بارے نقشے کے کچھ معلومات درکار ہیں

خرم شہزاد خرم نے 'متفرقات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 5, 2013

  1. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,852
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    جناب خرم شہزاد خرم صاحب۔ اس سوال کا جواب پہلے ہی آ چکا ہے۔ جواب نمبر 89، 92 ملاحظہ فرمائیے۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • متفق متفق × 1
  2. خرم شہزاد خرم

    خرم شہزاد خرم لائبریرین

    مراسلے:
    10,840
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    جی سر جی ان جوابات کو ہی سامنے رکھ کر سوال کیے ہیں کہ چھ ماہ کی رات یا چھ ماہ کا دن تو نہیں ہوتا نا۔ بس 20 گھنٹے یا پھر جیسے قیصرانی بھائی نے بتایا کہ ہفتوں تک رات اور دن کا سلسلہ ہوتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ دو ہفتوں کی رات اور دوہفتوں کا دن ہوتا ہے چھ ماہ کا تو نہیں ہوتا؟؟ یا ہوتا ہے؟؟
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  3. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,852
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    ماہرینِ متحجرات و ارضیات وہ جس سو سالہ یا ہزار سالہ تاریک دور کی بات کرتے ہیں، جس میں دائنوسار اور دیگر کئی دیوہیکل جانور صفحہء ہستی سے مٹ گئے اور ان کے متحجرات (فوسلز) اب بھی موجود ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ اس تاریک دور کا آغاز ایک سیارچے کی وجہ سے ہوا۔
    ہوا یہ، کہ ایک بہت پڑا سیارہ خلائے بسیط میں تیرتا ہوا (اس تیرنے کی رفتار بھی ہزاروں لاکھوں میل فی گھنٹہ رہی ہو گی) زمین کے پاس سے گزر گیا (یہ بھی کوئی چند ہزار میل رہے ہوں گے) اور اس کی کششِ ثقل کے نتیجے میں زمین پر زلزلے اور پھر گرد و غبار کے وہ طوفان اٹھے جنہوں نے ایک سو یا شاید ایک ہزار سال تک (مجھے ٹھیک سے یاد نہیں) سورج کی روشنی کو زمین تک نہیں پہنچنے دیا۔ اس عرصے میں بہت سے جاندار روشنی نہ ملنے کی وجہ سے، پانی کے مکمل برف بن جانے کی وجہ سے ناپید ہو گئے۔

    واللہ اعلم بالصواب۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  4. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,852
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    میں اپنی حد تک آپ سے متفق ہوں۔ ڈرائنگ اور ڈایاگرام کے بغیر بات کرنا مشکل ہے تاہم کوشش کرتا ہوں کہ لفظوں میں کوئی نقشہ کھینچ سکوں، کہاں اقبال اور کہاں یہ فقیر!
    اگر چاہوں تو نقشہ کھینچ کر الفاظ میں رکھ دوں​
    مگر تیرے تخیل سے فزوں تر ہے وہ نظارہ​
    روئے سخن آپ کی طرف نہیں ہے، شعر یاد آ گیا سو نقل کر دیا۔
     
    • زبردست زبردست × 2
  5. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,852
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    جی تو ہوتا غالباً یہ ہے، یا یوں کہئے کہ ’’تھیوریٹی کلی‘‘ ایسا ہے کہ: (یہاں تاریخیں بھی فرضی ہیں)۔
    فرض کئے لیتے ہیں کہ شمالی نصف کرے میں گرما کا موسم ہے۔ شمالی قطبی دائرے میں 23 مارچ کو سورج طلوع ہوتا ہے، یعنی افق پر نظر آنے لگتا ہے اور پھر وہ غروب نہیں ہوتا بلکہ آسمان ہی میں چکر لگاتا نظر آتا ہے، ایک دن کا ایک چکر ۔۔ اور ہر چکر میں افق سے اوپر کو اٹھتا رہتا ہے۔ منطقی طور پر وہ ایک چکر ایک دن ہے یعنی 24 گھنٹے۔ یہاں تک کہ 21 یا 22 جون کو سورج عین سر پر ہوتا ہے، وہاں 24 گھنٹے تک رکا ہوا محسوس ہوتا ہے اور پھر اسی طرح چکر لگاتے لگاتے نیچے (افق کی طرف) آنے لگتا ہے۔ حتٰی کہ 23 ستمبر کو افق میں غروب ہو جاتا ہے۔
    اصولی طور پر یہ عرصہ 182، 183 دن کا ہوتا ہے اور تاریخوں کو بھی اسی حساب سے بدلنا چاہئے۔ اس کو علامتی طور پر کہہ لیجئے کہ چوں کہ وہاں 23 مارچ سے 23 ستمبر تک سورج غروب نہیں ہوا، سو وہ چھ مہینے کا ایک دن بنا۔ منطقی طور پر بھی جب ہم کہتے کہ ’’چھ ماہ کا دن‘‘ تو ہم ’’مہینوں‘‘ کی نفی نہیں کر رہے ہوتے۔
    اسی مفروضے کو انٹارکٹیکا پر لاگو کر لیجئے کہ وہاں افق سے سورج کا نظر آنا 23، 24 ستمبر کو ہے، عین سر پر ہونا 25 دسمبر کو اور افق میں ’’غروب‘‘ ہو جانا 22، 23 مارچ کو ٹھہرتا ہے۔
     
    • زبردست زبردست × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,852
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    رہی بات ’’رات‘‘ کی ۔۔۔۔۔۔ رات کی بات!!!
    چاند تو شاید وہاں دکھائی نہیں دیتا، مگر جیسے قیصرانی صاحب نے وضاحت کی، اگر وہاں کچھ لوگ آباد ہیں تو وہ کسی دوسرے مقام کی چاند کی تاریخوں کو اعتبار دیتے ہوں گے، جیسے ڈیٹ لائن میں ہوتا ہے۔
    مختصر یہ کہ ان دونوں خطوں میں ’’رات میں دن‘‘ اور ’’دن میں رات‘‘ پوشیدہ ہوتے ہیں۔ مجھے قرآنِ کریم کا فرمان یاد آ گیا:
    وہ (اللہ) رات میں دن اور دن میں رات شامل کرتا ہے​
    ۔۔۔ جزا ک اللہ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 2
  7. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,852
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    جواب نمبر 103 کے تسلسل میں عرض کرتا چلوں کہ:
    ’’آئس ایج‘‘ 1، 2، 3، 4 ۔۔۔ کارٹون موویز اسی تصور کی بنیاد پر بنائی گئی ہیں۔
     
    • زبردست زبردست × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  8. سید ذیشان

    سید ذیشان محفلین

    مراسلے:
    7,356
    موڈ:
    Asleep
    قطب شمالی اور جنوبی کے قریب علاقوں، خاص طور پر انٹارٹکا میں چھ ماہ رات اور چھ ماہ دن ہوتا ہے۔ اس کی وجہ زمین کا 23 اعشاریہ 5 ڈگری جھکاو ہے۔ اور یہی جھکاو موسموں کا بھی باعث بنتا ہے۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. انعام جی

    انعام جی معطل

    مراسلے:
    250
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    ویسے میرے خیال میں چاند کا فاصلہ زمین سے دو لاکھ انتالیس ہزار میل کے لگ بھگ ہے
     
    • معلوماتی معلوماتی × 3
  10. انعام جی

    انعام جی معطل

    مراسلے:
    250
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    ہمم سورج کی سطح یا فوٹو اسفیئر کا درجہ حرارت تقریبا ساڑھے پانچ ہزار سیلیئس ہے۔ اور یہی درجہ حرارت زمین کی انر کور کا بھی ہے
     
    • معلوماتی معلوماتی × 2
  11. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,852
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    بجا ارشاد! یہ وہی ساڑھے تئیس ڈگری کا جھکاؤ ہے، جو منطقہ حارہ کو اور قطبین کے دائروں کو جنم دیتا ہے۔
    منطقہ حارہ میں موسم کی تبدیلی ہوتی ضرور ہے مگر برائے نام۔ مجھے ملائشیا سے ایک دوست نے بتایا کہ : ’’یہاں سال میں صرف دو موسم ہوتے ہیں، ایک بارشوں کا موسم اور ایک نہ۔بارشوں کا موسم، باقی سب کچھ وہی رہتا ہے‘‘۔
    قطبین کے ساڑھے تئیس ڈگری کی بات ہو چکی۔
    اب رہ گئے وہ دو خطے جو شمالی اور جنوبی نصف کروں میں خطِ استوا سے ساڑھے تئیس اور ساڑھے پینسٹھ درجے تک کی پٹیوں میں آتے ہیں۔ وہاں ہر دو موسموں (سرما اور گرما) میں دن اور رات کے دورانئے میں فرق آتا ہے اور یہ فرق اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے جتنا ہم خطِ استوا سے دور ہوتے جائیں۔ پاکستان میں سب سے چھوٹا دن 25 دسمبر (طلوع آفتاب سے غروبِ آفتاب تک) غالباً گیارہ گھنٹے کا اور رات تیرہ گھنٹے کی ہوتی ہے اور سب سے بڑا دن 22 جون (طلوع آفتاب سے غروبِ آفتاب تک) تیرہ گھنٹے کا اور رات گیارہ گھنٹے کی۔
    درست اعداد و شمار دیکھ لیجئے گا، میں نے عمومی حافظے کی بنیاد پر بات کی ہے۔
    چین میں یہ فرق زیادہ ہے، روس میں اس سے بھی زیادہ فرق ہے۔ اور ناروے کی پٹی کے حوالے سے میری گزارش اور جناب قیصرانی صاحب کی توثیق پہلے آ چکی ہے۔
     
    • زبردست زبردست × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  12. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,852
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    سرِ تسلیم خم ہے، جناب انعام جی۔
    احباب چوالیس ہزار والی بات کو قلم زد کر دیں۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 3
  13. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,852
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    جواب نمبر 111 کے تسلسل میں ۔۔۔
    موسموں کی تبدیلی میں بلاشبہ عرض البلد کی اہمیت بنیادی ہے، تاہم موسموں کی رنگا رنگی میں ہر خطے کی جغرافیائی ہیئت اپنا اثر رکھتی ہے۔ پہاڑ، دریا، سمندر، جھیلیں، جنگلات، صحرا، مٹی کی ساخت (نرا پتھر، پتھریلی، ریتلی، چکنی، مَیرا، نری ریت) حتٰی کہ عمارات، صنعتیں، زراعت اور فی مربع میل آبادی، وغیرہ ۔۔ ۔۔ یہ سب کچھ اپنی اپنی حد تک موسموں پر اپنا اثر دکھاتے ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  14. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,852
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    اس کو یوں پڑھیں:

    یہ چاند میاں اپنی ’’اپیا‘‘ سے اتنا پیار کرتے ہیں کہ اس کے ارد گرد گھومتے رہتے ہیں، مگر ’’تھوڑا سا‘‘ فاصلہ رکھ کر (صرف دو ڈھائی لاکھ میل)۔ ڈرتے ہیں قریب آئے تو اپیا ڈانٹ دیں گی۔​




    بہت نوازش، جناب انعام جی ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • متفق متفق × 1
  15. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    جی میں نے دراصل اپنے ذہن میں موجود معلومات کو واضح کرنے کی کوشش کی کہ اگر کوئی کمی ہوئی تو آپ اسے درست فرما دیں گے۔ کرم نوازی کے لئے ممنون ہوں
     
    • دوستانہ دوستانہ × 2
  16. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    خرم شہزاد خرم بھائی آپ شاید یہ سمجھ رہے ہیں کہ جب ہم قطب شمالی سے ذرا نیچے ہوتے ہیں تو بارہ گھنٹے کا دن ہوگا، ایک قدم یا ایک کلومیٹر بعد جب قطب شمالی شروع ہوگا تو چھ ماہ کی رات اور چھ ماہ کا دن۔ ایسا نہیں۔ جوں جوں آپ قطب شمالی یا قطب جنوبی کے قریب ہوتے جاتے ہیں، سردیوں میں دن چھوٹے ہوتے جاتے ہیں اور گرمیوں کے دن بڑے۔ ہوتے ہوتے ایک مقام ایسا آتا ہے کہ وہاں کچھ عرصے کے لئے سورج یا تو غروب نہیں ہوتا یا طلوع نہیں ہوتا۔ اس مقام کے مرکز پر پہنچیں گے تو چھ ماہ کا دن اور چھ ماہ کی رات ہوگی

    یہ بات یاد رہے کہ جب آپ خط استوا سے جنوب کو جاتے ہیں تو اس کا موسم شمال کی نسبت الٹ ہو جاتا ہے۔ یعنی اگر شمالی نصف کرے میں سردیاں چل رہی ہیں تو جنوبی نصف کرے میں گرمیاں ہوں گی۔ یعنی ہم شمالی یورپ والے جب منفی 35 ڈگری "بھگت" رہے ہوتے ہیں تو آسٹریلیا والے آرام سے 35 ڈگری سورج کی گرمی میں دھوپ کے مزے لے رہے ہوتے ہیں
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • متفق متفق × 1
  17. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    پلوٹو کی دریافت ایک پورا لطیفہ ہے۔ اس کی پیشین گوئی کرنے والے صاحب کا خیال تھا کہ یہ نظام شمسی کا سب سے بڑا اور سب سے بھاری سیارہ ہوگا۔ کئی سال تک تلاش کی کی ناکام کوشش کے بعد ان کی وفات ہو گئی۔ ان صاحب کی وجہ شہرت یہ نہیں کہ انہوں نے پلوٹو کے وجود کے بارے پیشین گوئی کی بلکہ ان کی وجہ "بدنامی" یہ تھی کہ انہوں نے ایک تو سیارے حجم کے بارے غلط اندازہ لگایا دوسرا یہ بھی کہ انہوں نے یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ مریخ پر موجود مخلوق بہت ذہین ہے۔ مریخی قطبین پر برف اور پانی موجود ہے لیکن درمیانی حصہ انتہائی زرخیز ہونے کے باوجود خشک ہے۔ انہوں نے شاید یہ بھی دعوٰی کیا تھا کہ دوربین سے انہوں نے وہ نہریں بھی دیکھ لی ہیں جن کی مدد سے ذہین مریخی قطبین سے پانی خط استوا کو لے جاتے ہیں۔ تاہم ان کی وفات کے بعد جب ان کی جائیداد کے حصے بخرے ہوئے تو بعد میں کسی رشتہ دار نے ترس کھا کر ایک نوجوان شوقیہ فلکیات دان کو نوکر رکھا کہ تم تلاش کا کام جاری رکھو۔ مقصد یہ تھا کہ مریخی نہروں کے بارے لوگوں کی توجہ ہٹائی جائے جو اب ایک طرح سے تماشہ بن رہی تھی۔ اس نوجوان نے جلد ہی یہ سیارہ تلاش کر لیا۔ لوگوں کی توجہ دیگر باتوں سے اس لئے ہٹ گئی کہ امریکہ میں دریافت ہونے والا یہ پہلا سیارہ تھا :)

    معذرت یہ تو پوری کہانی ہو گئی :(
     
    • معلوماتی معلوماتی × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  18. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,852
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    آداب!
     
    • زبردست زبردست × 1
  19. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,852
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    ’’ٓآدھی رات کا سورج‘‘ ۔۔۔۔
    کسی انسائیکلوپیڈیا میں پڑھا تھا کہ قطب شمالی کے آس پاس کہیں رات ہو جاتی ہے، تو سورج نصف شب کے قریب پھر نکلتا ہے اور ایک آدھ ساعت بعد غروب ہو جاتا ہے، پھر معمول کے مطابق مشرق سے طلوع ہوتا ہے ؟؟؟؟؟؟؟۔

    کسی دوست کو اس کے بارے میں علم ہو تو یہاں ضرور شیئر کریں۔ بہت نوازش۔


    جناب قیصرانی ، جناب انعام جی ، جناب خرم شہزاد خرم ، جناب الف عین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  20. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    قطب شمالی میں سورج سردیوں میں زیادہ تر وقت افق سے نیچے ہی رہتا ہے۔ اس لئے یوں سمجھیئے کہ قطبی رات کے شروع اور آخر کا وقت کافی روشن ہوتا ہے جبکہ درمیانی عرصہ زیادہ تاریک۔ یہاں فن لینڈ میں گرمیوں میں جنوب میں بھی رات کو اتنی روشنی رہتی ہے آپ بغیر ٹارچ کے گھوم پھر سکتے ہیں
     
    • معلوماتی معلوماتی × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر