بارے نقشے کے کچھ معلومات درکار ہیں

خرم شہزاد خرم نے 'متفرقات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 5, 2013

  1. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,852
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    جناب گمنام زندگی
    اس کا تعلق شاید حرکت کے قوانین سے ہے۔ زمین کی اپنے محور پر گھومنے کی رفتار چکروں کی زبان میں تو ساری زمین پر ایک ہی ہے۔ سطح زمین پر موجود کوئی شے زمین کی ایک روٹیشن میں کتنی حرکت کرتی ہے، وہ ظاہر ہے خطِ استوا پر سب سے زیادہ ہے۔ مائعات کے خطِ استوا کی طرف بہاؤ میں مرکز مائل (سینٹری پیٹل) قوتوں اور مرکز گریز (سینٹری فیوگل) قوتوں کی کارفرمائی لگتی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  2. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,852
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    جنابِ گمنام زندگی

    یہ میرے علم میں نہیں ہے۔ سیارے تو اپنے محور کے گرد گھومتے ہیں، ستاروں کا مجھے نہیں علم کہ ان کا اپنا بھی کوئی محور ہوتا ہے یا نہیں۔ آپ کہتے ہیں کہ
    اس کا سبب زمین کا سورج کے گرد گھومنا بھی ہو سکتا ہے۔ میں ایک امکانی بات کر رہا ہوں، حتمی بات کیا ہے، وہ آپ بتا دیجئے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  3. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,852
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    قبل از سوال کچھ کہنے سے قاصر ہوں۔ علم میں نہیں ہو گا تو معذرت کر لوں گا۔ کیا خیال ہے؟۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  4. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,852
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    ڈھلوان کے حوالے سے ایک نکتہ ہے۔
    زمین کے مرکزے (نیوکلیئس) سے فاصلہ مثال کے طور پر سمندر کی سطح کو لے لیجئے۔ پانی تو اپنی سطح ہموار رکھتا ہے، اور سمندر کی سطح کروی ہے یعنی پانی کی سطح کا مرکزے سے یکساں فاصلے پر ہونا، اس کو ’’ہموار‘‘ کہنے میں کوئی امر مانع نہیں۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  5. گمنام زندگی

    گمنام زندگی محفلین

    مراسلے:
    1,310
    موڈ:
    Lurking
    اصل میں یہ کچھ سوالات میرے ذہن میں کدبداتے رہتے تھے ، آپ کی پوسٹس پڑھی تو مزا آیا اس لئے اپنے سوالات کا ٹوکرا آپ پر انڈیل دیا ، :)
    سچی بات یہ کہ مجھے تو سیارے اور ستارے کا فرق بھی یاد نہیں رہتا ۔ :LOL:
    سطح زمین پر موجود کوئی شے زمین کی ایک روٹیشن میں کتنی حرکت کرتی ہے، وہ ظاہر ہے خطِ استوا پر سب سے زیادہ ہے
    مائعات کے خطِ استوا کی طرف بہاؤ میں مرکز مائل (سینٹری پیٹل) قوتوں اور مرکز گریز (سینٹری فیوگل) قوتوں کی کارفرمائی ہے
    حرکت میں تو خط استوا زیادہ ہے تو پانی وہاں سے کٹ کر قطبیں پر جمع ہونا چاہیئے جو کہ استوا کے مقابلے سست ہے ۔
    یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ یہ زیادہ سورج کو فیس کرتا ہے اس وجہ سے پانی جم نہیں پاتا ۔
    اب صرف ایک سوال ۔ زمین کس وجہ سے، اپنے قطبین پر نہیں گھوم جاتی یا گھومتی رہتی ؟؟؟ یعنی الٹ پلٹ نہیں ہوتی ۔
    کوئی مناظرہ نہیں سمجھئے گا پلیز ، اپنی معلومات کی تسکین کی خاطر یہ سوالات کئے ہیں۔ شکریہ:)
     
    • معلوماتی معلوماتی × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,852
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    جنابِ گمنام زندگی
    اس کا جواب تو قرآن شریف میں آ چکا۔ اللہ کریم نے بار بار اپنی قدرتِ کاملہ کا ذکر فرمایا ہے۔ اور یہ بھی طے ہے کہ زمین آسمان سب کچھ کو الٹ پلٹ ہونا ہے! کب اور کیسے؟ یہ ٹائم ٹیبل اللہ تعالٰی کا ہے۔ جس کی حتمی تاریخ اللہ کریم نے نہیں بتائی اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائی۔

