بارے نقشے کے کچھ معلومات درکار ہیں

خرم شہزاد خرم نے 'متفرقات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 5, 2013

  1. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    یہ وڈیو دیکھیئے گا اگر یوٹیوب تک رسائی ہو تو
    براہ راست لنک یہ رہا

    Xm_Cn8-DCNc
     
    • زبردست زبردست × 3
  2. انعام جی

    انعام جی معطل

    مراسلے:
    250
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    قیصرانی صاحب نے جواب دے دیا ہے مزید یہ کہ قطب شمالی کے علاقے ایسے ہیں جہاں موسم گرم میں سورج غروب ہی نہیں ہوتا جیسا کہ ناروے میں Svalbard, کے مقام پر اخیر اپریل تا اخیر اگست۔یہی حالت قطبین کے اور مقامات کی بھی ہے۔ اور الاسکا میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ سورج دس گیارہ بجے تک غروب ہی نہیں ہوتا اور پھر ایک آدھے گھنٹے بعد دوبارہ طلوع ہو جاتا ہے۔
    ا
     
    • زبردست زبردست × 1
  3. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    206,415
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    ان علاقوں کے متعلق غالباً مستنصر حسین تارڑر نے لکھا تھا کہ عجیب ملک ہے وہاں بچہ پیدا ہوتا ہے اور چودہ پندرہ دنوں میں بالغ ہو جاتا ہے اور بیس بائیس دن کا ہوتا ہے تو اس کی شادی کر دیتے ہیں۔
     
    • زبردست زبردست × 3
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  4. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,852
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    :-1 , آیت:فَاعتَبِرُوا یا اُولِی الاَبصار
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,852
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    پلوٹو کی سرگزشت جناب قیصرانی صاحب سے ہم تک پہنچی (جواب نمبر 117)۔
    حسابات کی اغلاط کے باوجود، یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ ہمارے نظامِ شمسی میں کہیں بھی کوئی تغیر رو نما ہوتا ہے تو اس کا اثر ہماری زمین تک پہنچتا ہے چاہے وہ پلوٹو سے بھی پرے ہو۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  6. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,852
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    زمین کا قریب ترین ہمسایہ مریخ زمین سے کسی قدر چھوٹا بتایا جاتا ہے۔ ایک سائنس دان نے (نام یاد نہیں: شاید سٹیفن ہاکنز) بظاہر بہت عجیب بات کی: ’’اگر مریخ گم ہو جائے تو زمین اپنے دَوری راستے (سورج کے گرد اپنے مدار) سے بھٹک جائے گی‘‘۔
    ہمارے سورج کے گرد گھومنے والے سیارے کم و بیش ایک ہی پلین پر واقع ہیں، لہٰذا ان کے اپنے اپنے مدار پر ان کی رفتار، حجم، مقدارِ مادہ، (جس میں سورج کو مرکزی حیثیت حاصل ہے) ہماری زمین پر اثر انداز ہوتی ہے۔ سورج ہماری زمین سے تقریباً 33 لاکھ گنا بڑا ہے اور اس کی کشش پلوٹو سے بھی آگے تک مؤثر ہے۔ بہ فرضِ محال یہ کشش ایک لمحے کو معطل ہو جائے تو زمین سمیت یہ سارے سیارے خلائے بسیط میں کسی انجانے راستے پر چل نکلیں اور پھر شاید سورج کا اپنا وجود بھی خطرے میں پڑ جائے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  7. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,852
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    اس وقت سورج اپنے پورے ’’خاندان‘‘ کو لے کر خلاؤں کے سفر پر تیزی سے رواں ہے۔
    ایک ویب سائٹ کے مطابق:


    ۔۔۔۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  8. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,852
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    ہماری زمین اور سورج کا تعلق کچھ کچھ ایسا بھی ہے جیسا چندا ماموں اور اس کی اپیا کا ہے۔ ایک چیز اس میں جمع کر لیجئے کہ چندا ماموں زمین سے روشنی نہیں لیتے، سورج سے لے کر اپنی اپیا کی طرف بھیج دیتے ہیں۔ جب کہ زمین کی اپنی توانائیوں کا کثیر حصہ سورج سے ملنے والے عظیم تحفے ’’دھوپ‘‘ کا مرہونِ منت ہے۔ تبھی تو زمین سورج کے گرد ایک بڑے دائرے میں رقصاں ہے۔ اس دائرے کا اوسط رداس نو کروڑ میل ہے۔
    زمین کے مختلف رقص اور ان کی تفصیل پھر کبھی سہی، فی الحال یہ دیکھتے ہیں کہ زمین سورج کے گرد کس رفتار سے بھاگ رہی ہے۔
    ایک اور ویب سائٹ کے مطابق:



    ۔۔۔۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  9. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,852
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    چاند زمین کے گرد گھوم رہا ہے اور زمین سورج کے گرد، سورج اپنے ’’خاندان‘‘ کے دوسرے افراد (عطارد، زہرہ، مریخ اور اس کے چاند، مشتری، زحل اور اس کے چاند، نیپچون پلوٹو اور دو جڑواں بچے ان کا نام کوئی نہیں نمبر ہے) سمیت ہمیں لے کر خلا میں ایک طرف 12 کلومیٹر فی سیکنڈ اور دوسری طرف 7 کلومیٹر فی سیکنڈ (ملا جلا 14 کلومیٹر فی سیکنڈ) کے حساب سے بھاگا جا رہا ہے۔
    اس 14 کلومیٹر فی سیکنڈ میں زمین کا سورج کے گرد گھومنا )تقریباً 30 کلومیٹر فی سیکنڈ) اور چاند کا زمین کے گرد گھومنا (تقریباً 1 کلومیٹر فی سیکنڈ)!!! یہ بھی شامل کر لیجئے! ۔۔۔۔۔۔۔۔ سچی بات ہے کہ دماغ بھی گھومنے لگتا ہے۔

    مختصراً (موٹے موٹے حساب میں) زمین خلا میں سورج کے ساتھ ساتھ فی سیکنڈ ساڑھے بتیس کلومیٹر کے حساب سے بھاگ رہی ہے۔ یعنی ایک لاکھ سترہ ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ!! اس جناتی دوڑ میں ہم اس زمین پر پورے سکون اور اطمینان سے چلتے پھرتے مکان بناتے ہیں، فصلیں اگاتے ہیں، اور جملہ اقسام کے اچھے برے کام انجام دیتے پھر رہے ہیں!!!۔

    جناب الف عین ، محمد وارث ، مدیحہ گیلانی ، شمشاد ، قیصرانی ، انعام جی ، اور دیگر احباب۔

    اللہ رب کریم کے رحمان اور رحیم ہونے کا یہی ایک مظہر کافی نہیں کیا؟ توجہ فرمائیے گا!!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  10. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    کائنات کی وسعتیں تو اپنی جگہ، اگر ہم اپنی کہکشاں دیکھیں تو اس اتنی گہرائی ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ ابھی کل ہی کی خبر ہے کہ ہماری اپنی کہکشاں میں موجود زمین کے برابر حجم والے سیاروں کی تعداد سترہ ارب ہے۔ چند سال قبل تک یہ کہنا بھی مشکل تھا کہ آیا دیگر ستاروں کے سیارے بھی ہو سکتے ہیں

    واضح رہے کہ ہماری کہکشاں میں موجود ستاروں کی تعداد ایک سو سے چار سو ارب یعنی ایک سے چار کھرب کے درمیان ہے۔ یہ محض اندازہ ہے۔ جس میں کمی بیشی کے امکانات موجود ہیں۔ اس کی موٹائی ایک ہزار نوری سال کے برابر ہے اور اگر ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک جانا چاہیں تو ہمیں روشنی کی رفتار سے چلتے ہوئے ایک لاکھ سے ایک لاکھ بیس ہزار سال لگیں گے یعنی ایک لاکھ سے ایک لاکھ بیس ہزار نوری سال

    اگر مقابلہ کرنا چاہیں تو دیکھیں کہ انسان کی بنی ہوئی چیز جنہیں ہم وائجر اول اور وائجر دوم کے نام سے جانتے ہیں، اس وقت ہمارے نظام شمسی کے کنارے پر پہنچنے والے ہیں۔ اس جگہ کو ہیلیئو شیتھ کہتے ہیں۔ ابتداء میں ان کی رفتار کم تھی لیکن گریوٹی اسسٹ نامی تکنیک کی مدد سے ان کی رفتار بڑھائی گئی تھی اور اب یہ 35000 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے بڑھے جا رہے ہیں۔ 1977 سے اب تک اور زیادہ تر وقت اسی رفتار سے حرکت کرتے ہوئے یہ سیارچے زمین سے 16 گھنٹے کے نوری فاصلے پر پہنچ گئے ہیں۔ یعنی انسانی تیار کردہ مشین جس کی رفتار اگر اوسطاً 30000 میل فی گھنٹہ شمار ہو، 1977 سے اب تک محض اتنی دور پہنچی ہے جو روشنی سولہ گھنٹے میں طے کرتی ہے۔ اس سے اندازہ لگائیے کہ شمسی فاصلے کتنے بڑے ہیں۔ نزدیک ترین ستارہ، شاید جسے قنطورس اول کہتے ہیں، بھی چار نوری سال کے فاصلے پر موجود ہے :)
     
    • زبردست زبردست × 3
    • معلوماتی معلوماتی × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  11. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    بالکل سو فیصد بجا کہا۔ ابھی جتنے بھی نئے سیارے دریافت ہو رہے ہیں، ان میں سے شاید ہی کسی کا براہ راست مشاہدہ ہوا ہو۔ بالواسطہ مشاہدہ کر کے ان کے سورجوں پر پڑنے والے ذیلی اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے ان سیاروں کی موجودگی کا تیقن کیا جاتا ہے
     
    • متفق متفق × 1
  12. انعام جی

    انعام جی معطل

    مراسلے:
    250
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm

    یہ بھی دیکھئے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  13. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    206,415
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    موضوع سے متعلقہ یہ خبر بی بی سی پر نظر سے گزری :

    زمین کے برابر حجم کے سترہ ارب سیارے
    آخری وقت اشاعت : منگل 8 جنوری 2013، PST 14:26 09:26 GMT

    ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ ہماری کہکشاں میں زمین کے برابر حجم کے سترہ ارب سیارے پائے جاتے ہیں اور ہر چھ ستاروں میں سے ایک کے مدار میں ایسا ایک سیارہ گردش کر رہا ہے۔
    یہ نتائج کیپلر خلائی دور بین سے حاصل شدہ ڈیٹا میں ایسے اجرامِ فلکی کے تجزیے کے بعد سامنے آئے ہیں جو ممکنہ طور پر سیارے ہو سکتے ہیں۔
    کیپلر ٹیم نے مکمل تجزیے کے بعد چار سو اکسٹھ نئے سیاروں کی دریافت کی تصدیق کی ہے جس کے بعد دریافت شدہ سیاروں کی تعداد دو ہزار سات سو چالیس تک پہنچ گئی ہے۔
    ان نتائج کا اعلان کیلیفورنیا میں امریکی فلکیاتی سوسائٹی کے دو سو اکیسویں سالانہ اجلاس میں کیا گیا۔
    ---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

    ربط
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  14. گمنام زندگی

    گمنام زندگی محفلین

    مراسلے:
    1,310
    موڈ:
    Lurking
    منہ کُھلا کا کُھلا رہ گیا !
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • متفق متفق × 1

اس صفحے کی تشہیر