درد خواجہ میر درد :::: سر سبز نیستاں تھا میرے ہی اشکِ غم سے :::: Khwajah Meer Dard

طارق شاہ

محفلین

غزل

سر سبز نیستاں تھا میرے ہی اشکِ غم سے
تھے سینکڑوں ہی نالے وابسطہ ایک دَم سے

واقف یہاں کسی سے ہم ہیں نہ کوئی ہم سے
یعنی کہ آگئے ہیں بہکے ہُوئے عَدم سے

مَیں گو نہیں ازل سے، پر تا ابد ہُوں باقی
میرا حدوث آخر جا ہی بِھڑا قدم سے

گر چاہیے تو مِلیے اور چاہیے نہ مِلیے
سب تُجھ سے ہو سکے ہے، مُمکن نہیں تو ہم سے

مُشتاق گر تِرا ، کُچھ لِکھے تو کیا عجب ہے
ہوں مثلِ نرگس آنکھیں پیدا ابھی قلم سے

ہر چند، یہ تمنّا درخور کب ہمارے !
نزدیک تُو جو آوے کیا دُور ہے کَرَم سے

اب ہیں کہاں وہ نالے، سر گشتگی کِدھر ہے
تھیں سب وہ باتیں ثابت، میرے ہی دَم قدم سے

ہے اِک نِگاہ کافی، گو ہووے گاہِ گاہے
چنداں نہیں ہے مطلب، عاشِق کو بَیش و کم سے

کاہے کو ہوتی ہم کو گردش نصیب طالع
گر پاؤں اپنا باہر رکھتے نہ ہم عَدم سے

آتے ہیں دام میں کب خورشِید رُو کسی کے
اے شیخ! یہ نہیں ہیں تسبیح کے سے شم سے

ہے دردؔ پر بھی کُچھ تو میری ہی سی مُصِیبت !
گھیرے ہے اور ہی غم، چُھوٹے جو ایک غم سے

خواجہ مِیر درؔد دہلوی
1785 - 1721
 

فرخ منظور

لائبریرین
دیوانِ درد مطبع نظامی بدایوں سے یہ غزل دیکھ کر درست کی گئی۔

غزل
سر سبز نیستاں تھا میرے ہی اشکِ غم سے
تھے سینکڑوں ہی نالے وابستہ ایک دَم سے

واقف نہ یاں کسو سے ہم ہیں نہ کوئی ہم سے
یعنی کہ آگئے ہیں بہکے ہُوئے عَدم سے

مَیں گو نہیں ازل سے، پر تا ابد ہُوں باقی
میرا حدوث آخر جا ہی بِھڑا قدم سے

گر چاہیے تو مِلیے اور چاہیے نہ مِلیے
سب تُم سے ہو سکے ہے، مُمکن نہیں تو ہم سے

مُشتاق گر تِرا کُچھ، لِکھے تو کیا عجب ہے
ہوں مثلِ نرگس آنکھیں پیدا ابھی قلم سے

ہر چند، یہ تمنّا درخور نہیں ہمارے
نزدیک تُو جو آوے کیا دُور ہے کَرَم سے

اب ہیں کہاں وہ نالے، سرگشتگی کِدھر ہے؟
تھیں سب یہ باتیں ثابت، میرے ہی دَم قدم سے

ہے اِک نِگاہ کافی، گو ہووے گاہ گاہے
چنداں نہیں ہے مطلب، عاشِق کو بَیش و کم سے

کاہے کو ہوتی تم کو گردش نصیب طالع
گر پاؤں اپنا باہر رکھتے نہ ہم عَدم سے

آتے ہیں دام میں کب خورشِید رُو کسو کے
اے شیخ! یہ نہیں ہیں تسبیح کے سے شمسے

ہے دردؔ پر بھی کُچھ تو میری ہی سی مُصِیبت !
گھیرے ہے اور ہی غم، چُھوٹے جو ایک غم سے

(خواجہ مِیر درؔد)
 
مَیں گو نہیں ازل سے، پر تا ابد ہُوں باقی
میرا حدوث آخر جا ہی بِھڑا قدم سے
نو جوانی کی عمر میں یہ شعر طویل مدت تک زبان پر رہتا تھا ۔ آج پوری غزل پڑھنے کو ملی ۔ اففف کیا کیا تازہ ہوگیا ۔
میر درد کی کیا ہی بات ہے ۔
مت عبادت پہ پھولیو زاہد۔ سب طفیل گناہ آدم ہے۔
سلامت رہیں احباب ۔ طارق شاہ حسان خان فرخ منظور
 
آخری تدوین:
Top