سہ ماہی اردو محفل ۔۔۔ اکتوبر تا دسمبر 2019

محمداحمد نے 'اردو نامہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 10, 2019

  1. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    11,163
    جھنڈا:
    Pakistan
    اسی کو کہتے ہیں۔۔۔
    آپ اپنے دام میں صیاد آگیا!!!
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  2. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    11,163
    جھنڈا:
    Pakistan
    ماشاء اللہ!!!
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  3. ام اویس

    ام اویس محفلین

    مراسلے:
    1,744
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    کہانی تو بہت دلچسپ ہے۔ لیکن میری ناقص رائے میں اسے ماضی کے صیغہ میں ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ آپس کی بات چیت بھی مکالموں کی شکل میں ہو تو کہانی کو چار چاند لگ جائیں ۔

    میرے خیال میں تو اردو محفل میں جس طرح “اصلاح سخن “ ہے اسی طرح “ اصلاح نثر “ کا زمرہ بھی ہونا چاہیے۔
     
    • متفق متفق × 3
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  4. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    21,840
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    نام تو آپ ضرور تجویز کر دیجے۔ ہم اساتذہ کی خدمت میں پیش کر دیں گے۔ بلکہ وہ بھی اس لڑی کو دیکھ ہی رہے ہیں۔ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. شاہد شاہنواز

    شاہد شاہنواز لائبریرین

    مراسلے:
    1,820
    جھنڈا:
    Pakistan
    محمد عدنان اکبری نقیبی بھائی ۔۔۔ ٹیگ کرنے کا شکریہ۔۔۔

    حاضر ہیں۔۔۔ اب اتنی شرطیں آپ نے ادبی مجلے کے لیے عائد کی ہیں تو ایک ہماری طرف سے بھی۔۔۔۔ جس کسی شاعر یا ادیب کی تحریر آپ رد کریں اسے جتنی جلدی ممکن ہو آگاہ ضرور کیا جائے۔ بعض اوقات تحریر میں کچھ خامیوں کو دور کرکے اسے قابل اشاعت بنایا جاسکتا ہے۔۔۔ ہماری ایک غزل اگر آپ کو قابل اشاعت نہ بھی لگے تو دوسری بھیجی جا سکتی ہے وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ توجہ فرمائیے گا !!
    محمداحمد
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • متفق متفق × 1
  6. شکیب

    شکیب محفلین

    مراسلے:
    1,626
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Breezy
    بہت عمدہ تجویز ہے۔
    خالص ادبی تحاریر تو اپنے بس کی بات نہیں، اور نثر میں کہانی وغیرہ لکھیں بھی تو اپنا ذہن انہی موضوعات کی طرف زیادہ چلتا ہے جن پر آپ نے قدغن لگا رکھی ہے۔:D
    شاعری کے زمرے میں کچھ بھیجنے کی کوشش کروں گا ان شاء اللہ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    3,128
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    چلیں جی، پاکستان جانے سے پہلے مابدولت کی طرف سے بھی ایک ادنیٰ کاوش حاضر ہے، میری طرف سے کھلی اجازت ہے کہ قارئین جی بھر کر تنقید کریں کیونکہ بندہ تو یہاں ہو گا ہی نہیں، نہ سنے گا اور نہ جوابے گا۔ یوں سمجھیے گا کہ لکھاری 23 دنوں کے لیے فراری ہو گا، پھر سفر کی خماری ہو گی اور جب مابدولت جاگیں گے تو سبھی ناقدین کو توپ دم کر کے رکھ دیں گے۔



    ۔
    ہاں جی! یہاں کیا ڈھونڈ رہے ہیں؟ تحریر؟ وہ اگلی پوسٹ میں ہے، یہاں صرف تحریر کا تعارف ہے۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 3
  8. زیرک

    زیرک محفلین

    مراسلے:
    3,128
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    گولی گولی پہ لکھا ہے کھانے والے کا نام
    از قلم زیرک
    سیانوں کی محفل میں سائبیریا سے سرد موسم کی سختی سے تنگ آ کر ایشیا کی طرف ہجرت کرنے والے جنگلی پرندوں کی معاجرت کی وجوہات جاننے کے لیے روس اور یورپی ممالک کی جانب سے سائنسی تحقیق کرنے کے لیے لاکھوں ڈالرز کے اخراجات کیے جانے کی بات ہو رہی تھی۔ میرے پاس بیٹھے چاچا چپ شاہ نے اپنی خموشی توڑتے ہوئے کہا “سائنس یا تحقیق کو گولی مارو، یہ دیکھو کہ سردی یا بھوک سے تنگ آئے ہوئے یہ پرندے 4000 کلومیٹر سے زائد کا سفر محض اس لیے طے کر کے روس سے پاکستان میں آتے ہیں کہ گرم علاقوں میں پیدا ہونے والا اناج کھا کر سرد موسم سے اپنا بچاؤ کر سکیں، لیکن بے چاروں کے مقدر میں شکاریوں کی گولی ہی لکھی ہوتی ہے۔ کل کلاں ان پرندوں کی نسل سے کوئی ابنِ انشاء نکل آئے تو وہ یہی لکھیں گے کہ ““واہ ری قسمت ہم مظلوم پرندے گندم کا دانہ کھانے آئے تھے اور ہمیں کھانے کو ملتی ہے سیسے والی گولی، کیا ہم اتنا لمبا سفر اس لیے کاٹ کے آئے تھے، دیا رے دیا! کیا ہمیں رہ گئے تھے گولی کھانے کے لیے؟””۔ کیا ظالم محاورہ ہے کہ ”دانے دانے پہ لکھا ہے کھانے والے کا نام”، آج سے محاورہ بدلو اور یہ لکھا کرو کہ ”گولی گولی پہ لکھا ہے کھانے والے کا نام”۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  9. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    7,786
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    سڈنی آسٹریلیا سے طارق محمود مرزا کی تحریر


    قوموں کی سر بلندی اس کے کردار میں پنہاں ہے
    طارق محمود مرزا۔ سڈنی،آسٹریلیا


    میں جب بھی شہر کی گہما گہمی سے اُکتاتا ہوں تو آسٹریلیا کے کسی دیہی علاقے کا رُخ کرتا ہوں۔ یہاں چھوٹے چھوٹے قصبات بلکہ گاؤں میں بھی ہوٹل دستیاب ہیں۔ جدید سہولتوں کے باوجود گاؤں کی زندگی اب بھی زیادہ نہیں بدلی بلکہ صدیوں پرانی طرز پر قائم ہے۔ وسیع رقبے پر بنے سادہ سے مکانات،کھلی سڑکیں،درختوں اور سبزے کی بہتات، صاف سُتھری آب و ہوا اور حدّ نظر تک پھیلے کھیت اور کھلیان فطرت سے بہت قریب محسوس ہوتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ تنہائی اور سکوت درکار ہو تو فارم ہاؤس بھی کرائے پر مل جاتے ہیں۔چند ماہ قبل ہمیں ایسے ہی ماحول کی طلب محسوس ہوئی تو ہم نے نیو ساؤتھ ویلز اور کوئنز لینڈ کے درمیان واقع شہر تاری (Taree)کے مضافات میں ایک فارم ہاؤس چند دنوں کے لیے بُک کر ا لیا۔ راہ کے خوشگوار مناظر دیکھتے، سبزے اور درختوں کے بیچ ہموار سڑک پر چلتے اور بھیڑوں، گائیوں اور گھوڑوں کے فارمز کا مشاہدہ کرتے پانچ گھنٹے کے بعد ہم اس فارم کی طرف مڑنے والی سڑک کے سامنے جا پہنچے۔ فارم ہاؤس کی طرف جانے والی یہ دو کلومیٹر سڑک کچی تھی مگر اس پر چھوٹے چھوٹے پتھروں کا فرش بچھا ہوا تھا جس پر گاڑی چلنے سے کڑکڑاہٹ کی آواز آتی تھی۔سڑک کے دونوں اطراف گھنے، اُونچے اور قدیم درخت استادہ تھے جن کی خستہ ڈالیاں ٹوٹ ٹوٹ کر گرتی رہتی ہیں۔ ہم فارم ہاؤس کے سامنے پہنچے تو دور دور تک جنگلوں میں گھرے، آبادیوں سے دور اس اکلوتے گھر کو دیکھ کر یوں لگا جیسے جنگل میں بہار آگئی ہے۔ کیونکہ گھر کے چاروں اطراف بڑے درختوں کے بجائے بے شمار چھوٹے اور پھول دار پودے رنگ بکھیر رہے تھے ان میں پھلوں سے لدے لیمن، مالٹے،سٹرابری اور سیب کے درخت بھی شامل تھے مرکزی دروازے کے پاس لگی انگور کی بیل گھر کی دیوار پر پھیلی تھی۔ جب کہ عقب میں کافی دور تک گھاس کا میدان تھا جہاں بکریاں، گائیں اور گھوڑے چر رہے تھے۔ گھر کے ارد گر آ ہنی تاروں کی باڑ تھی اور سامنے دھکیل کر کھلنے والا گیٹ تھا۔گیٹ کھول کرہم گاڑی اندر لے گئے اور ایک شیڈ کے نیچے پارک کر دی۔گھر کے باہر نمبر کے علاوہ کچھ نہیں لکھا تھا اس لیے مجھے کچھ شک تھا کہ یہی ہمارا مطلوبہ فارم ہاؤس ہے۔ یہ شک رفع کرنے کے لیے وہاں کوئی فرد موجود نہیں تھا۔میں نے فارم کی مالکن کو فون کر کے بتایا کہ ہم یہاں پہنچ گئے ہیں۔ اس نے فون پر ہی خوش آمدید کہا اور بتایا ”چابی مرکزی دروازے کے سامنے دیوار پر چسپاں ایک بکس کے اندر ہے اور باکس کھولنے کے لیے کوڈ نمبر یہ ہے۔ گھر کے اندر آپ کو ہر شے تیار اور صاف ستھری ملے گی“ ہم اس خاتون کی ہدایت کے مطابق دروازہ کھول کر اندر گئے تو واقعی پورا گھر سجا دھجا اور صاف ستھرا تھا۔بستر کی چادریں، تکیے، تولیے، فریج، ٹی وی، چولہے، برتن، کیتلی، ٹوسٹر، لائبریری، ویڈیو، برآمدے میں بار بی کیو چولہا اور دیگر سب چیزیں موجود اور صاف ستھری تھیں۔ ہم چاردن وہاں رہے اس دوران کوئی شخص وہاں نہیں آیا۔آخری دن کرایہ بھی وہیں رکھ کر آئے۔ دراصل ہم نے یہ فارم ہاؤس صرف تین دن کے لیے لیا تھا۔تیسری رات میرا ایک دوست بھی اپنی بیگم کے ساتھ وہاں آگیا۔ حالانکہ وہاں دیکھنے والا کوئی نہیں تھا پھر بھی میں نے فون کر کے مالکن کو بتایا ”آپ کو مطلع کرنا تھا کہ ہمارے دو مہمان آئے ہیں۔دوسرے یہ پوچھنا تھا کہ کیا ہم ایک رات مزید یہاں رُک سکتے ہیں؟“ میں توقع کر رہا تھا کہ وہ اضافی افراد کا اضافی کرایہ طلب کرے گی۔ کیونکہ گھر میں جتنے زیادہ لوگ ہوتے ہیں اتنا بجلی اور پانی زیادہ خرچ ہوتا ہے۔ مگر اس نے یہ جواب دے کر ہمیں حیران کر دیا ”مہمانوں کا کوئی مسئلہ نہیں،ہاں آپ ایک رات مزید رُک سکتے ہیں کیونکہ کل کوئی اور مہمان نہیں آرہا۔ اس اضافی رات کا کرایہ دینے کی بھی ضرورت نہیں“
    یہ جواب میرے لیے انتہائی غیر متوقع تھا۔ کافی دیر تک یقین نہیں آیا کہ ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں جنہیں لالچ چھو کر بھی نہیں گزرتی۔ہم اچھی طرح جانتے تھے کہ فارم ہاؤس کی مالک خاتون ایک ریستوران میں اور اس کا میاں کھیتوں میں مزدوری کرتے ہیں۔یہ بات اس نے خود مجھے فون پر بتائی تھی۔ فارم ہاؤس کا خرچ نکال کر انہیں اس سے معمولی آمدنی ہوتی ہے۔ اس کے باوجود انہیں لالچ اور حرص نہیں تھی۔
    اس فارم میں درجن بھر گائیں، اتنی ہی بکریاں اور دو گھوڑے تھے۔فارم کے مکین کی حیثیت سے آپ کو ان کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ وہ پچیس ایکڑ میں پھیلے اس فارم میں خود ہی چرتے پھرتے ہیں۔دھوپ اور بارش سے پناہ لینی ہو تو درختوں کے جھنڈ تلے چلے جاتے ہیں۔ فارم میں تین چھوٹے چھوٹے تالاب ہیں جہاں بارش کا پانی جمع رہتا ہے وہیں سے یہ اپنی پیاس بجھاتے ہیں۔ ہاں مہمان اپنے شوق کی خاطر انہیں چارہ ڈالنا چائیں تو فارم ہاؤس کے عقب میں ایک شیڈ میں گائے، گھوڑے اور بکریوں کے لیے الگ الگ چارہ موجود ہے۔ چارہ لے کر باڑ کے پاس جائیں تو گھوڑے اور گائیں جمع ہو جاتے ہیں آپ باڑ کے اوپر سے انہیں گھاس ڈال سکتے ہیں۔ بکریوں کا الگ باڑہ ہے وہاں پرانا سا شیڈ بھی ہے جہاں وہ سردی اور بارش میں پناہ لیتی ہیں۔ فارم ہاؤس میں بجلی کی سپلائی ہے مگر اس کے ساتھ شمسی توانائی بھی استعمال ہوتی ہے۔ آسٹریلیا میں شمسی توانائی کا استعمال عام ہے خاص طور پر دیہی علاقوں میں۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ فارم ہاؤس میں استعمال ہونے والا تمام پانی بارش سے جمع کیا ہوا ہے۔ گھر سے ملحق دو بڑے بڑے پلاسٹک کے ٹینک ہیں جہاں چھت سے بارش کاپانی جمع ہوتا ہے۔ یہی پانی نہانے دھونے، کھانے پینے ہر مقصدکے لیے استعمال ہوتاہے۔ میں سوچتا تھا کہ آسٹریلیا اور پاکستان کے موسموں میں بہت مماثلت ہے بارشیں اور دھوپ دونوں جگہوں کی مشترکہ خصوصیات ہیں۔بلکہ پاکستان میں دھوپ زیادہ پڑتی ہے۔ وہاں ایسے شمسی پلانٹ آسانی سے اور ارزاں داموں لگ سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں بارش کا پانی جمع کر کے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تیسری بات یہ کہ ہمارے دیہاتوں میں بھی ایسے تالاب بنائے جا سکتے ہیں جیسے اس فارم میں بنے ہیں۔ جب بارش نہ تو یہ پانی مویشیوں اور فصلوں کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔ ان میں سے کوئی کام بھی مشکل اور مہنگا نہیں ہے۔ نہ جانے اس طرف کسی کی توجّہ کیوں نہیں ہے۔
