مرزا اسد الله خاں غالب

  1. میم الف

    درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا • غالبؔ

    عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا تجھ سے قسمت میں مری صورتِ قفلِ ابجد تھا لکھا بات کے بنتے ہی جدا ہو جانا دل ہوا کشمکشِ چارۂ زحمت میں تمام مٹ گیا گھسنے میں اس عقدے کا وا ہو جانا اب جفا سے بھی ہیں محروم ہم اللہ اللہ اس قدر دشمنِ اربابِ وفا ہو جانا ضعف سے...
  2. سیما علی

    غالب ہے کس قدر ہلاک فریب وفائے گل

    ہے کس قدر ہلاک فریب وفائے گل بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل آزادی نسیم مبارک کہ ہر طرف ٹوٹے پڑے ہیں حلقۂ دام ہوائے گل جو تھا سو موج رنگ کے دھوکے میں مر گیا اے واے نالۂ لب خونیں نوائے گل خوش حال اس حریف سیہ مست کا کہ جو رکھتا ہو مثل سایۂ گل سر بہ پائے گل ایجاد کرتی ہے اسے تیرے...
  3. عدنان عمر

    مرا مسلک ہے صلحِ کل ۔۔۔غالب کے یوم وفات پر لکھی گئی تحریر

    مرا مسلک ہے صلحِ کل جمعہ 14 فروری 2020 17:15 محمود الحسن -لاہور ( غالب کے یومِ وفات 15 فروری کے لیے لکھی گئی تحریر) ’فسانہ عجائب‘ اردو کلاسیک میں شمار ہوتی ہے۔ اس کے مصنف رجب علی بیگ سرور ایک دفعہ دلی میں غالب سے ملے تو ان سے پوچھا کہ کس کتاب کی اردو زبان عمدہ ہے؟ اس پر عظیم شاعر نے ’قصہ...
  4. طارق شاہ

    غالب مرزا اسدؔاللہ خاں :::::تُجھ سے جو اِتنی اِرادت ہے، تو کِس بات سے ہے؟ :::::: Assadullah KhaN Ghalib

    غزل مِرزا اسدؔاللہ خاں غالبؔ نُصرَتُ المُلک بَہادُر ! مُجھے بتلا ،کہ مُجھے تُجھ سے جو اِتنی اِرادت ہے، تو کِس بات سے ہے؟ گرچہ تُو وہ ہے کہ، ہنگامہ اگر گرم کرے رونَق ِبزٗمِ مَہ و مہر تِری ذات سے ہے اور مَیں وہ ہُوں کہ، گر جی میں کبھی غَور کرُوں غیر کیا، خُود مُجھے نفرت مِری اَوقات سے ہے...
  5. طارق شاہ

    غالب مرزا اسدؔاللہ خاں ::::: دیوانگی سے دَوش پہ زنّار بھی نہیں :::::: Assadullah KhaN Ghalib

    غزل مِرزا اسدؔاللہ خاں غالبؔ دیوانگی سے دَوش پہ زنّار بھی نہیں یعنی ہمارے جَیب میں اِک تار بھی نہیں دِل کو نیازِ حسرتِ دِیدار کر چُکے دیکھا تو، ہم میں طاقتِ دِیدار بھی نہیں مِلنا تِرا اگر نہیں آساں، تو سہل ہے ! دُشوار تو یہی ہے کہ، دُشوار بھی نہیں بے عِشق عُمر کٹ نہیں سکتی ہے، اور یاں طاقت...
  6. رحمت الله ترکمن

    میں اور غالب

    غالب سے میرا تعلق! غالب منشی حبیب اللہ زکاء کے نام ایک خط میں لکھتے ہیں کہ "میں قوم کا ترک سلجوقی ہوں۔ دادا میرا ماوراء النہر سے شاہ عالم کے وقت میں ہندوستان آیا۔" اور میرا قصہ کچھ یوں ہے کہ میں قوم کا ترک ترکمانی ہوں ( سلجوقی بھی ترکمانوں کے 24 بڑے قبائل میں سے ایک ہیں) اور میرا دادا بھی...
  7. فرحان محمد خان

    غالب وارستہ اس سے ہیں کہ محبّت ہی کیوں نہ ہو - مرزا غالب

    وارستہ اس سے ہیں کہ محبّت ہی کیوں نہ ہو کیجے ہمارے ساتھ، عداوت ہی کیوں نہ ہو چھوڑا نہ مجھ میں ضعف نے رنگ اختلاط کا ہے دل پہ بار، نقشِ محبّت ہی کیوں نہ ہو ہے مجھ کو تجھ سے تذکرۂ غیر کا گلہ ہر چند بر سبیلِ شکایت ہی کیوں نہ ہو پیدا ہوئی ہے، کہتے ہیں، ہر درد کی دوا یوں ہو تو چارۂ غمِ الفت...
  8. فرحان محمد خان

    غالب کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا - مرزا اسد اللہ خان غالب

    کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا دل کہاں کہ گم کیجے ہم نے مدعا پایا عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا درد کی دوا پائی، درد بے دوا پایا غنچہ پھر لگا کھلنے، آج ہم نے اپنا دل خوں کیا ہوا دیکھا، گم کیا ہوا پایا شورِ پندِ ناصح نے زخم پر نمک چھڑکا آپ سے کوئی پوچھے تم نے کیا مزا پایا فکرِ نالہ...
  9. ا

    پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہے

    پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہے سینہ جویائے زخم کاری ہے پھر جگر کھودنے لگا ناخن آمد فصل لالہ کاری ہے قبلۂ مقصد نگاہ نیاز پھر وہی پردۂ عماری ہے چشم دلال جنس رسوائی دل خریدار ذوق خواری ہے وہی صد رنگ نالہ فرسائی وہی صد گونہ اشک باری ہے دل ہوائے خرام ناز سے پھر محشرستان بیقراری ہے...
  10. فرحان محمد خان

    غالب خود جاں دے کے روح کو آزاد کیجئے-مرزا غالب

    خود جاں دے کے روح کو آزاد کیجئے تاکے خیالِ خاطرِ جلّاد کیجئے بھولے ہوئے جو غم ہیں انہیں یاد کیجئے تب جاکے ان سے شکوۀ بے داد کیجئے حالانکہ اب زباں میں نہیں طاقتِ فغاں پر دل یہ چاہتا ہے کہ فریاد کیجئے بس ہے دلوں کے واسطے اک جنبشِ نگاه اجڑے ہوئے گھروں کو پھر آباد کیجئے کچھ دردمند منتظرِ انقلاب...
  11. محمد خلیل الرحمٰن

    مرزا تفتہ کے نام

    مرزا تفتہ کے نام از محمد خلیل الرحمٰن جانِ غالبؔ یاد آتا ہے تمہارے عمِّ جانی سے سنا ہے میری فرہنگِ دساتیر آپ کے گھر پر ہے شاید پھر یہ کہتا ہوں وہاں ہوتی تو کیوں نا آپ ہی تُم بھیج دیتے تمُ کہ اک نورس ثمر ہو اس نہال ِ جانفزا کے جس نے خودآنکھوں کے میرےسامنے نشو و نما پائی ہےاور میں ہوں ہواخواہ و...
  12. نیرنگ خیال

    غالب کیا ہے ترکِ دنیا کاہلی سے

    کیا ہے ترکِ دنیا کاہلی سے ہمیں حاصل نہیں بے حاصلی سے خراجِ دیہہِ ویراں، یک کفِ خاک بیاباں خوش ہوں تیری عاملی سے پرافشاں ہو گئے شعلے ہزاروں رہے ہم داغ، اپنی کاہلی سے خدا، یعنی پدر سے مہرباں تر پھرے ہم در بدر ناقابلی سے اسؔد قربانِ لطفِ جورِ بیدل خبر لیتے ہیں، لیکن بیدلی سے
  13. طارق شاہ

    غالب مرزا اسداللہ خاں غالب ::::: مُدّت ہُوئی ہے یار کو مہماں کئے ہُوئے ::::Assadullah KhaN Ghalib

    غزل مرزا اسداللہ خاں غالبؔ مُدّت ہُوئی ہے یار کو مہماں کئے ہُوئے جوشِ قدح سے بزم چراغاں کئے ہُوئے کرتا ہُوں جمع پھر ، جگرِ لخت لخت کو عرصہ ہُوا ہے دعوتِ مژگاں کئے ہُوئے پھر وضعِ احتیاط سے رُکنے لگا ہے دم برسوں ہُوئے ہیں چاک گریباں کئے ہُوئے پھر گرمِ نالہ ہائے شرر بار ہے نفَس مُدّت ہُوئی ہے...
  14. طارق شاہ

    غالب :::: دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں -- Assadullah KhaN Ghalib

    مرزا اسداللہ خاں غالب دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں روئیں گے ہم ہزار بار، کوئی ہمیں ستائے کیوں دیر نہیں، حرم نہیں، در نہیں، آستاں نہیں بیٹھے ہیں رہ گزُر پہ ہم، غیر ہمیں اُٹھائے کیوں جب وہ جمالِ دل فروز، صورتِ مہرِ نیم روز آپ ہی ہو نظارہ سوز، پردے میں منہ چھپائے کیوں...
Top