فائضہ خان
آخری سرگرمی:
‏نومبر 11, 2019 5:43 شام
رکنیت:
‏اگست 27, 2019
مراسلے:
17
نمبرات:
3
محصول مثبت درجہ بندیاں:
23
محصول نیوٹرل درجہ بندیاں:
0
محصول منفی درجہ بندیاں:
0

مراسلہ ریٹنگ

محصول: عطا کردہ:
پسندیدہ 15 2
زبردست 5 0
معلوماتی 0 0
دوستانہ 3 0
پر مزاح 0 0
متفق 0 0
غیر متفق 0 0
غمناک 0 0
ناقص املا 0 0
مضحکہ خیز 0 0
نا پسندیدہ 0 0
جنس:
مؤنث
یوم پیدائش:
‏فروری 11
مقام سکونت:
جرمنی

اس صفحے کی تشہیر

فائضہ خان

محفلین, مؤنث, از جرمنی

نفرت کی کوکھ سے محبت کا جنم ہوا ۔۔۔۔ اور نفرت بانجھ کر دی گئی ۔۔۔ اب تو آستین کے سانپ بھی بڑے عزیز ہیں کہ محبت ہے ۔۔۔ ‏اکتوبر 29, 2019

فائضہ خان کو آخری دفعہ پایا گیا:
‏نومبر 11, 2019 5:43 شام
    1. فائضہ خان
      فائضہ خان
      نفرت کی کوکھ سے محبت کا جنم ہوا ۔۔۔۔ اور نفرت بانجھ کر دی گئی ۔۔۔ اب تو آستین کے سانپ بھی بڑے عزیز ہیں کہ محبت ہے ۔۔۔
    2. فائضہ خان
      فائضہ خان
      محبت ایک ایسا جاودانى گیت ہے جس کى کوئى بندش نہیں ! بیمار پیڑوں کى اداسى کا علاج ایک آسماں اپنے لیے موجود ہے جو صرف تم سے آشنا ہے
      1. اے خان اور محمد عدنان اکبری نقیبی نے اسے پسند کیا۔
    3. فائضہ خان
      فائضہ خان
      مورخ نے لکھی تاریخ میں محبت کا ولی ہوں۔۔۔۔ عشاق عشق کا پرسا سمجھتے ہیں مجھے ۔۔۔ از قلم فائضہ خان
      1. جان
        جان
        تشریح؟
        ‏اگست 28, 2019
        فائضہ خان نے اسے پسند کیا۔
  • لوڈ ہو رہا ہے...
  • لوڈ ہو رہا ہے...
  • تعارف

    جنس:
    مؤنث
    یوم پیدائش:
    ‏فروری 11
    مقام سکونت:
    جرمنی
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Persnickety
    سب پہ آتی ہے سب کی باری
    موت انصاف کی علامت ہے
    زندگی ، سب پہ کیوں نہیں آتی ؟؟

    بعض اوقات شدت سے دل کرتا ہے کہ خود پے گزری حادثاتی زندگی کے ایک ایک لمحے کو کاغذ پر اتار کر پھر اسکا تماشہ دیکھوں ۔۔۔
    پر ہمت شاید انسان میں وقت کے ساتھ کم ہوجاتی ہے اسی لئے میں یہ سب کرنے سے خوف زدہ ہوں۔
    زندگی کیا ہے ؟
    مجھے تو آج تک میسر نا آئی ۔
    کچھ واقعات جو لمحوں پر محیط ہوتے ہیں ۔۔۔ پر وہ اپنی اذیت اپنی تلخی اپنی غلاظت اور اپنی اکتاہٹ تاعمر کے لئے ایسے چھوڑ جاتے ہیں جیسے کہ شاید ہم تھے ہی اس کے مستحق ۔۔۔۔
    وہ لفظ وہ سسکیاں ۔۔۔ گونجتی نہیں چیختی ہیں تنہائیوں میں ۔۔۔۔ اور جسے بھیڑ میں بھی تنہائی میسر ہو سوچو وہ وجود ریت کی طرح گھل گھل کے ختم نا ہو تو اور کیا ہو؟۔۔
    اے خدایا وہ لرزہ خیز اذیت وہ روح جھنجھوڑ دینی والی تکلیف ۔۔ وہ میری بنیادیں ہلا گئی ہے ۔۔۔۔
    مجھے وہ لفظ وہ آہیں وہ جملے سونے نہیں دیتے ۔۔۔۔
    خدا کے خوف سے انکی روحیں لرز کیوں نہیں جاتی؟۔۔۔۔
    اے خدا ۔۔۔ اذیتیں تا عمر کی دے کر ۔۔۔ برداشت چند سالوں کی کیوں دی ؟۔۔۔۔
    گھن آتی ہے رشتوں کے نام پر ان دلالوں سے جو روز کسی کا حق کسی مقام کسی کا احترام اور کبھی کبھی تو کردار تک بیچ دیتے ہیں ۔۔۔
    نفرت ہوتی ہے اس وجود سے جو محبت کے دعوے دار ہوتے ہوئے بھی سر عام عزت کی چادر کو کھینچ کر ننگا کرے کوڑے برساتے ہیں ۔۔۔
    دل کرتا ہے اپنے وجود کو نوچ نوچ کر خود کا ماتم کروں۔۔۔۔
    پر کس کس کا ماتم کروں ؟
    وہ لفظ جو گنتی کے چند تھے ۔۔۔۔ پر کھا گئے مجھ کو ۔۔ انکا ؟
    وہ رشتے جو عمر بھر کے ساتھی تھے۔۔۔۔جو عمر کے بہترین سال ہڑپ کرکے دنیا کی خباثت سہنے کو اکیلا تن تنہا چھوڑ گئے۔۔۔ انکا۔۔۔؟
    یا جنہوں نے جوا سمجھ کر بازی لگائی اور ہار میرے مقدر میں لکھ دی ۔۔۔ انکا ؟
    میں کہتی ہوں میرے جسم و روح پر لگے وہ نشان نما زخم بھر کیوں نہیں جاتے ۔۔۔۔ وہ حلق تک پھیلی کڑواہٹ ختم کیوں نہیں ہوجاتی ۔۔۔
    یہ ہمدردوں کی چونچیں مجھے کب تک نوچتے رہیں گی ۔۔
    میری سسکیاں میرے کانوں میں کب تک گونجتی رہیں گی ۔۔۔
    میرے بدن سے کافور کی مہک اٹھنے سے پہلے کیا میں خود کو سنورتا دیکھوں گی؟

    مجھ کو مکتب میں کون رکھے گا ؟
    اب میں مشکل سوال کرتا ہوں

    فائضہ خان