میم الف کی شاعری

  1. میم الف

    شاعری کرنا ہمارا شوق ہے

    چند تازہ اشعار: شاعری کرنا ہمارا شوق ہے شوق یہ اپنے گلے کا طوق ہے صحبتیں ویسی ہی کرتا ہے پسند جس کا جتنا ظرف جیسا ذوق ہے جو نہ کچھ کہنے پہ بھی دیتا ہو داد کیا کسی کا اِس طرح کا ذوق ہے؟ ہستی اپنی بھی سمجھ آ جائے گی پر ابھی اِدراک سے مافوق ہے حق اکیلا ایک تنہا لاشریک اور باطل فوج پلٹن جوق ہے...
  2. میم الف

    دھوپ ہے‘ دیوار کا سایا بھی ہے

    دھوپ ہے‘ دیوار کا سایا بھی ہے بیٹھنا تنہا ہمیں بھایا بھی ہے جس کے آگے منزلیں ہوتی نہیں دل ہمیں اُس گام تک لایا بھی ہے چھوڑتے ہرگز نہیں سنسار کو اور یہ کہتے ہیں سب مایا بھی ہے پوجنے والوں سے یہ پوچھے کوئی کیا کسی نے پوج کر پایا بھی ہے؟ زندگی ننگی کی ننگی ہے الفؔ پیرہن معنی کا پہنایا بھی ہے...
  3. میم الف

    تھکتے نہیں ہیں پیڑ کیوں مالی کھڑے کھڑے

    کچھ تازہ اشعار پیشِ خدمت ہیں: تھکتے نہیں ہیں پیڑ کیوں مالی کھڑے کھڑے بستر پہ ہم تو تھک گئے دن بھر پڑے پڑے لے جائیں سوہنی کو جو دریا کے پار تک ایسے بھی کوئی تم نے کمھارو! گھڑے گھڑے؟ اے نرم خو! یہ کیسا سمایا ہے جی میں شوق ننھی سی اِن لوؤں میں یہ کانٹے بڑے بڑے ہرچند ڈھیلا ڈھالا بہت ہو گیا مزاج...
  4. میم الف

    کرنی ہے تو کر لو ورنہ معاف کرو

    تمام محفلین کو السلام علیکم! کافی عرصے کے بعد کچھ تک بندی کی ہے۔ پیشِ خدمت ہے: کرنی ہے تو کر لو ورنہ معاف کرو میں تو نہیں کہتا کہ مجھ سے بات کرو اُس سے ہفتے دو ہفتے میں مل آؤ کس نے کہا ہے پابوسی دن رات کرو عامل بابا پہلے اپنا جن پکڑو بعد میں قابو اوروں کے جنات کرو ہمت ہے تو ہم سخنِ منصور...
  5. میم الف

    میں اہم تھا - یہی وہم تھا

    تو سمجھتا ہے بہت تو اہم ہے بھول ہے تیری‘ یہ تیرا وہم ہے موت کا کیا سامنا کر پائے گا؟ جب گیا تو زندگی سے سہم ہے ہڈیوں کا ڈھیر ہی رہ جائے گا پہلواں! مانا تو کوہِ لحم ہے میری باتوں کو سمجھتے ہیں فہیم اُس قدر ہی جتنا اُن کا فہم ہے رونقِ بازارِ دنیا! سچ بتا کیا ترے دل میں بھی گہما گہم ہے؟ عدل کا...
  6. میم الف

    اے ہم وطنو! کیسی یہ حب الوطنی ہے؟

    23 مارچ 2015ء کو ریڈیو پاکستان، لاہور پر ایک مشاعرے کا اہتمام کیا گیا۔ پنجاب کی تمام بڑی جامعات کے طلباء کو دعوت دی گئی کہ وہ ’پاکستان ڈے‘ کی مناسبت سے نظمیں لکھ کر مقابلے میں شریک ہوں۔ میں نے ’حب الوطنی‘ کے عنوان سے ایک نظم لکھی اور جی سی یونیورسٹی کی نمایندگی کرتے ہوئے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ آج...
  7. میم الف

    سورج کی طرح کوئی سلگنا بھی تو چاہے

    نیکی و بدی ایک ہی سکے کے ہیں دو رخ رابن کی طرح ٹھگ کوئی ٹھگنا بھی تو چاہے سورج کی طرح سب کو چمکنے کی ہے خواہش سورج کی طرح کوئی سلگنا بھی تو چاہے کتنا نہیں چاہا کہ لگائیں کہیں دل کو یہ جان کا لاگو کہیں لگنا بھی تو چاہے ۲۰۱۸ء؁
  8. میم الف

    سوچتے کیا ہو؟

    اگر یہ سوچ لیا ہے کہ کر دکھاؤ گے تو کر دکھاؤ مری جان! سوچتے کیا ہو؟ متاعِ دل کو لٹانے کی تم نے ٹھانی ہے پھر اِس میں نفع ہو‘ نقصان‘ سوچتے کیا ہو؟ جو فاصلہ ہے نا! وہ فیصلے سے کٹتا ہے بنا چلے ہو پریشان‘ سوچتے کیا ہو؟ فرازِ کوہ پہ تم کو نگاہ رکھنی ہے عمیق کتنی ہے ڈھلوان‘ سوچتے کیا ہو؟ اتار دی ہیں...
  9. میم الف

    طالبِ دیدار کی ہمت ہی ہے

    طالبِ دیدار کی ہمت ہی ہے ہر قدم اِس راہ میں حیرت ہی ہے موند کر آنکھیں اگر دیکھے کوئی پردۂ کثرت میں بھی وحدت ہی ہے نفس ہو گر مطمئن، اے ہم نفس! پھر یہ دنیا بھی کوئی جنت ہی ہے عقل دیتے ہیں تو لے لیتے ہیں عمر بخش دیں دونوں تو یہ نعمت ہی ہے خواب سی جو زندگانی ہے الفؔ جاگنے کی نیند سے مہلت ہی ہے
  10. میم الف

    دل سے کرنے کا مول ہوتا ہے

    دل سے کرنے کا مول ہوتا ہے ورنہ کرنا فضول ہوتا ہے اُس کو جینے کا ڈھنگ آتا ہے جس کو مرنا قبول ہوتا ہے کچھ بھی بے ضابطہ نہیں ہوتا سب کے پیچھے اصول ہوتا ہے دکھ میں لگتے ہیں پھول بھی کانٹے سکھ میں کانٹا بھی پھول ہوتا ہے جہاں بستی میں نیم ہوتی ہے وہیں بن میں ببول ہوتا ہے جوہری کی نگاہ پڑتی ہے ورنہ...
  11. میم الف

    اب مجھے کچھ بھی نہیں ہونا ہے

    اب مجھے کچھ بھی نہیں ہونا ہے بلکہ جو ہے اُسے بھی کھونا ہے مجھ سے باتیں نہ کرو دکھ سکھ کی مجھ کو ہنسنا ہے‘ نہ ہی رونا ہے جو سناروں کے لیے مٹی ہے وہ کسانوں کے لیے سونا ہے جو کسی ایک طرف مرکز ہے وہ کسی اور طرف کونا ہے جو گلہری کے لیے اونچا ہے وہ پہاڑوں کے لیے بونا ہے جو سکندر کے لیے پانا ہے وہ...
  12. میم الف

    ہم خود ہی ہو گئے ہیں خاموش میمؔ صاحب

    کیا دیجیے کسی کو اب دوش میمؔ صاحب ہم خود ہی ہو گئے ہیں خاموش میمؔ صاحب جب سے مقامِ اشیاء جانا گیا ہے تب سے ہم مرتبہ ہیں تاج اور پاپوش میمؔ صاحب رفتار کیا کرو گے بیدار گر نہیں ہو کچھوے سے ہار بیٹھا خرگوش میمؔ صاحب اِس لمحے میں کہیں مَیں بے ہوش تو نہیں ہوں؟ اِس بات کا ہی رکھنا تم ہوش میمؔ صاحب...
  13. میم الف

    یاد ماضی کی نہ بن جائے عذاب

    ایک دن سب ہوں گے جاگے دیکھیے لیک کتنی دیر لاگے دیکھیے فرق کرنا ہو اگر رنگوں کے بیچ آنکھ سے درزی کی دھاگے دیکھیے مغربی کھنچنے لگے مشرق کی اور مشرقی مغرب کو بھاگے دیکھیے یاد ماضی کی نہ بن جائے عذاب پیچھے مت دیکھیں بس آگے دیکھیے بلبلوں کا نام ہی سنیے الفؔ اڑتے چاروں اور کاگے دیکھیے
  14. میم الف

    ایک الف بے بالو رے - تازہ نظم از میم الف

    ایک الف بے بالو رے ایک الف بے بالو میں نہ کہوں کچھ اپنے بارا وہ کہتا ہے میرے دوارا جیون بازی کون نہ ہارا ایک الف بے بالو رے ایک الف بے بالو اندھیارے میں کس کو پکارے نرگن نرمل ہو جا پیارے جاتے ہیں اِس راہ سے سارے ایک الف بے بالو رے ایک الف بے بالو مہمل اور با معنا کیا ہے تھپکی کیا اور طعنا کیا...
  15. م

    غزل - بند رکھنے لگا ہوں فون بہت - منیبؔ احمد

    ایک تازہ غزل! یاسر شاہ بھائی نے مجھ سے لکھوائی ہے: بند رکھنے لگا ہوں فون بہت مجھ کو تنہائی میں سکون بہت شوق گھٹتا گیا ہے عمر کے ساتھ نوجوانی میں تھا جنون بہت زندگی یوں تو اِک فسانا ہے پر فسانا ہے پُر فسون بہت نیم عریاں ہے خود تو چرواہا اُس کی بھیڑوں پہ لیکن اون بہت پیدا کرتا ہے قرن ایک...
  16. م

    ہو سکتا ہے - منیب احمد

    ہو سکتا ہے تم روز کو بھی رات سمجھ لو ہو سکتا ہے تم رات کو بھی رات نہ جانو ہو سکتا ہے تم بات کے الفاظ پکڑ لو الفاظ کے پردے میں کہی بات نہ جانو ہو سکتا ہے تم گردشِ حالات کو دیکھو ہو سکتا ہے تم باعثِ حالات نہ جانو ہو سکتا ہے تم حاملِ تورات ہو لیکن ہو سکتا ہے تم معنئ تورات نہ جانو ہو سکتا ہے تم...
  17. م

    احسان مانتے ہیں نہ آداب جانتے ہیں - منیبؔ احمد

    آج دل کیا کہ اپنی آواز میں چند تازہ اشعار پیش کروں۔ کہیں اصلاح کی ضرورت ہو تو ضرور بتائیے گا: احسان مانتے ہیں نہ آداب جانتے ہیں اب بندے اپنے آپ کو ہی صاب جانتے ہیں تم بادشہ ہو حسن کے ہم عشق کے شہنشہ دونوں ہی اپنے آپ کو نواب جانتے ہیں تم زندگی میں دیکھتے ہو خواب سو طرح کے پر ہم تو زندگی کو ہی...
  18. م

    پیسا اچھا لگتا ہے - منیبؔ احمد

    میں تو کروں گا ویسا ہی جیسا اچھا لگتا ہے رہنے دو کمرہ خالی ایسا اچھا لگتا ہے بیتا وقت برا بھی ہو کیسا اچھا لگتا ہے اب تو فقیروں کو صاحب! پیسا اچھا لگتا ہے مے کش کو انگور بھی کچھ مے سا اچھا لگتا ہے جیسا بھی ہو حال منیبؔ ویسا اچھا لگتا ہے
  19. م

    حالات ہو گئے ہیں کتنے عجیب صاحب - منیبؔ احمد

    حالات ہو گئے ہیں کتنے عجیب صاحب دھن کے امیر بھی ہیں مَن کے غریب صاحب عیسیٰ کا تذکرہ بھی ہم نے سنا تھا لیکن دیکھی یہاں سبھی کے سر پر صلیب صاحب مکے مدینے پہنچے یا کربلا گئے ہم لیکن کبھی نہ آئے اپنے قریب صاحب سر پر ہے سبز پگڑی باتیں رٹی رٹائی توتا ہی لگ رہے ہیں بالکل خطیب صاحب اپنے نصیب پر جو...
  20. م

    دن اور ہی کچھ کہتے ہیں شب کہتے ہیں کچھ اور - منیبؔ احمد

    چند اشعار ہیں۔ آپ سن لیں تو ہم شکرگزار ہیں: دن اور ہی کچھ کہتے ہیں شب کہتے ہیں کچھ اور کچھ اور ہی کہتے ہیں وہ جب کہتے ہیں کچھ اور اِتنا ہی تو کہتے ہیں کہ تو دل کی سنا کر اے جان مری! ہم تجھے کب کہتے ہیں کچھ اور اندر سے تو کیا ٹکڑوں میں دو ٹوٹ گیا ہے؟ آنکھیں تری کچھ کہتی ہیں لب کہتے ہیں کچھ اور...
Top