سہ ماہی اردو محفل ۔۔۔ اکتوبر تا دسمبر 2019

محمداحمد نے 'اردو نامہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 10, 2019

  1. محمد شکیل خورشید

    محمد شکیل خورشید محفلین

    مراسلے:
    177
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Tolerant
    سر ایک نثری تحریر چند ماہ پہلے ایک آن لائن میگزین میں شامل ہو چکی، کیا یہاں قابلِ قبول ہو گی؟
     
  2. فائضہ خان

    فائضہ خان محفلین

    مراسلے:
    17
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Persnickety
    کسی کی تسبیح سے گری ہوں میں مثلِ موتی بکھر گئی ہوں
    کسی کے دل میں اُتر گئی ہوں، کسی کے دل سے اُتر گئی ہوں

    ہیں زائرینِ حرم ہراساں، صنم کدوں میں صنم پریشاں
    ترے جہاں سے مرے خدایا، شناسا ہوتے ہی ڈر گئی ہوں

    بڑا قلق تھا بڑی خلش تھی، سنور رہی تھی میں دھیرے دھیرے
    بڑا مزہ ہے بڑی عطا ہے، بڑے سکوں سے بکھر گئی ہوں

    مرے شناسا تری شناسائی کیا تماشا یہ کر گئی ہے
    تھی اجنبیت سی اجنبیت، کبھی جو اپنے میں گھر گئی ہوں

    وہ چشمِ حیرت، لبِ تبسم، عجیب جادو سا کر گئے ہیں
    کسی کی صورت میں ڈھل گئی ہوں، بدل گئی ہوں، نکھر گئی ہوں

    میں ایک اُجڑے محل کے کھنڈر بڑی ہی حیرت سے تک رہی تھی
    وہ میرے مانند لگ رہا تھا، میں اس کے مانند اُجڑ گئی ہوں

    از قلم فائضہ خان
     
    • زبردست زبردست × 4
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    7,796
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    کھنڈر کے تلفظ پر ایک نظر ڈالنے کی ضرورت ہے باقی غزل لاجواب ہے۔
     
    آخری تدوین: ‏اکتوبر 19, 2019
  4. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    7,796
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    پیش کردیجیے حوالے کے ساتھ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. محمد شکیل خورشید

    محمد شکیل خورشید محفلین

    مراسلے:
    177
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Tolerant
    شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. محمد شکیل خورشید

    محمد شکیل خورشید محفلین

    مراسلے:
    177
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Tolerant
    ایک نثری تحریر پیشِ خدمت ہے، چند ماہ پہلے ایک آن لائن میگزین "ہم سب" میں شامل ہو چکی ہے، محترم محمد خلیل الرحمن صاحب کی حوصلہ افزائی پر پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں

    ریسٹ اِن پیس بیوی
    از محمد شکیل خورشید


    " مجھے جانے دیں خدا حافظ، ٹھیک ہے"

    پانچ جنوری 2019 کی شام سی ایم ایچ لاہور کے آئی سی یو میں تاروں، ٹیوبوں، پٹیوں، نالیوں، پائپوں اور بوتلوں میں جکڑی ہوئی، نیم غنودگی یا بیہوشی کے بین بین کسی کیفیت میں یہ اس کے آخری الفاظ تھے جو میری سماعت نے سنے۔ اتنی نحیف آواز کہ سننے کے لیئے کان آکسیجن ماسک کے ساتھ لگانا پڑے۔

    اگلے دن علی الصبح وہ چلی گئی چھبیس سال کی رفاقت، اکیس سال کی جانکاہ بیماری اور انچاس سال کی زندگی سے بھرپور زندگی ۔ ایک سانس کے بعد اگلی سانس کی عدم دستیابی سے تمام ہوئی۔

    1989 کی ایک شام گھر فون کیا تو امی نے پوچھا " کہیں کوئی چَکر وَکر تو نہیں چل رہا، تمہارے رشتے کا سوچ رہے ہیں۔" زمانہ قبل از موبائل و انٹرنیٹ کی بات ہے، ہفتے میں تین چار بار آپریٹر کی مہربانی سے "لانگ ڈسٹینس" کال مِل جاتی تو غنیمت ہوتی تھی۔ اگلی کال میں پتہ چلا ماموں کے ہاں بات چل رہی ہے۔ اس سے اگلی کال پر ہاں کی خبر اور اس سے اگلی پر منگنی کی۔ "ہم رسم کر آئے ہیں، اگلے ہفتے عید کے لیئے آرہے ہو تو وہ بھی آ کر رسم کر لیں گے۔"

