مرزا تفتہ کے نام
از محمد خلیل الرحمٰن

جانِ غالبؔ

یاد آتا ہے تمہارے عمِّ جانی سے سنا ہے
میری فرہنگِ دساتیر آپ کے گھر پر ہے شاید
پھر یہ کہتا ہوں وہاں ہوتی تو کیوں نا آپ ہی تُم بھیج دیتے
تمُ کہ اک نورس ثمر ہو اس نہال ِ جانفزا کے
جس نے خودآنکھوں کے میرےسامنے نشو و نما پائی ہےاور میں
ہوں ہواخواہ و مربی اس نہالِ جانفزیں کا
مجھ کو تمُ سے پھر نہ کیونکر پیار ہوگا
اب تمہیں دیکھوں میں کیسے
اس کی دو ہی صورتیں ہیں
تُم ہی دلی آؤ یا پھر میں لوہارو آرہوں، پر
تم ہو مجبور اور یوں معذور ہوں میں
خود یہ کہتا ہوں کہ میرا عذرِ زنہار اس طرح مسموع نہ ہو جب تلک یہ نہ سمجھ لو
کون ہوں میں اور میرا ماجرا کیا
اب سنو کہ دو ہیں عالم
ایک ہے ارواح کااور ایک عالم آب و گِل کا
حاکم ان دونوں کا جو ہے
حق ہے ،فرماتا ہے خود ہی
آج ہے کس کے لیے یہ پادشاہی
اور پھر وہ آپ ہی خود بولتا ہے
واحد القہار اللہ کے لیے ہے
یوں اگرچہ قاعدہ اِک عام ہےیہ
اس جہانِ آب و گِل کے سارے مجرم
عالمِ ارواح میں پاتے سزا ہیں
لیکن ایسا بھی ہوا ہے
عالمِ ارواح میں جس نے خطا کی ہے اسے اس عالمِ دنیا میں بھیجا اور سزا دی
یوں رجب کی آٹھویں تھی جب یہ عاجز روبکاری کےلیے بھیجا گیا ہے
اور پھر تیرہ برس کے بعد میرے واسطے حکمِ دوامِ حبس بھی صادر ہوا ہے
ایک بیڑی ڈال دی پاؤں میں میرے
اور دلی شہر کو زنداں مقرر کردیا ہے
یوں مجھے زنداں میں ڈالا
فکرِ نظم و نثر کو میری مشقت کردیا ہے
بعد برسوں جیل خانے سے میں بھاگا
پھر بلادِ شرقیہ میں کچھ برس پھرتا رہا ہوں
مجھ کو پایاں کار کلکتے سے پکڑ ا اور اسی مجلس میں آکر لا بٹھایا
جب بغاوت پر مجھے آمادہ پایا
دو بڑھاکر اور ہتھکڑیاں لگادیں
پاؤں بیڑی سے فگاراور ہاتھ ہتھکڑیوں سے زخمی
یوں مشقت اور بھی مشکل ہوئی تھی
ساری طاقت یک قلم زائل ہوئی، پربے حیا ہوں
پھر گزشتہ سال بیڑی اس عقوبت خانہٗ زنداں میں چھوڑی
ساتھ ہتھکڑیوں کے بھاگا
اور مراد آباد پہنچا
دو مہنیےسے بھی کچھ کم ، میں وہاں تھا
پھراچانک آن پکڑا
اب کیا ہے عہد کہ میں پھر نہ بھاگوں گا کبھی یوں
بھاگ لوں پربھاگنے کی اب کسے طاقت رہی ہے
دیکھیے حکمِ رہائی کب ہو صادر
اک ذرا سا احتمالِ آخری ہے
چھوٹ جاؤں گا میں ذی الحجہ میں اب کے
پھر رہائی پانے والا بس سوائے اپنے گھر کے اور کہیں جاتا نہیں ہے
سوچتا ہوں اس نجاتِ آخری کے بعد میں بھی عالمِ ارواح جاؤں


ٌٌٌٌٌٌٌٌ ٌٌٌ

جانِ غالب!
یاد آتا ہے کہ تمہارے عمّ نامدار سے سنا ہے کہ لغات دساتیر کی فرہنگ وہاں ہے ۔ اگر ہوتی تو کیوں نہ تم بھیج دیتے۔ خیر
آنچہ ما درکار داریم اکثرے درکار نیست
تم ثمر نورس ہو اس نہال کے کہ جس نے میری آنکھوں کے سامنے نشو ونما پائی ہے اور میں ہوا خواہ و سایہ نشین اُس نہال کا رہا ہوں کیونکر تم مجھ کو عزیز نہ ہوگے۔رہی دید وادید۔ اس کی دو صورتیں ہیں۔ تم دلی میں آؤ یا میں لوہارو آؤں تم مجبور میں معذور ، خود کہتا ہوں کہ میرا عذر زنہار مسموع نہ ہو جب تک نہ سمجھ لو کہ میں کون ہوں اور میرا ماجرا کیا ہے۔
سُنو! عالم دو ہیں۔ ایک عالمِ ارواح اور ایک عالمِ آب و گِل۔ حاکم ان دونوں عالموں کا وہ ایک ہے جو خود فرماتا ہے (لمن المکک الیوم) اور پھر آپ جواب دیتا ہے ( للہِ الواحد القہار) ہر چند قاعدہ عام یہ ہے کہ عالمِ آب و گِل کے مجرم عالمِ ارواح میں سز اپاتے ہیں لیکن یوں بھی ہوا ہے کہ عالمِ ارواح کے گنہگار کو دنیا میں بھیج کر سزا دیتے ہیں۔ چنانچہ میں آٹھوین رجب ۱۲۱۲ ھ میں روبکاری کے واسطے یہاں بھیجا گیا ۔ ۱۳ برس حوالات میں رہا ۔ ۷ رجب ۱۲۲۵ ھ کو میرے واسطے حکمِ دوامِ حبس صادر ہوا۔ ایک بیڑی میرے پاؤں میں ڈال دی اور دلی شہر کو زندان مقرر کیا اور مجھے اس زندان میں ڈال دیا۔ فکر و نظم و نثر کو مشقت ٹھہرایا۔ برسوں کے بعد میں جیل خانے سے بھاگا۔ تین برس بلادِ شرقیہ میں پھرتا رہا ۔ پایان کار مجھے کلکتہ سے پکڑ لائے اور پھر اسی مجلس میں بٹھا دیا۔ جب دیکھا کہ یہ قیدی گریز پا ہے ۔ دو ہتھکڑیاں اور بڑھادیں پاؤں بیڑی سے فگار ہاتھ ہتھ کڑیوں سے زخم دار ۔ مشقت مقرری اور مشکل ہوگئی۔ طاقت یک قلم زائل ہوگئی۔بے حیا ہوں۔ سالِ گزشتہ بیڑی کو زندان میں چھوڑ، مع دونوں ہتھکڑیوں کے بھاگا۔ میرٹح مراد آباد ہوتا ہوا، رام پور پہنچا ۔ کچھ دن کم دو مہنیے وہاں رہا تھا کہ پھر پکڑ آیا۔ اب عہد کیا کہ پھر نہ بھاگوں گا۔ بھاگوں کیا، بھاگنے کی طاقت بھی تو نہ رہی۔ حکمِ رہائی دیکھیے کب صادر ہو۔ ایک ضعیف سا احتمال ہے کہ اس ماہ ذی الحجہ میں چھوٹ جاؤں۔ بہر تقدیر بعد رہائی کے تو آدمی سوائے اپنے گھر کے اور کہیں نہیں جاتا۔ میں بھی بعد نجات سیدھا علمِ ارواح کو چلا جاؤں گا۔​
 
آخری تدوین:
آتے ہیں غیب سے یہ خیالات ذہن میں !!!

بہت مختلف اور خوبصورت! خلیل بھائی بہت بہت مبارکباد!! میرے علم میں نہیں ہے کہ اس سے پہلے اردو کی کلاسیکی نثر کو کسی نے اس طرح منظوم کرنے کی کوشش کی ہو۔ ویسے تو خطوط میں غالب کی نثر مقفیٰ و مسجع طرز ہی کی رہی ہے لیکن اسے باقاعدہ کسی وزن مین منظوم کرنا ایک منفرد اور دلچسپ تجربہ ہے ۔ فی الحال شروع سے آخر تک لطف کی خاطر پڑھا ہے اور واقعی مزا آگیا ۔ یہ لائن دیکھئے:
پھر یہ کہتا ہوں وہاں ہوتی تو کیوں نا آپ ہی تُم بھیج دیتے
بہت ہی اچھا کہا ہے خلیل بھائی ۔ حالانکہ اصل خط میں ’’آپ ہی‘‘ کے الفاظ نہیں ۔ لیکن ادبی و علمی حلقوں میں یہ بات بخوبی معلوم ہے کہ غالب کے دور میں آپ ہی بمعنی خود ہی عام بول چال میں مستعمل تھا ۔ یہ ترجمہ دیکھ کر مزا آیا ۔ یہ آپ کی زبان دانی کا ثبوت ہے ۔ اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ!

خلیل بھائی دلچسپ بات یہ ہے کہ ’’انتخابِ خطوطِ غالب‘‘ مطبوعہ اردو اکیڈمی سندھ میرے پاس بھی ہائی اسکو ل کے زمانے میں ہوا کرتی تھی ۔ گہرے پیلے رنگ کا پیپر بیک جس پر سبز رنگ کی پٹی ہوتی تھی ۔ اردو اکیڈمی والے کلاسیک ادب چھاپتے تھے اور ان کی درجنوں کتب میرے مجموعے میں ہوا کرتی تھیں ۔ وہ مجموعہ جو ہمارے گھر سے جانے کے بعد پچھلی صدی والوں نے ردی والوں کو اور پھر ردی والوں نے سموسے پکوڑے والوں کو بیچ دیا ۔ :):):)
 
خلیل بھائی دلچسپ بات یہ ہے کہ ’’انتخابِ خطوطِ غالب‘‘ مطبوعہ اردو اکیڈمی سندھ میرے پاس بھی ہائی اسکو ل کے زمانے میں ہوا کرتی تھی ۔ گہرے پیلے رنگ کا پیپر بیک جس پر سبز رنگ کی پٹی ہوتی تھی ۔ اردو اکیڈمی والے کلاسیک ادب چھاپتے تھے اور ان کی درجنوں کتب میرے مجموعے میں ہوا کرتی تھیں ۔ وہ مجموعہ جو ہمارے گھر سے جانے کے بعد پچھلی صدی والوں نے ردی والوں کو اور پھر ردی والوں نے سموسے پکوڑے والوں کو بیچ دیا ۔ :):):)

ظہیر بھائی!
ذرا اپنے ذہن کو کئی سال پیچھے لے جائیے اور لطف اُٹھائیے

IMG_1458_zpsam50tkoh.jpg


IMG_1459_zpstujbcs0p.jpg
 

الف عین

لائبریرین
واہ واہ، مزا آ گیا
لیکن غالب خود اس کو دیکھتے تو ’کہ‘ اور ’نہ‘ پر اعتراض کر دیتے کہ میاں ہم نے دلی والے بھی دیکھے، اور لکھنؤ والے بھی، اور دور ایک دیس دکن نام کا ہے، وہاں سے بھی بھولے بھٹکے کوئی کوئی شاعر ادھر آ جاتا ہے۔ مگر ہم نے تو ایسا کہیں نہیں سنا کہ کوئی اسے طویل باندھتا ہو!!
اس کے علاوہ یہ رجب میں تشدید کہاں سے آ گئی؟ اوزان کی ضرورت کے لیے تو ’رجب کی آٹھویں‘ بھی کہا جا سکتا تھا۔
 

الف عین

لائبریرین
یہ اکیڈمی لائبریری کیا سستی کتابیں چھاپتی تھی؟
’سب کچھ مہنگا ہو گیا مگر کتابیں سستی ہو گئیں‘ کے اشتہار کے ساتھ یہاں بھی ایک ایک روپئے میں ساٹھ ستر کی دہائیوں میں کتابیں چھپیں۔ ستار پاکٹ بکس دائمنڈ پاکٹ بکس وغیرہ اور کئی پاکٹ بکس ہندوستان میں شروع ہوئیں۔ ایک ایک روپئے میں۔ بعد میں دو دو روپئے بھی ہو گئی تھیٕ قیمت۔
 
ظہیر بھائی!
ذرا اپنے ذہن کو کئی سال پیچھے لے جائیے اور لطف اُٹھائیے

آپ نے واقعی مجھے ستر کی دہائی میں پہنچادیا خلیل بھائی! کیا اچھے دن تھے !! اور بالکل یہی کتاب تھی ۔ ایسا لگ رہا کہ ابھی کچھ دن پہلے ہی اس ہاتھوں میں اٹھائے پڑھ رہا تھا ۔ تمام قدیم اساتذہ کا کلام ، میر درد، میر تقی میر ، خواجہ آتش ، یادگارِ غالب وغیرہ یہ سب اکیڈمی والوں نے چھا پی تھیں اور تین چار روپوں میں ملا کرتی تھیں ۔ شان الحق حقی صاحب شاید منتظم و مہتمم ہوا کرتے تھے اس کے ۔
محمد خلیل الرحمٰن بھائی آپ کو تو یہ کتاب کلاس میں دوئم آنے پر ملی تھی لیکن ہم نے سالانہ امتحان کا نتیجہ نکلنے والے دن شام کو جاکر کرارے کرارے تازہ نوٹوں سے خریدی تھی ۔ قصہ اس کا یوں ہے کہ خوش قسمتی سے ہم بھی ہر جماعت میں اول دوئم وغیرہ آیا کرتے تھے ۔ جس کا پڑھائی وغیرہ سے کوئی تعلق نہیں تھا کیونکہ کورس کی کتابیں تو سال کے شروع میں ایک دو مہینوں ہی میں ختم کردیا کرتے تھے پھر باقی سال تو ادبی کتابیں اور رسالے وغیرہ ہی پڑھا کرتے تھے ۔ سو جس دن سالانہ امتحان کا نتیجہ نکلتا اس دن شام کو تمام لوگ ہمارے گھر مبارکباد دینے اور ملنے آیا کرتے تھے۔ امی ڈھیر سارے لڈو اور امرتیا ں منگا کر رکھتی تھیں اور ان سے ہر آنے والے کا منہ میٹھا کروایا کرتی تھیں ۔ میری خالائیں اور چچا وغیرہ میرے گلے میں گلابوں کا ہار لاکر ڈالتے تھے جس کے اکثر پھول میں ایک آدھ گھنٹے ہی میں چبا کر کھا لیا کرتا تھا ۔ برگِ گلاب مجھے چبانے میں اچھا لگتا تھا ۔ :):):) میری امی البتہ میرے گلے میں نوٹوں کا ہار منگوا کر ڈالا کرتی تھیں ۔ اس زمانے میں روپےکی بڑی قیمت تھی ۔ عموما پچیس روپے ہوتے تھے ایک ہار میں ۔ میٹرک میں پاس ہونے پر البتہ سو روپوں والا ہار منگوایا گیا تھا ۔ خیر ۔ سو ہوتا یوں تھا کہ نوٹوں کا ہار گلے میں پڑنے کے بعد مجھ سے ایک پل نہیں رہا جاتا تھا ۔ بس یہ کوشش ہوتی تھی کہ کسی طرح جلدی سے زنبور کی مدد سے اس ہار سے سارے نوٹ ایک ایک کرکےنکالے جائیں اورجلد ازجلد کتابوں کی دکان پر پہنچا جائے کیونکہ دکان سات بجے بند ہوجایا کرتی تھی ۔ پچیس روپے ہار کے اور پانچ سات روپے مزید کہ جو چچا خالو وغیرہ پاس ہونے پر دے دیا کرتے تھے ، یہ کثیر سرمایہ لے کر کس پھرتی اور آن بان سے مابدولت کتابیں خریدنے جایا کرتے تھے ۔ سارا سال تو اتنے پیسے ایک ساتھ کبھی ہوتے نہیں تھے اُس عمر میں ۔ سو اس موقع کا انتظار رہتا تھا ۔ آپ نے یہ تصویر دکھا کر یہ ساری باتیں یاد دلادیں ۔ اللہ آپ کو خوش رکھے!

اور ہاں ! درجہء ہفتم میں دوئم آنے پر آپ کو مبارکباد ۔ غالباً کچھ دیر ہوگئی ہے خلیل بھائی ، لیکن مبارکباد وغیرہ تو کبھی باسی نہیں ہوتی ۔ لہٰذا قبول فرمائیے ۔ :):):)
 
یہ اکیڈمی لائبریری کیا سستی کتابیں چھاپتی تھی؟
’سب کچھ مہنگا ہو گیا مگر کتابیں سستی ہو گئیں‘ کے اشتہار کے ساتھ یہاں بھی ایک ایک روپئے میں ساٹھ ستر کی دہائیوں میں کتابیں چھپیں۔ ستار پاکٹ بکس دائمنڈ پاکٹ بکس وغیرہ اور کئی پاکٹ بکس ہندوستان میں شروع ہوئیں۔ ایک ایک روپئے میں۔ بعد میں دو دو روپئے بھی ہو گئی تھیٕ قیمت۔
جی ہاں اعجاز بھائی ۔ اس ادارے کو سرکاری سرپرستی حاصل تھی اور یہ اس زمانے کے حساب سے معیاری اور کم قیمت کتب چھاپتے تھے ۔ اس کے علاوہ اسی کی دہائی میں شاہکار بک اور اسی طرح کے ایک دو اور ادارون نے (شاید فیروز سنز بک پبلشرز) رسالے کے سائز میں نسبتاً بہتر نیوز پرنٹ پر غیر مجلد سستی کتابیں جاری کی تھیں ۔ ان مین سے اکثر انگریزی ادب سے تراجم وغیرہ بھی ہوا کرتے تھے ۔ مجھے یاد ہے کہ ان کی قیمت تین چار روپے ہوا کرتی تھی ۔ لیکن یہ بھی یاد ہے کہ یہ سلسلے زیادہ دیر تک نہیں چل سکے تھے ۔ وجوہات سے تو آپ واقف ہی ہیں ۔
 
یہ اکیڈمی لائبریری کیا سستی کتابیں چھاپتی تھی؟
’سب کچھ مہنگا ہو گیا مگر کتابیں سستی ہو گئیں‘ کے اشتہار کے ساتھ یہاں بھی ایک ایک روپئے میں ساٹھ ستر کی دہائیوں میں کتابیں چھپیں۔ ستار پاکٹ بکس دائمنڈ پاکٹ بکس وغیرہ اور کئی پاکٹ بکس ہندوستان میں شروع ہوئیں۔ ایک ایک روپئے میں۔ بعد میں دو دو روپئے بھی ہو گئی تھیٕ قیمت۔

ایک اور ہوتی تھی، ہند پاکٹ بکس، جن کی کتابیں گاہے بگاہے پاکستان میں بھی دستیاب ہو جاتی تھیں۔
 
مرزا تفتہ کے نام
از محمد خلیل الرحمٰن

جانِ غالبؔ

یاد آتا ہے تمہارے عمِّ جانی سے سنا ہے
میری فرہنگِ دساتیر آپ کے گھر پر ہے شاید
پھر یہ کہتا ہوں وہاں ہوتی تو کیوں نا آپ ہی تُم بھیج دیتے
تمُ کہ اک نورس ثمر ہو اس نہال ِ جانفزا کے
جس نے خودآنکھوں کے میرےسامنے نشو و نما پائی ہےاور میں
ہوں ہواخواہ و مربی اس نہالِ جانفزیں کا
مجھ کو تمُ سے پھر نہ کیونکر پیار ہوگا
اب تمہیں دیکھوں میں کیسے
اس کی دو ہی صورتیں ہیں
تُم ہی دلی آؤ یا پھر میں لوہارو آرہوں، پر
تم ہو مجبور اور یوں معذور ہوں میں
خود یہ کہتا ہوں کہ میرا عذرِ زنہار اس طرح مسموع نہ ہو جب تلک یہ نہ سمجھ لو
کون ہوں میں اور میرا ماجرا کیا
اب سنو کہ دو ہیں عالم
ایک ہے ارواح کااور ایک عالم آب و گِل کا
حاکم ان دونوں کا جو ہے
حق ہے ،فرماتا ہے خود ہی
آج ہے کس کے لیے یہ پادشاہی
اور پھر وہ آپ ہی خود بولتا ہے
واحد القہار اللہ کے لیے ہے
یوں اگرچہ قاعدہ اِک عام ہےیہ
اس جہانِ آب و گِل کے سارے مجرم
عالمِ ارواح میں پاتے سزا ہیں
لیکن ایسا بھی ہوا ہے
عالمِ ارواح میں جس نے خطا کی ہے اسے اس عالمِ دنیا میں بھیجا اور سزا دی
یوں رجب کی آٹھویں تھی جب یہ عاجز روبکاری کےلیے بھیجا گیا ہے
اور پھر تیرہ برس کے بعد میرے واسطے حکمِ دوامِ حبس بھی صادر ہوا ہے
ایک بیڑی ڈال دی پاؤں میں میرے
اور دلی شہر کو زنداں مقرر کردیا ہے
یوں مجھے زنداں میں ڈالا
فکرِ نظم و نثر کو میری مشقت کردیا ہے
بعد برسوں جیل خانے سے میں بھاگا
پھر بلادِ شرقیہ میں کچھ برس پھرتا رہا ہوں
مجھ کو پایاں کار کلکتے سے پکڑ ا اور اسی مجلس میں آکر لا بٹھایا
جب بغاوت پر مجھے آمادہ پایا
دو بڑھاکر اور ہتھکڑیاں لگادیں
پاؤں بیڑی سے فگاراور ہاتھ ہتھکڑیوں سے زخمی
یوں مشقت اور بھی مشکل ہوئی تھی
ساری طاقت یک قلم زائل ہوئی، پربے حیا ہوں
پھر گزشتہ سال بیڑی اس عقوبت خانہٗ زنداں میں چھوڑی
ساتھ ہتھکڑیوں کے بھاگا
اور مراد آباد پہنچا
دو مہنیےسے بھی کچھ کم ، میں وہاں تھا
پھراچانک آن پکڑا
اب کیا ہے عہد کہ میں پھر نہ بھاگوں گا کبھی یوں
بھاگ لوں پربھاگنے کی اب کسے طاقت رہی ہے
دیکھیے حکمِ رہائی کب ہو صادر
اک ذرا سا احتمالِ آخری ہے
چھوٹ جاؤں گا میں ذی الحجہ میں اب کے
پھر رہائی پانے والا بس سوائے اپنے گھر کے اور کہیں جاتا نہیں ہے
سوچتا ہوں اس نجاتِ آخری کے بعد میں بھی عالمِ ارواح جاؤں


ٌٌٌٌٌٌٌٌ ٌٌٌ
ماشا اللہ۔ آپ اپنی ہر پوسٹ کے ساتھ لاجواب کیے جاتے ہیں۔ اللہ کرے زورِ قلم اورررررررررررر بھی زیادہ۔ آمین۔
گزشتہ دنوں ڈاکٹر اشفاق احمدورک کی کتابیں پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ انھوں نے اپنی دو کتابوں "قلمی دشمنی"اور "خود ستائیاں"میں غالب کا خود نوشت خاکہ تحریر کیا ہے۔ اس کے ذرائع میں انھوں نے تمام خطوطِ غالب کے مطالعے کے بعد ایک ایک جملہ اٹھا کر اکٹھا کیا اور اس کو پورے خود نوشت خاکے کی شکل دے دی۔ ایک خاکے میں سو سے زائد حوالے اکٹھے کر دیے ہیں۔ آپ کا کام غالب کے حوالے سے یقینا ایک حوالے کا کام ہے۔
 
سبحان اللہ!
کیسا زرخیز ذہن پایا ہے، ماشاءاللہ۔ ظہیرؔ بھائی بالکل بجا فرما رہے ہیں۔ یہ اچھوتا خیال شاید ہی پہلے کسی کو آیا ہو۔ ہماری جانب سے اس اعزاز پر مبارک باد قبول فرمائیے۔ :):):)
لطف تو یہ ہے کہ مرزا نوشہ کا اندازِ تحریر نظم میں مسخ نہیں ہوا۔ یہ بہت بڑا کمال ہے۔ بہت بڑا کمال! :applause::applause::applause:
 
آتے ہیں غیب سے یہ خیالات ذہن میں !!!

بہت مختلف اور خوبصورت! خلیل بھائی بہت بہت مبارکباد!! میرے علم میں نہیں ہے کہ اس سے پہلے اردو کی کلاسیکی نثر کو کسی نے اس طرح منظوم کرنے کی کوشش کی ہو۔ ویسے تو خطوط میں غالب کی نثر مقفیٰ و مسجع طرز ہی کی رہی ہے لیکن اسے باقاعدہ کسی وزن مین منظوم کرنا ایک منفرد اور دلچسپ تجربہ ہے ۔ فی الحال شروع سے آخر تک لطف کی خاطر پڑھا ہے اور واقعی مزا آگیا ۔ یہ لائن دیکھئے:
پھر یہ کہتا ہوں وہاں ہوتی تو کیوں نا آپ ہی تُم بھیج دیتے
بہت ہی اچھا کہا ہے خلیل بھائی ۔ حالانکہ اصل خط میں ’’آپ ہی‘‘ کے الفاظ نہیں ۔ لیکن ادبی و علمی حلقوں میں یہ بات بخوبی معلوم ہے کہ غالب کے دور میں آپ ہی بمعنی خود ہی عام بول چال میں مستعمل تھا ۔ یہ ترجمہ دیکھ کر مزا آیا ۔ یہ آپ کی زبان دانی کا ثبوت ہے ۔ اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ!

خلیل بھائی دلچسپ بات یہ ہے کہ ’’انتخابِ خطوطِ غالب‘‘ مطبوعہ اردو اکیڈمی سندھ میرے پاس بھی ہائی اسکو ل کے زمانے میں ہوا کرتی تھی ۔ گہرے پیلے رنگ کا پیپر بیک جس پر سبز رنگ کی پٹی ہوتی تھی ۔ اردو اکیڈمی والے کلاسیک ادب چھاپتے تھے اور ان کی درجنوں کتب میرے مجموعے میں ہوا کرتی تھیں ۔ وہ مجموعہ جو ہمارے گھر سے جانے کے بعد پچھلی صدی والوں نے ردی والوں کو اور پھر ردی والوں نے سموسے پکوڑے والوں کو بیچ دیا ۔ :):):)

آداب عرض ہے ظہیراحمدظہیر بھائی۔
 
ماشا اللہ۔ آپ اپنی ہر پوسٹ کے ساتھ لاجواب کیے جاتے ہیں۔ اللہ کرے زورِ قلم اورررررررررررر بھی زیادہ۔ آمین۔
گزشتہ دنوں ڈاکٹر اشفاق احمدورک کی کتابیں پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ انھوں نے اپنی دو کتابوں "قلمی دشمنی"اور "خود ستائیاں"میں غالب کا خود نوشت خاکہ تحریر کیا ہے۔ اس کے ذرائع میں انھوں نے تمام خطوطِ غالب کے مطالعے کے بعد ایک ایک جملہ اٹھا کر اکٹھا کیا اور اس کو پورے خود نوشت خاکے کی شکل دے دی۔ ایک خاکے میں سو سے زائد حوالے اکٹھے کر دیے ہیں۔ آپ کا کام غالب کے حوالے سے یقینا ایک حوالے کا کام ہے۔
خوش رہیے جناب
 
سبحان اللہ!
کیسا زرخیز ذہن پایا ہے، ماشاءاللہ۔ ظہیرؔ بھائی بالکل بجا فرما رہے ہیں۔ یہ اچھوتا خیال شاید ہی پہلے کسی کو آیا ہو۔ ہماری جانب سے اس اعزاز پر مبارک باد قبول فرمائیے۔ :):):)
لطف تو یہ ہے کہ مرزا نوشہ کا اندازِ تحریر نظم میں مسخ نہیں ہوا۔ یہ بہت بڑا کمال ہے۔ بہت بڑا کمال! :applause::applause::applause:
جزاک اللہ حضرت
 

محمداحمد

لائبریرین
واہ واہ واہ!

ماشاءاللہ ۔۔۔! غالب کی پیچدار نثر کو کیا خوب نظم کیا ہے اپ نے۔ لطف آگیا۔ یقیناً اس نثر کو نظم میں ڈھالنا آسان ہرگز نہ ہوگا۔

بہت بہت مبارکباد اور داد قبول کیجے محترم خلیل الرحمٰن بھائی!

ہمیشہ شاد آباد رہیے۔ :)
 
یہ لائن دیکھئے:
پھر یہ کہتا ہوں وہاں ہوتی تو کیوں نا آپ ہی تُم بھیج دیتے
بہت ہی اچھا کہا ہے خلیل بھائی ۔ حالانکہ اصل خط میں ’’آپ ہی‘‘ کے الفاظ نہیں ۔ لیکن ادبی و علمی حلقوں میں یہ بات بخوبی معلوم ہے کہ غالب کے دور میں آپ ہی بمعنی خود ہی عام بول چال میں مستعمل تھا ۔ یہ ترجمہ دیکھ کر مزا آیا ۔ یہ آپ کی زبان دانی کا ثبوت ہے ۔ اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ
بارِ دگر آداب۔ ایک لطیفہ پڑھا، سوچا کہ اسے بھی شریکِ محفل کریں۔

’’آپ ہی‘‘ بمعنی خود ہی۔ اسی طرح ’’آپ کو‘‘ بمعنی’’ اپنے تئیں‘‘ بھی مستعمل تھا۔

’’لکھنئو کی ایک صحبت میں جب کہ مرزا وہاں موجود تھے، ایک روز لکھنئو اور دلی کی زبان پر گفتگو ہورہی تھی۔ ایک صاحب نے مرزا سے کہا کہ جس موقع پراہلِ دلی ’’ اپنے تئیں ‘‘ بولتے ہیں ، وہاں اہلِ لکھنئو ’’آپ کو بولتے ہیں! آپ کی نظر میں فصیح ’’آپ کو‘‘ ہے یا ’’ اپنے تئیں‘‘ ؟ مرزا نے کہا فصیح تو یہی معلوم ہوتا ہے جو آپ بولتے ہیں مگر اس میں دقت یہ ہے کہ مثلاً آپ میری نسبت یہ فرمائیں کہ میں آپ کو فرشتہ خصائل جانتا ہوں ؛ اور میں اس کے جواب میں اپنی نسبت یہ عرض کروں کہ میں تو آپ کو کتے سے بھی بدتر سمجھتا ہوں ، تو سخت مشکل واقع ہوگی۔ میں تو اپنی نسبت کہوں گا اور آپ ممکن ہے کہ اپنی نسبت سمجھ جائیں۔ سب حاضرین یہ لطیفہ سُن کر پھڑک گئے۔ مرزا کا مطلب صرف اس قدر بیان کرنا تھا کہ ’’ آپ کو‘‘ مخاطب کے لیے تو عموماً بولا ہی جاتا ہے، اگر متکلم کے لیے بھی اس کا استعمال ہوگا تو بعض موقع پر التباس واقع ہوگا۔ اس مطلب کو انہوں نے اس لطیف پیرائے میں بیان کیا ۔ مگر یہ فقط ایک لطیفہ اہلِ صحبت کے خوش کرنے کے لیے تھا ورنہ اہلِ دہلی بھی اکثر بجائے ’’اپنے تئیں‘‘ کے ’’آپ کو بولتے ہیں۔ اس میں کچھ اہلِ لکھنئو کی خصوصیت نہیں ہے۔‘‘​
(یادگارِ غالب ازالطاف حسین حالی)​
 
Top