    آداب عرض ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,852
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    قرآن شریف نے ’’اصولی علم‘‘ یعنی بنیاد فراہم کر دی ہے۔ قاعدہ وہی ہے اور قانون بھی وہی ہے جو اللہ نے ہر شے کی ’’فطرت‘‘ میں رکھ دیا ہے۔ ’’فاطر‘‘ اللہ کریم کا ایک صفاتی نام ہے۔
    رہیں ہر فیلڈ کی جزئیات، تو انسان اس میں لگا ہوا ہے۔ انسان کو بھی دعوت دی گئی ہے، غور و فکر اور تدبر کی!

    اللہ کریم ہم سب کو مثبت رخ پر تفکر و تدبر کی توفیق سے نوازے۔ آمین!!۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  8. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,852
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    آپ کو اپنے مطالعے میں شریک کرتا ہوں ۔۔ اس کے مآخذ تو کئی ہو سکتے ہیں۔

    یہ سیارہ جسے ’’الارض‘‘ کہا گیا، اور جس پر انسان کو بسایا گیا، اس زمین کے اندر اور باہر، اس کی فضا اور خلا میں ایک عجیب نوعیت کا بہت نازک لیکن بہت لچکدار توازن ہے۔ کچھ متفرق مثالیں دیکھئے:۔
    اوزون گیس کی تہہ سورج سے آنے والی مضر شعاعوں کو زمین تک نہیں پہنچنے دیتی۔
    مختلف گیسوں کے رنگ ہوں گے، جیسے کلورین کا سبزی مائل ہوتا ہے، مگر فضا بے رنگ ہے۔ اگر فضا میں رنگ ہوتے تو؟ ہے نا عجیب سا سوال؟
    درخت اور پودے رات کو آکسیجن کھاتے ہیں اور دن میں بناتے ہیں۔
    پانی کو اصلِ حیات کہا گیا، یہ شاید سب سے سادہ مرکب ہے۔ عام طور پر چیزیں سرد ہو کر سکڑتی ہیں اور ان کی کثافتِ اضافی بڑھ جاتی ہے، پانی 4 درجے سی سی کے بعد جمتا بھی ہے اور پھیلتا بھی ہے، یوں برف تیر کر پانی کے اوپر آ جاتی ہے۔ اگر برف پانی سے بھاری ہوتی اور نیچے بیٹھ جاتی تو کیسی صورتِ حال ہوتی؟
    ہر زندہ وجود میں پانی نہ صرف جزوِ لازم ہے بلکہ اس کی فی صد مقدار باقی تمام عناصر و مرکبات سے زیادہ ہوتی ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ ایک طویل سلسلہ ہے۔ کہاں تک چلئے گا!
    اللہ تبارک و تعالٰی کی صناعی کا مشاہدہ کیجئے اور اس کی کاری گری پر قربان جائیے۔
     
    • زبردست زبردست × 2
    • متفق متفق × 1
  9. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    206,551
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    بہت ہی معلوماتی دھاگہ ہے۔

    آسی صاحب کی معلومات تو بیش بہا ہیں۔

    اراکین سے بھی درخواست ہے کہ اپنا اپنا حصہ ڈالیں۔

    جہاں تک قطبین کا تعلق ہے تو سویڈن، ناروے اور ڈنمارک اسی طرف ہیں۔ جہاں دن 20 گھنٹے کا اور رات 4 گھنٹے کی یا رات 20 گھنٹے کی اور دن 4 گھنٹے کا۔
    ان جگہوں پر جہاں تک رمضان کے روزے کا تعلق ہے تو ظاہر ہے اتنا لمبا روزہ نہیں رکھا جاتا، دوسری صورت میں نمازوں کی ادائیگی کے اوقات بھی کچھ عجیب سے ہوں گے۔

    ہمارے ہاں ایک صاحب سوئیڈن سے تعلق رکھنے والے کام کرتے تھے۔ انہوں نے بتایا تھا کہ وہ مکہ المکرمہ کے اوقات پر عمل کرتے ہیں۔

    اردو محفل میں اگر کوئی سویڈن سے ہوں تو ان کی رائے لی جائے۔
     
    • زبردست زبردست × 2
  10. عزیزامین

    عزیزامین محفلین

    مراسلے:
    8,027
    جھنڈا:
    Canada
    موڈ:
    Happy
    وہاں طلوع آفتاب سبز ہوتا ہے
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  11. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    میرا خیال ہے کہ یہ فاصلہ بارہ سے چودہ ہزار کلومیٹر تک بنے گا۔ یعنی تقریباً اٹھارہ سے بائیس گھنٹے کی فلائیٹ۔ تاہم یہ میرا اندازہ ہے۔ عین ممکن ہے کہ اس میں کمی بیشی ہو
     
  12. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    فن لینڈ کے شمال میں، نصف سے ذرا اوپر ایسے مقامات ہیں جہاں گرمیوں میں سورج کئی روز سے کئی ہفتوں تک غروب نہیں ہوتا اور اسی طرح کئی روز سے کئی ہفتوں تک سردیوں میں طلوع نہیں ہوتا۔ اس لئے وہاں نماز کے اور روزے کے اوقات کافی مشکل ہو جاتے ہیں۔ کچھ لوگ جنوبی فن لینڈ، کچھ لوگ سعودی عرب اور کچھ لوگ اپنے آبائی ملک کے اوقات کو دیکھ لیتے ہیں۔ کچھ لوگ یہ کرتے ہیں کہ اس روز جس جس ملک میں چاند دکھائی دیا ہو، ان میں سے اپنی سہولت کے مطابق کوئی سا چن لیتے ہیں
     
    • معلوماتی معلوماتی × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  13. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    دنیا کے سیدھا اور الٹا ہونے کا تعین بس ایک ہی بار کر دیا گیا تھا کہ کوئی نہ کوئی سرا تو جنوب ہونا تھا اور کوئی نہ کوئی شمال۔ اس طرح یہ بنے
    پانی کا رخ ہمیشہ بلندی سے پستی کی طرف ہوتا ہے۔ قطبین پچکے ہونے کی وجہ سے پانی کو زیادہ کھینچتے ہیں لیکن عام حالات میں محض بلندی اور پستی ہی Rule of thumb ہے۔ تاہم زمین کی گردش کو دیکھا جائے تو زمین درمیان میں زیادہ تیز جبکہ قطبین پر کم حرکت کرتی ہے۔ اس سے بھی فرق پڑتا ہے
    سورج کے اپنے محور کے گرد گھومنے کا سلسلہ کچھ عجیب ہے۔ بائنری سسٹم یعنی ثنائی ستارے کے نظام میں اکثر ایک ستارہ دوسرے کے گرد گھومتا ہے اور دوسرا اپنی جگہ سے ہلکا سا حرکت کرتا ہے۔ ذیل کی شکل اس کی کچھ وضاحت کرتی ہے
    [​IMG]
     
  14. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    پانی اپنی سطح ہموار رکھتا ہے لیکن بحر اوقیانوس اور بحر الکاہل کے مشرقی اور مغربی کناروں پر پانی کی سطح میں اچھا خاصا فرق ہے۔ اب یہ تو یاد نہیں کہ وہ فرق ایک میٹر جتنا ہے یا کتنا، لیکن زمین کی حرکت کی وجہ سے یہ فرق پیدا ہوا ہے
     
    • معلوماتی معلوماتی × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  15. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,852
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    بہت شکریہ جناب قیصرانی صاحب۔
    میری اور آپ کی باتوں کا رخ ایک ہی ہے، آپ نے بہر کیف بہتر انداز میں بات کی، تسلیمات!
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  16. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,852
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    جناب شمشاد کی دعوت کا کتنا اچھا رد عمل مل رہا ہے!۔ دیگر احباب بھی شاملِ گفتگو ہوئے۔ خاص طور پر جناب قیصرانی کی فراہم کردہ اطلاعات کا انداز بالکل سائنسی ہے۔ مجھے امید ہے کہ ہمارے دوست جناب الف عین بھی علمِ ارضیات سے مستفیض ہونے کا موقع دیں گے۔

    آخر کو زمین ہمارا گھر ہے، اس کے معاملات میں دل چسپی عین فطری بات ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • متفق متفق × 2
    • زبردست زبردست × 1
  17. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,852
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    زمین اور اس کے ماحول کے عجائبات کی بات چلی ہے تو سنئے۔
    مکہ مکرمہ اور بیت اللہ شریف کا علاقہ کسی قدر نیچا ہے۔ بدین وجہ اس کو ’’نافِ زمین‘‘ بھی کہتے ہیں۔ اس کا ہندی ترجمہ ہے ’’پرتھوی نابھہ‘‘ (پرتھوی: زمین، نابھہ: ناف)۔ میں اس کو یوں بھی دیکھتا ہوں:
    کتنی عجیب بات ہے کہ آسمان سے زمین پر اترنے کے بعد ابوالبشر اور ام البشر اس علاقے میں آ کر ملتے ہیں۔ بعد ازاں حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اسی جگہ چھوڑا جاتا ہے اور یہاں سے زم زم پھوٹتا ہے۔ اور صدیوں بعد اسی مقام سے رحمت للعالمین کا وہ زم زم پھوٹتا ہے جس کی برکات قیامت تک رواں ہیں۔
    پرتھوی نابھہ، بھارت میں واقع شہر نابھہ اور ایک ہندو پنڈت کی معروف کتاب ’’کالکی اوتار‘‘ ۔۔ یہ ایک دوسرا سلسلہ ہے۔ کبھی دیکھئے گا۔
     
    • زبردست زبردست × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  18. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,852
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    ارضیاتی حوالے سے ہم ’’جوار بھاٹا‘‘ یا ’’مد و جزر‘‘ سے بخوبی واقف ہیں۔ پورن ماشی یعنی پورے چاند کی راتوں میں سطح سمندر سے پانی کی بہت بڑی مقدار چاند کی کششِ ثقل کے زیرِ اثر زمین سے اوپر کو اٹھتی ہیں، زمین اُن کو پھر کھینچ لیتی ہے، وہ پھر اٹھتی ہیں اور یوں سمندر میں ایک ہلچل بپا ہو جاتی ہے جس کے اثرات ساحلوں تک جاتے ہیں۔ سمندری موجیں ساحلوں تک پہنچتی ہیں اور سمندر کے اس علاقے سے چاروں طرف ہوائیں چلتی ہیں، وغیرہ۔
     
    • زبردست زبردست × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  19. خرم شہزاد خرم

    خرم شہزاد خرم لائبریرین

    مراسلے:
    10,840
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    برِاعظم انٹارکٹیکا کے بارے میں سنا گیا ہے کہ وہاں چھ مہینے رات اور چھ مہینے دن ہوتا ہے۔ کیا یہ حقیقت ہے یا پھر فرضی کہانیاں ہیں۔ یا پھر جو گرمیوں میں 20 یا 21 گھنٹے کا دن اور 3 یا چار گھنٹے کی رات ہوتی ہے اسی طرح سردیوں میں رات اور دن میں فرق آتا ہے۔ تو او وجہ کو سامنے رکھ کر کہا جاتا ہے کہ چھ ماہ رات اور چھ ماہ دن رہتا ہے؟؟؟​
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  20. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,852
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    یہ بات صرف چاند تک نہیں رہتی۔ چاند اور پھر سورج سے کہیں دور، اسی نظامِ شمسی کا ایک رکن ہے پلوٹو۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ سیارہ بعد میں دریافت ہوا اس کے وجود کا جواز یا دلیل پہلے دریافت ہوئی۔ فلکیات کے ماہرین نے مشاہدات اور حسابات کے بعد کہا کہ نیپچون سے پرے کم از کم ایک سیارہ ہونا چاہئے جو اسی نظامِ شمسی کا رکن ہو۔ اس سیارے کا حجم اور مقدارِ مادہ یہ یہ یہ ہونی چاہئے اور اس کا مدار فلاں ہونا چاہئے۔ اس تحقیق کے سامنے آنے اور پلوٹو کی دوربینی دریافت کے درمیان برسوں کا فاصلہ ہے (سیارہ بعد میں دیکھا گیا)۔

    مقصد میری گزارشات کا یہ ہے کہ بہ ظاہر بہت دور بہت دور واقع سیاروں اور سیارچوں کا ہماری زمین سے بہت گہرا تعلق ہے، جس کو حسابات میں بھی سمجھا جانے کے امکانات بہر حال موجود ہیں۔ یہ ہمارے لئے بھی اور پوری انسانیت کے لئے بھی اللہ کریم کی کھلی نشانیاں ہیں۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 2
    • زبردست زبردست × 1

اس صفحے کی تشہیر