    1992 میں ویلنٹائن ڈے کے غلغلے سے تعارف ہونے سے کہیں پہلے 14 فروری کو وہ میرے عقد میں آئی اور اسی سال 27 نومبر کو رخصتی ہوئی۔

    وہ کیا تھی؟ سیماب صفت؟ الھہڑ؟ نٹ کھٹ؟ چلبلی؟ شائد یہ سب کچھ، اور اس سے بہت زیادہ۔ 1997-98 کی سردیوں میں جان لیوا مرض تشخیص ہوا۔ حالت یہ تھی کہ انگلی میں گینگرین کا خطرہ تھا اور تکلیف کی شدت اتنی کہ آنکھ لگتی تو درد سے جاگ جاتی۔ مگر زندہ دلی کا وہ عالم کہ میری بہن عیادت کے لیے گھر آئیں تو وہ اپنی کھنک دار آواز میں کسی بحث مین مگن تھی۔ میری بہن کہنے لگیں " لو مریض کی آواز تو باہر گلی تک آرہی ہے"۔ اس زندہ دلی کے سہارے ہی ساری زندگی گذر گئی۔ لوگ حیران بھی ہوتے تھے، غلط فہمی کا شکار بھی ہوتے تھے اور شک بھی کرتے تھے۔ یہ بہتان بھی لگا کہ "انیلا کا تو جب دل چاہتا ہے بیمار پڑ جاتی ہے" شائد یہ بات اتنی غلط نہیں، صرف تھوڑی الٹ تھی۔ بیماری کے باوجود جب وہ اٹھنے کی ٹھان لیتی تو کسی کو پتہ ہی نہ چلتا کہ اس ہنس مکھ، تازہ دم چہرے کے پیچھے کرب، تکلیف اور کمزوری کی کتنی پرتیں دفن ہیں۔

    میں کبھی کبھی سوچتا تھا کہ مجھ جیسا سہل پسند، سست الوجود شخص، اگر یہ اپنی بیماری کے ہاتھوں مجبور نہ ہوتی تو کیسے اس کی افتادئ طبع کا ساتھ دے پاتا۔ اسے خود بھی احساس تھا، کبھی مسکراتی اٹھلاتی ہوئی ترنگ میں آ کر کہتی، خدا نے بھی مجھے باندھ کر آپ کے حوالے کیا ہے کہ پر نہ مار سکوں۔ لیکن ایسا نہیں تھا۔ اس نے زندگی سے ہار نہیں مانی۔ ہاں ایک طرزِ زندگی عام لوگوں سے مختلف اختیار کرنا پڑا، مگر اس نے کبھی بیماری کو خود پر حاوی نہیں ہونے دیا۔ اسی لئے بہت قریبی ملنے جلنے والوں کو بھی اس کی گرتی صحت کا درست اندازا نہیں تھا۔

    بیماری کی تشخیص کے بعد ابتداَ صحت سنبھلنے پر ٹھانی کہ جاب کرنی ہے۔ پنجاب یونیورسٹی میں پروفیسر حسن عسکری اور پروفیسر قزلباش جیسے اساتذہ کی شاگرد رہی تھی۔ راولپنڈی میں فضائیہ کے کالج میں سوکس کی لیکچررشپ کے لیئے انٹرویو ہوا۔ پوچھا پڑھانا کیوں چاہتی ہیں، جواب دیا، سوکس اور پاکستان سٹڈیز ہمیشہ بور مضامین سمجھے جاتے ہیں، میں انہیں دلچسپ بنا کر پڑھانا چاہتی ہوں۔ اور پھر اس نے ایسے ہی کیا، چکلالہ میں فضائیہ سکول ہو، اسلام آباد کا پنجاب گروپ آف کالجز کا کیمپس یا لاہور میں فضائیہ کالج آف ایجوکیشن فار ویمن۔ سب جگہ اس کا ماٹو یہی رہا۔ اس کی موت کی خبر سن کر اس کے ایک سٹوڈنٹ برہان نے میسیج کیا (ترجمہ) " -----وہ ایک آئیڈیل استاد تھیں، ایک ماں کا دل اور صوفی کی روح لیئے۔ میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا، درحقیقت جو سبق انہوں نے مجھے سکھائے وہ نہ کتابوں میں مل سکتے ہیں نہ ہی لفظوں میں سمجھائے جا سکتے ہیں"

    وہ کوئی فرشتہ نہیں تھی۔ بھر پور انسان تھی، انسانیت کی تمام کجیوں، کوتاہیوں، کمزوریوں کے ساتھ، لڑتی تھی، جھگڑتی تھی، غصہ کرتی تھی، پریشان ہوجاتی تھی، ناراض ہوجاتی تھی، دکھی ہوجاتی تھی۔ لیکن پھر اُٹھ کھڑی ہوتی تھی۔ کسی ٹیڑھے رشتہ دار سے، دنیا سے، معاشرے سے، اپنی بیماری سے نبردآزما ہونے کے لئیے۔ 2010 میں کوما میں چلی گئی، میں نے اس کے ڈاکٹر ونگ کمانڈر فواد احمد سے پوچھا، واپس آپائے گی؟ کہنے لگے فائیٹر ہیں، یقیناَ آئیں گی، شائد کچھ دن لگ جائیں۔ اور وہ عظیم فائیٹر دس گھنٹوں میں آنکھیں کھولے شام کو بیٹے کی سکول میں ایوارڈ تقریب میں شمولیت کے لیئے مجھے ہدایات دے رہی تھی۔ پھر لوگ کیوں نہ سمجھتے کہ وہ اپنی من مرضی سے بیمار ہوتی ہے۔

    2006 میں جگر کا عارضہ تشخیص ہوا۔ پرانی بیماری بدستور لاحق تھی۔ سی ایم ایچ کے آفیسرز وارڈ میں نرس کچھ ٹیسٹ کے لیئے خون کا نمونہ لینا چاہ رہی تھی اور وہ حسبِ عادت چٹکلے چھوڑ رہی تھی اور اٹھکیلیاں کر رہی تھی۔ نرس نے سٹپٹا کر پوچھا " آپ کو پتہ بھی ہے آپ کتنی سیریس بیمار ہیں؟"، اس نے پٹ سے جواب دیا "ابھی مری تو نہیں ناں"

    ڈاکٹرز ہمیں مسلسل قصداَ یا غیر ارادی طور پر اس امکان سے آگاہ کرتے رہے۔ غالباَ 2008 یا 2009 کی بات ہے، ایک نئے میڈیکل سپیشلسٹ کے پاس معائنے کے لیئے گئے تو بیماری کا سن کر پوچھا کب تشخیص ہوئی؟ بتایا تقریباَ دس گیارہ سال ہو گئے ہیں۔ بے ساختہ بولے بڑا ٹائم نکال گئی ہیں آپ تو۔ پھر فوراَ سنبھل کر کہنے لگے میرا مطلب ہے بڑی ویل مینیجڈ ہے آپ کی بیماری۔ وقتاَ فوقتاَ ایسی باتیں سن سن کر اور بارہا اسے موت کے منہ میں جاتے اور پھر واپس آتے دیکھ کر میں اور بچے بیک وقت دو متضاد ذہنی کیفیتوں کا شکار تھے۔ ایک سطح پر ہم ہمہ وقت اس سانحے کے لئے ذہنی ظور پر تیار رہتے تھے جبکہ دوسری طرف یہ امید بھی بندھی رہتی تھی کہ ہسپتال جائے گی، بیماری سے دو دو ہاتھ کرے گی اور ہنستی مسکراتی واپس آجائے گی۔

    اس بار بھی ہم اسی ذہنی کیفیت کا شکار تھے۔ جبکہ بظاہر تکلیف بھی اتنی شدید نہیں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ جب میں نے اسے کہتے سنا کہ " مجھے جانے دیں خدا حافظ، ٹھیک ہے" تو بیک وقت میں دونوں ہی کیفیتوں کا شکار تھا۔ یہ فیصلہ ہی نہ کر پایا کہ یہ کتنا سچ اور کتنا وہم ہے۔ کبھی سوچتا ہوں اس فائیٹر کو اگر میں جواب میں کہہ دیتا کہ نہیں یہ ٹھیک نہیں ہے تو کیا معلوم وہ اس بار میری خاطر ہی رک جاتی۔

    چھ جنوری کی اوس میں بھیگی سرد صبح کو آئی سی یو میں ڈیوٹی نرس اپنے پروٹوکول کے حساب سے مجھے سمجھا رہی تھی

    "سر مانیٹر پر یہ پلس دل کی دھڑکن ظاہر کرتی ہے۔ یہ لایئن سیدھی ہوجائے تو اس کا مطلب ہے اب زندگی کی کوئی رمق نہیں ہے۔ ہم نے تمام پروسیجر کر کے دیکھ لئے ہیں، آئی ایم سوری"

    لائین سیدھی ہو جانے کا مطلب یعنی اب زندگی نہیں رہی۔ تو کیا لائین کا ٹیڑھ ہی زندگی ہے؟ اگر سیدھی لائین موت ہے تو کیا ہر دھڑکن کے بعد اگلی دھڑکن تک کی سیدھی لائین بھی اُس لحظہ کی موت ہے؟ کیا ہر دھڑکن کے بعد انسان موت چکھ کر اگلی دھڑکن میں دوبارہ جی اُٹھتا ہے؟

    دعاؤں، سسکیوں، تسلیوں، رسموں، دلاسوں اور مہیب سناٹے کے بعد آج میں تصور کرنا چاہوں تو وہی چلبلی، سیماب صفت تصویر ابھرتی ہے جو برزخ میں مجلس سجائے بیٹھی ہو گی اور منکر نکیر پوچھ رہے ہوں گے " آپ کو پتہ بھی ہے آخر کار آپ مر چکی ہیں؟"

    ریسٹ اِن پیس بیوی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • زبردست زبردست × 1
    • غمناک غمناک × 1
  7. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی محفلین

    مراسلے:
    17,845
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    ماشاءاللہ ،
    بہت لاجواب ، زبردست شعر
    شاندار غزل ہے بہنا ۔
     
  8. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    7,796
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive


    جس شعر پر ہم نے اعتراض کی جسارت کی تھی اسے استاد صاحب نے پاس کردیا ہے ورنہ ہم نے تو کھنڈر کو اس طرح استعمال کیا ہے۔

     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی محفلین

    مراسلے:
    17,845
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    سر ہم نے تو شعر کو مفہوم کے حوالے سے داد دی ہے ۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  10. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,726
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    کھنڈر کا ن غنہ ہی درست ہے، معلنہ نہیں فائضہ یا تو اس شعر کو بدل دیں یا نکال دیں
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  11. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    21,840
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    دلچسپ ہے۔

    اور آخری جملہ بڑا مزے دار ہے۔ :)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  12. فائضہ خان

    فائضہ خان محفلین

    مراسلے:
    17
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Persnickety
    ایک بار کوئی نثر یا غزل لکھ لوں اسکے بعد لاکھ کوشش کے بھی ردو بدل ہو بھی جائے تو میرے خود کے دل سے ہی اتر جاتی ہے ۔۔۔۔ :(
    ایک نثر پیش خدمت ہے ۔۔۔ امید ہے شاید آپ سب کو۔پسند آئے ۔۔۔۔
    سب کا بہت شکریہ جنہوں نے میری حوصلہ افزائی کی اور میری غزل میں خامیوں کی نشاندہی کی ۔۔۔۔ بے حد مشکور ہوں ۔۔۔ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  13. فائضہ خان

    فائضہ خان محفلین

    مراسلے:
    17
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Persnickety
    《 مات 》

    کھل جا سم سم۔۔۔۔۔ کھل جا سم سم ۔۔۔ کھل جا سم سم ۔۔۔ عمر بھر کے اصولوں کی چٹان کے سرکنے کی گڑگڑاہٹ سنائی دیتی گئی ۔۔۔۔ سوچ کے گھوڑوں کے ٹاپوں کی بازگشت اسقدر قریب سنائی دینے لگی گویا کنپٹیوں کی رگیں پھول کر پھٹ جائیں گی ۔۔۔۔ اس کے بعد مکمل خاموشی ۔۔۔۔۔ گہرا سکوت ۔۔۔۔۔ ایسا جمود کہ صبر نے بھی مرثیے پڑھ ڈالے کہ یہ ظلم ہے ظلم در ظلم ۔۔۔ کہ اس مغاک خاک کو مزید اذیت نہ دی جاوے ۔۔۔۔ میرے لب خاموش ہوچکے ہیں کہ گنجفہ کے چھیانوے پتوں کی چال چلی جاچکی کہ آٹھ رنگوں میں روز و شب یوں رنگا گیا کہ تین میں تقسیم ہوتی رہی ۔۔۔۔ تلخیِ ایام کو گھونٹ گھونٹ پی کر ہر بار یہی گمان رہا کہ مسافت ختم ہونے کو ہے پر ۔۔۔۔۔ اپنی اپنی حسرتوں کے جام تھامے۔۔۔۔ سبھی مےخوار دائرے میں پاسے پھینکتے گئے ۔۔۔
    میں چھیانوے بار تمہاری ہار جیت میں تقسیم کردی گئی ۔۔۔ہر پتا تم بڑے مان سے پٹختے تھے اور میں اسی مان سے ہوا میں لہراتے ہوئے خود کو زمین کی سختی پر چور چور ہوتا محسوس کرتی رہی کہ وقت آخر جیت میری ہے۔۔۔۔
    بس اب تو جیت میرا مقدر ہوئی تو اب ہوئی لیکن ۔۔۔۔ آخری حد پر بھی پاسے کے پلٹتے پلٹتے پھر تین میں بٹ گئی ۔۔۔۔
    شطرنج کی کھلاڑی۔۔۔۔ کالے سفید رنگ میں دنیا کھوجنے والی۔۔۔۔ اپنی ذات میں بتیس مہروں جیسی میں "شاہ زادی" ۔۔۔۔ مجھے میرا شہ بچانا تھا ۔۔۔ اس شہ کو سبھی خانوں میں آزاد رکھ کر خود کالے خانوں میں مقید رہی کیونکہ مجھے جذب کرنا تھا ۔۔۔۔ کہ ۔۔۔
    سفید رنگ سے سب رنگ پهوٹتے ہیں اور کالے رنگ میں سب جذب ہو جاتے ہیں۔۔۔۔ عشق سفید ہے ۔۔۔۔ عشق کالا ہے۔۔۔۔۔
    یہی وعظ دیتے دیتے میرا گلا بیٹھ چکا ہے ۔۔مگر۔۔۔۔ میری ہمت کسی مرد مجاہد کی طرح چند لمحہ قبل تک جوان تھی کہ گنجفہ کے تیسرے شہ کو مات دیکر میں نے اپنا شہ بچا لیا۔۔۔۔پر ۔۔ مجھے مات ہوئی ۔۔۔۔ کہ عدم کی مٹی سے اپنا نصیب لکھوا بیٹھی ۔۔۔ اپنی بساط سے بڑھ کر تمہاری ہوتی گئی ۔۔۔۔ اب مجھ پر موت کی اذیت گراں نہ گزرے گی۔۔۔۔ کہ مجھے مات ہوئی ۔۔۔۔
    آؤ سوختہ جگر ۔۔۔۔۔ آؤ مرض عشق کے اسیرو۔۔۔۔ سنو ۔۔۔ جاں نثاری کے شدید جذبے میں پوشیدہ "جبر" کی دلکشی عین اس وقت بے نقاب ہوئی جب کشتیوں کی راکھ بھی ناجائز بچے کی مانند کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دی گئی ۔۔۔۔
    مجھے رشک آتا تھا پروانے کی قسمت پر کہ
    کتنی مدت سے وہ اس دن کا منتظر رہتا ہے جب شمع کی لو اُسے جلائے گی ۔۔۔۔ عجیب کیفیت سے دوچار۔۔۔۔۔ ایک عجیب طمانیت کے ساتھ اپنے پروں کو جلتا دیکھے گا ۔۔۔۔طواف کرتے کرتے آخر کو جاں نچاور کر دیگا ۔۔۔۔ اور شمع اپنی مدھم ہوتی لو میں سب منظر دھندلا کر اسکی خاک کو بھی بے وقعت کردے گی کہ جلنا تو پروانے کا فرض تھا۔۔۔ اب اس میں کیسی قبولیت کیسا مان؟ ۔۔۔
    اسطرح تو نہ داستاں گو کا قصہ ختم ہووے ہے نہ ہی شب کی درمیانی پہر کا کسیلا پن ۔۔۔۔۔
    تم عروج ٹھہرے اور میں زوال ۔۔۔۔
    میں "شاہ زادی" اپنا زوال قبول کرتی ہوں کہ اس کائنات کی کوئی شے تمہیں مطمئن نہ کرسکی سوائے میرے۔۔۔۔ مگر دیکھو مجھے مات ہوئی ۔۔۔
    میں قبول کرتی ہوں کہ محبت کی بنیاد کی پختگی میں جو جذبوں کا گارا استعمال ہوا وہ میرے لیے تو تھا ہی نہیں مگر محبت کے محل کی عمارت کی پختگی دیکھو اس کو بڑے بڑے طوفاں بھی نہ ہلا سکے ۔۔۔۔ مگر مجھے مات ہوئی ۔۔۔
    لو قبول کیا کہ محبت سے عشق کے کٹھن زینے کو چڑھنے کے لیے مجھے آنکھوں کے بل آنا پڑا ۔۔۔۔ اور جب میں نے آخری سیڑھی پر قدم رکھا تو عشق کی کرن تمہارے دل میں ابھری یعنی لمبی مسافت تک میں تنہا تھی؟ ۔۔۔۔ تم عروج ہو میرا زوال ہوا کہ ۔۔۔۔ مجھے مات ہوئی ۔۔۔۔
    یہ محبت میری کوکھ سے پھوٹی تھی اسکو اپنی انا کی خاتمے کا اناج کھلا کر عشق میں نے بنایا آج تم اس کے سرپرست بننا چاہتے ہو ؟ ۔۔۔۔
    جبکہ تمہیں تب تو محبت ہی نہ تھی جب تم بھی اسکی تخلیق کے مراحل میں میرے ساتھ کھڑے تھے ۔۔۔ وہ تو محض تمہارا گمان تھا وہ سایہ تھا ۔۔۔۔ میں تو تنہا تھی روتی بلکتی اجڑتی بکھرتی ۔۔۔۔ آج تم فاتح ٹھہرے ۔۔۔ اور ۔۔۔۔ مجھے مات ہوئی ۔۔۔
    سنو ۔۔۔
    تمہیں جیت دے کر میں نے مات قبول کی ۔۔۔۔۔ کہ یہ عشق میں تمہیں " اپنے ہوش و حواس میں سونپتی ہوں کہ تم تنہا اس کے سرپرست ٹھہرے "۔۔۔

    جانتے ہو روشنی گدلے پانی سے نہیں چھنتی۔۔۔۔۔ وہ خود گدلی ہو جاتی ہے ۔۔۔۔ میں نے گھوڑے کی ڈھائی گھر کی چال چل کر ۔۔۔۔ تمہیں گدلا ہونے سے بچا لیا۔۔

    از قلم فائضہ خان
     
    • زبردست زبردست × 1
  14. La Alma

    La Alma محفلین

    مراسلے:
    1,845
    لاجواب!!
     
  15. فائضہ خان

    فائضہ خان محفلین

    مراسلے:
    17
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Persnickety
    بےحد نوازش جناب ۔۔۔۔ :)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  16. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    7,796
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    ہماری لا المیٰ بٹیا جناب نہیں، خاتون ہیں!!!
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  17. محمد شکیل خورشید

    محمد شکیل خورشید محفلین

    مراسلے:
    177
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Tolerant
    زبردست، بہت گہرائی ہے موضوعاتی بھی اور ٹریٹمنٹ میں بھی
     
  18. فائضہ خان

    فائضہ خان محفلین

    مراسلے:
    17
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Persnickety
    ھاھھاھا جی مجھے معلوم ہے ۔۔۔ ویسے مجھے لگا جناب مونث مذکر دونوں کے ساتھ لکھا جاسکتا ہے ۔۔۔۔ اسی زمرے میں جناب لکھا ۔۔۔ ورنہ صاحبہ لکھ دیتی ۔۔۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  19. فائضہ خان

    فائضہ خان محفلین

    مراسلے:
    17
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Persnickety
    بہت شکریہ سر ۔۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر