اردو میں تذکیر و تانیث کو سمجھنا

سرفراز احمد نے 'لکھنے پڑھنے میں مدد' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 5, 2020

  1. سید عاطف علی

    سید عاطف علی محفلین

    مراسلے:
    7,751
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    لیکن بھئی پھر بھی ۔ یہ نہ بھولے کہ۔
    جو ناز ہو بھی تو بے لذت نیاز نہیں ۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 3
  2. ٹائپنگ ماسٹر

    ٹائپنگ ماسٹر محفلین

    مراسلے:
    25
    اس سلسلے میں مرحوم معین اختر کا ایک ٹی وی کلپ نظر سے گزرا‘ جس میں صاحب نے ایک لطیفہ سنایا۔ کہتے ہیں کہ :-
    ایک پارک میں دو اشخاص بیٹھے تھے‘ اچانک ایک بول اُٹھا،
    ’’درخت کی شاخ پہ بیٹھ کے بلبل بولی‘‘
    دوسرے نے فوراً لقمہ دیا، ’’نہیں صاحب! ایسے نہیں بولتے‘‘ آپ کو کہنا چاہیے کہ ’’درخت کی شاخ پہ بیٹھ کے بلبل بولا‘‘
    خیر پہلے نے کہا نہیں بھائی صحیح یہ ہے کہ
    ’’درخت کی شاخ پہ بیٹھ کے بلبل بولی‘‘
    دوسرے صاحب بھی اَڑ گئے کہ ’’درخت کی شاخ پہ بیٹھ کے بلبل بولا‘‘
    خیر دونوں میں تکرار بڑھی تو اُنہوں نے فیصلہ کیا کہ پاس سے جاگنگ کرکے گزرتے ایک بڑے میاں سے پوچھیں، جو اُن کے خیال میں زیادہ پڑھے لکھے تھے اور پختہ عمری کے باعث اُردو زبان دانی کو زیادہ جانتے ہوں گے‘ چنانچہ بڑے میاں کو روکا تاکہ اُن سے تصحیح کروائی جاسکے کہ کون صحیح کہہ رہا ہے‘
    بڑے میاں نے دونوں کو غور سے سنا
    ایک نے کہا کہ
    ’’درخت کی شاخ پہ بیٹھ کے بلبل بولی‘‘
    دوسرے نے کہا کہ ’’درخت کی شاخ پہ بیٹھ کے بلبل بولا‘‘
    بڑے میاں نے کہا، جی نہیں آپ دونوں ہی غلط بول رہے ہو۔
    دونوں نے حیرانگی سے اُن سے استفسار کیا کہ اچھا آپ فرما دیں کہ دُرست جملہ کیا ہوسکتا ہے۔
    بڑے میاں نے ایک لمحہ توقف کیا‘ گہری سوچ میں خود کو غرق کیا پھر طویل اور گہری سانس لی اور بولے کہ لغت کے اعتبار سے بالکل ٹھیک جو ہے وہ یہ ہے کہ

    ’’درختاں کی شاخ پہ بیٹھ کو بُلبُلا بولاتئیں‘‘
    اور بڑے میاں کی پختہ عمری کے باعث اُن سے اُردو زبان دانی کی بابت مستند معلومات ملنے کا تصور کرکے اُن سے پوچھنے کی غلطی کرنے والے دونوں افراد سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔
     
    آخری تدوین: ‏جنوری 11, 2020
    • پر مزاح پر مزاح × 5
  3. عدنان عمر

    عدنان عمر محفلین

    مراسلے:
    774
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    اردو میں چاند مذکر ہے لیکن چاندنی مونث ہے۔:)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  4. یاقوت

    یاقوت محفلین

    مراسلے:
    455
    موڈ:
    Breezy
    مرشدی یوسفی صاحب نے بھی ""زرگزشت"" میں ""خان سیف الملوک خان"" والے باب میں یہ بات لکھی ہے الفاظ میں کمی بیشی ہوسکتی ہے لیکن مدعا یہی ہے۔
    فرماتے ہیں کہ ""تلور اور اردو زبان کی تذکروتانیث میں فرق کرنے کیلئے چھٹی حس درکار ہے""
     
    • پر مزاح پر مزاح × 3
  5. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    16,833
    اور کڑوا سچ بھی یہی ہے کہ بہت کم زبانوں میں تذکر و تانیث کے باقاعدہ اصول موجود ہیں۔
     
    • متفق متفق × 1
  6. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    16,833
    اردو و پشتو کے مذکر مونث میں کافی فرق ہے۔ تو ظاہر ہے دیگر زبانوں میں بھی ہوگا۔ اس حوالہ سے ایک لطیفہ نما سچا واقعہ یاد آیا۔
    میرے نانا جان مرحوم دوسری جنگ عظیم کے دوران سنگاپور میں جاپانیوں کی جیل میں قید تھے۔ ان کے ساتھ بڑی تعداد میں دیگر ہندوستانی فوجی بھی تھے جو برما کے محاذ پر شکست کھا کر جاپانیوں کے ہتھے چڑھ گئے تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ جیل کی اذیت اور بوریت کم کرنے کیلئے قیدی ایک ساتھی پٹھان کو تقریبا روزانہ تختہ مشق بناتے۔
    اسی سلسلہ میں ایک روز سب نے مل کر اس سے پوچھا کہ شیر انڈہ دیتی ہے یا بچہ دیتی ہے؟ اپنا کافی ریکارڈ لگوانے کے بعد بولے: "خوچا تم ہم کو بیوقوف سمجھتا! شیر انڈہ دیتی ہے نہ بچہ دیتی ہے، اس کی عورت دیتی ہے!" :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 4
  7. ٹائپنگ ماسٹر

    ٹائپنگ ماسٹر محفلین

    مراسلے:
    25
    بھائی اگر آپ کو یہ پتہ نہیں کہ فاعل مذکر ہے یا مؤنث تو آپ اس کا کھانے کا طریقہ دیکھیں۔
    اگر وہ نخرے دِکھا دِکھا کر تھوڑا تھوڑا چگتی ہے پھر اِدھر اُدھر دیکھتی ہے پھر تھوڑا تھوڑا چگتی ہے تو مطلب اُس کو اپنی ڈائیٹ کا خیال ہے لہٰذا مؤنث ہے۔
    اگر وہ سر جھکا کر بیبا بچہ بن کر بغیر نخرے دِکھائے دَھڑلّے سے نان سٹاپ چگتا ہے اور کھانے پر ٹوٹ پڑتا ہے تو مذکر ہے۔
    وما علینا الا البلغ ۔۔۔۔۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  8. سید عاطف علی

    سید عاطف علی محفلین

    مراسلے:
    7,751
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    بھائی ماسٹر صاحب ! نہ تو نخرے دکھانا تانیث کی علامت ہے نہ سر جھکانا اور بے خوف ہونا تذکیر کی علامت ہے ( خصوصا اس زمانے میں :) :) :) ) ۔ البتہ یہ جان کر خوشی ہوئی کہ آپ اس زمانے میں ہو کر بھی کسی بھلے زمانے میں رہتے ہیں ۔ آپ اس زمانے میں اگر یہ اصول لاگو کر کے بولیں گے تو آپ کی گفتگو یکسر دگرگوں ہو جانے کا اندیشہ ہو گا :) ۔
    در اصل قاعدے کسی بھی زبان میں زبان میں زبان بولنے اور لکھنے والوں کی اتباع سے سیکھے جائیں گے اور بس ۔اس کا کوئی اور طریقہ نہیں ۔
     
    • متفق متفق × 2

اس صفحے کی تشہیر