    اس علاقے میں شہد کے بہت سے فارم ہیں۔ علاوہ ازیں سیب، ناشپاتی، سٹرابری، انگور اور دیگر پھلوں کے باغات ہیں۔ ہم اس علاقے میں ڈرائیونگ کرتے تو کئی گھروں کے آگے شہد اور ان پھلوں کی فروخت کا بورڈ رکھانظر آتا۔ ایک جگہ گاڑ ی روک کر ہم اندر گئے۔وہاں برآمدے میں میز پر خالص شہد کی بوتلیں اور پھلوں کی ٹوکریاں رکھی تھیں۔ ا ن پر قیمت درج تھی اور ایک طرف کھلا بکس رکھا تھا، جہا ں سے بڑا نوٹ ہونے کی صورت میں آپ اپناچینج بھی لے سکتے ہیں۔ وہاں نہ کوئی شخص تھا اور نہ کوئی کیمرہ۔ لیکن مجال ہے کہ کوئی شخص چوری یا بے ایمانی کرے۔ گاؤں کے یہ لوگ سادہ اور فطری زندگی گزارتے ہیں۔ ان کے پاس مال و دولت نہیں ہوتی مگر وہ قناعت کی دولت سے مالامال ہیں۔ پرانے گھروں، چھوٹی گاڑیوں اور قدرے غربت کے باوجود بڑے شہروں سے دور رہ کر اپنے طرزِ حیات سے خوش ہیں۔ یہاں آبادی اور ذرائع روزگار دونوں کم ہیں کیونکہ اس علاقے کی سطح مرتفع پر فصلیں نہیں اُگتیں صرف مویشی بانی، باغبانی اور دیگر چھوٹے چھوٹے مشاغل ہیں جن کی محدود آمدنی ہے مگر وہ صبر شکر کے ساتھ اس سے گزارا کر لیتے ہیں۔ ایسے علاقے میں قیام کی صورت میں ہمیں اشیائے خوردونوش کا مسئلہ درپیش ہوتا ہے۔ کیونکہ یہاں ریستوران کم اور حلال کھانا نایاب ہے۔ اس لیے ہم زیادہ سے زیادہ اشیائے خوردو نوش اپنے ساتھ لے کر جاتے ہیں۔اسی علاقے کے ایک دور دراز گاؤں کی سیر کے دوران ہمیں اشتہا محسوس ہوئی تو وہاں نظر آنے والے واحد کیفے کے اندر چلے گئے۔سہ پہر کے اس وقت وہاں کوئی اور گاہک نہیں تھا۔ کیفے کی مالکن اُدھیڑ عمر آسٹریلین خاتون سے ہم نے دستیاب کھانوں کے بارے میں دریافت کیا تو ہمارے مطلب کی کوئی حلال شے موجود نہیں تھی۔ ہمیں مایوس دیکھ کر یہ خاتون بھی پریشان ہو گئی حالانکہ اس کا کوئی قصور نہیں تھا۔ میں نے پوچھا ”آپ کے پاس ڈبل روٹی اورانڈے ہیں؟ اس نے فوراََ اثبات میں جواب دیا۔ ہمارے کہنے پر اس نے ڈبل روٹی، انڈے، پنیر، مکھن، ٹماٹر اور پیاز نکالے۔ ہم سب نے مل جل کر پیاز، ٹماٹر اور انڈوں کا آملیٹ بنایا،ٹوسٹ گرم کیا، مکھن لگایا اور مزے سے تازہ اور گرم کھانا کھایا جو اس علاقے کی نسبت سے غنیمت تھا۔خاتون ہمیں خوش اور مطمئن دیکھ کر بہت خوش تھی۔ ہم نے نماز ادا کرنے کی خواہش ظاہر کی تو اس مہمان نوازخاتون کو پہلے تو سمجھ نہیں آیا کہ ہم کیا چاہتے ہیں۔ہم نے سمجھایا کہ ہمیں صاف جگہ اور صاف کپڑا درکار ہے۔ جب سمجھ آیا تو اس نے فوراََ جگہ صاف کی، صاف ستھری چادر بچھائی اور خود دروازے سے باہر چلی گئی۔نماز کے بعد ہم نے اس مہربان خاتون کا شکریہ ادا کیا تو نہ جانے کیوں اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ شاید یہ اس کی زندگی کا انوکھا تجربہ تھا۔ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہنے والی اس خاتون نے مسلمانوں کے بارے میں نہ جانے کیا کچھ سن رکھا تھا آج پہلی مرتبہ سامنا ہوا تو وہ ششدر رہ گئی۔ ہمارے لیے بھی یہ ’پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے‘ والامعاملہ تھا۔ یہ دنیا تو ہے ہی حیرت کدہ، یہاں ایسی حیرتیں اکثر ملتی رہتی ہیں۔ واپسی کے سفر میں، میں سوچ رہا تھا کہ قوموں کی سر بلندی کے لیے وسائل کی نہیں حسنِ اخلاق اور مضبوط کردار کی ضرورت ہوتی ہے۔ اطمینان و مسرت کے لیے روپے پیسے کی نہیں قناعت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس خطے میں سکون اور اطمینان کی یہی وجوہات ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 2
  10. عابد علی خاکسار

    عابد علی خاکسار محفلین

    مراسلے:
    371
  11. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,723
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    یہاں ہی پوسٹ کرنی ہے، اگر اصلاح ہو چکی ہو تو فائنل شکل یہاں پوسٹ کی جائے ورنہ ذاتی مکالمے میں مجھ سے یا کسی سے بھی اصلاح لے لی جائے۔
     
    • زبردست زبردست × 1
  12. فائضہ خان

    فائضہ خان محفلین

    مراسلے:
    17
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Persnickety

    بہت بہت شکریہ ٹیگ کرنے کا ۔۔۔۔ مجھے اب تک یہ فورم استعمال کرنا نہیں آرہا ۔۔۔ بارہا بار کوشش کی ۔۔۔ :(
    نہ ہی لائک کے آپشن سمجھ آرہے ہیں ۔۔۔ اور نہ ہی یہ کہ اپنی تحاریر پر کیسے ٹیگ کروں ۔۔۔
    یہ سمجھ آجائے تو جس خاص مقصد کے تحت اس لڑی کا اہتمام کیا گیا ہے یقینان وہ بھی سمجھ آجائے گی ۔۔۔ ہاں نا ؟ ۔۔۔ :|
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  13. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    7,786
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    بھائی اتنی سخت شرائط نہیں ہیں۔ آپ کی کوئی کاوش کہیں اور فیسبک وغیرہ پر پیش کر چکے ہیں تب بھی یہاں پیش کیجیے۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  14. عابد علی خاکسار

    عابد علی خاکسار محفلین

    مراسلے:
    371
    شکریہ انشاءاللہ
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  15. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی محفلین

    مراسلے:
    17,845
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    ریٹنگ کی سہولت ابھی آپ کو حاصل نہیں ہے ۔یہ سہولت آپ کو 50 پوسٹ یا مراسلوں کے بعد حاصل ہوگی ۔
     
  16. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    12,410
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    ریٹنگ کی سہولت پچاس مراسلے مکمل ہونے کے بعد ملے گی۔
    کسی محفلین کو ٹیگ کرنا ہو تو @نام لکھیں۔ بیچ میں وقفہ(سپیس) نہیں دینا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  17. منذر رضا

    منذر رضا محفلین

    مراسلے:
    333
    جھنڈا:
    Pakistan
    غزل پیش ہے۔
    دستِ خزاں دراز ہے، فصلِ بہار دے
    ورنہ کرم کا تاجِ مطّلا اتار دے
    بیحد الجھ گئی ہے مقدر کی زلفِ ناز
    اپنے حنائی ہاتھ سے اس کو سنوار دے
    دل بے قرار ہے تری فرقت میں اے نگار!
    اک وعدۂ وصال سے اس کو قرار دے
    دے گی نہ تجھ کو کچھ یہ محبت بجز الم
    تو اس پہ کل متاع بصد شوق وار دے
    یا رب! میں بسکہ کشتۂ تیغِ جفا ہوا
    میدانِ زیست سے مجھے اذنِ فرار دے
    لپکوں گا اس طرف بھی بصد شوق گر خدا
    آلامِ روزگار کو آوازِ یار دے!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • زبردست زبردست × 1
  18. منذر رضا

    منذر رضا محفلین

    مراسلے:
    333
    جھنڈا:
    Pakistan
    اور اب ایک نظمِ معری پیش کرنے کی جسارت:
    بے رنگ ہے جریدۂ تن کا ہر اک ورق
    بے نور ہے چراغِ دل و جاں کی ہر کرن
    بے سوز ہے صدائے ربابِ حیات بھی
    بے کار ہےمرے دلِ بیکس کی آہ بھی
    وہ عشق کے گہر، وہ محبت کے لعل بھی
    وہ درد کے عقیق، وہ حسرت کے سب نگیں
    جو مثلِ آفتاب تھے میری حیات میں
    سب خاکِ دشتِ عشق و جنوں میں گما دیے
    وہ رنگ جو کہ زینتِ نقشِ حیاتِ تھا
    وہ چشمِ خوں فشار سے خوں بن کے بہہ گیا
    جس نورسےتھی شمعِ دل و جاں میں روشنی
    اس کو ہوائے ہجرِ مسلسل بجھا گئی
    وہ سوز ِِ آرزو ،وہ تمنا کی جستجو
    دہ دردِ عاشقی کی خلش، کیوں فنا ہوئی
    اور گردِ بادِ یاس میں کچھ ایسے چھپ گئی
    جیسے کبھی نہ آئی تھی ظالم وجود میں
    وہ آہِ نیم شب، وہ فغاں، روزِ ہجر کی
    سب خوابِ صبحِ یاس کی مانند مٹ گئیں
    یعنی مرا تمام اثاثہ فنا ہوا
    یعنی مرا وجود بھی مجھ سے جدا ہوا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  19. محمد شکیل خورشید

    محمد شکیل خورشید محفلین

    مراسلے:
    176
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Tolerant
    یہ بچوں کی وہ کہانی ہے جسے بڑے بھی پڑھ سکتے ہیں، زبردست
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  20. آر جے

    آر جے محفلین

    مراسلے:
    12
    جھنڈا:
    Pakistan
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر