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ چنا نچہ ان کے کاغذات پوری معلومات کے ساتھ درست طور پر فائل نہیں کئے گئے اور امیگریشن نے تکنیکی بنیادوں پر واپس کردیئے ۔ تصحیح کے بعد دوبارہ فائل کئے گئے تو اس بناء پر واپس کردئے گئے کہ ان کی تنخواہ عام معمول سے بہت زیادہ تجویز کی گئی تھی ۔ ان ساری باتوں کی ایک مذہب بیزار طبقے کی طرف سے بہت تشہیر کی گئی۔ حالانکہ امیگریشن کے یہ اقدامات مذہبی ورکرز اور دیگر مخصوص ویزا پر آنے والوں کے لئے معمو ل کی باتیں ہیں اور روزانہ کے قصے ہیں ۔ قصہ مختصر یہ سارے معاملات کچھ تاخیر کے بعد بحسن و خوبی انجام پاگئے ۔ اور الحمدللہ مسی ساگا میں الہدیٰ انسٹیٹیوٹ اب ایک عرصے سے کامیابی سے چل رہا ہے ۔ یہ تمام باتیں ڈاکٹر صاحبہ کی ذاتی ویب گاہ پر بھی تفصیل کے ساتھ مل جائیں گی ۔ ڈاکٹر صاحبان ٹورونٹو میں نہیں رہتے ۔ اسلام آباد میں رہتے ہیں ۔ یہاں صرف سال میں چند مہینوں کے لئے کورس پڑھانے آتے ہیں۔ ان دنوں بھی دونوں ڈاکٹر صاحبان یہاں مسی ساگا آئے ہوئے ہیں اور آج صبح ہی ڈاکٹرصاحبہ نے سالانہ گریجویشن کی تقریب کی صدارت کی تھی ۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ان کی عمر اور صحت میں برکت دے اور ان کے تعلیمی کام کو جاری و ساری رکھے ۔ آمین ۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  12. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    3,697
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    فرخ بھائی ، تو گویا غامدی صاحب کی امریکا نقل مکانی کی یہ خبر درست نہیں ؟!
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  13. ابو ہاشم

    ابو ہاشم محفلین

    مراسلے:
    886
    میں نے بھی سنا ہے کہ کچھ دنوں کے لیے کینیڈا گئے تھے
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  14. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    27,810
    یہ تو فطری سی بات ہے۔ ہر عمل کا ایک رد عمل آتا ہے۔
    بظاہر یہاں مغرب میں مقیم تارکین وطنوں کو مقامی اکثریت سے کوئی خاص مسئلہ نہیں ہے۔ البتہ جب مذہب کے نام پر گندی سیاست یہاں بھی شروع ہو گئی تو مقامی آبادی کی طرف سے ردعمل تو آنا چاہئے تھا۔ اور آیا۔ چونکہ یہ مغربی ممالک سیکولر ہیں اس لئے یہ نہیں چاہتے کہ ان کے وطین کا بھی وہی حال ہو جو مسلم ممالک میں بڑھے ہوئے مذہبی اثر رسوخ کے بعد ہوا ہے۔
     
  15. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,867
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    جی درست ہے۔ امریکہ منتقلی سے پہلے ان کے بیٹھے کے گھر پر ان سےملاقات ہوئی تھی۔ البتہ اس وقت مجھے معلوم نہیں تھا کہ غامدی صاحب امریکہ منتقل ہو رہے ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  16. امان اللہ خان

    امان اللہ خان محفلین

    مراسلے:
    174
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    نا چیز ابتدا سے اسی فلسفے پر گامزن ہے۔ میرا مسلک دو سو فیصد یہی ہے۔ ہزار زبانیں ہزار باتیں۔۔۔۔ میں جب سے اس محفل میں آیا ہوں تب سے میں نے کسی مذہبی مکالمے میں حصہ نہیں لیا۔ اسی لیے اس لڑی کو دیکھنے کے باوجود حصہ لینے سے محترز ہوں۔
    شکریہ عبید بھائی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  17. فاروق سرور خان

    فاروق سرور خان محفلین

    مراسلے:
    3,200
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Breezy
    ٓٓٓآپ کے نکات اور اللہ تعالی کا جواب، سورۃ القمر میں چار بار اللہ تعالی کی گواہی۔
    54:17 وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
    اور بیشک ہم نے قرآن کو نصیحت کے لئے آسان کر دیا ہے تو کیا کوئی نصیحت قبول کرنے والا ہے

    10:36 وَمَا يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلاَّ ظَنًّا إِنَّ الظَّنَّ لاَ يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا إِنَّ اللّهَ عَلَيمٌ بِمَا يَفْعَلُونَ
    ٓ ان میں سے اکثر لوگ صرف گمان (تکے بازی) ٓ کی پیروی کرتے ہیں، بیشک گمان (تکے بازی) حق (سچ) ٓسے معمولی سا بھی بے نیاز نہیں کرسکتا، یقیناً اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں

    ٓوالسلام

    ٓ
     
    • زبردست زبردست × 1

اس صفحے کی تشہیر