مجید امجد

  1. فرقان احمد

    مجید امجد دل نے ایک ایک دکھ سہا، تنہا

    دل نے ایک ایک دکھ سہا، تنہا انجمن انجمن رہا ۔۔۔۔۔۔۔ تنہا ڈھلتے سایوں میں، تیرے کوچے سے کوئی گزرا ہے بارہا ۔۔۔۔۔۔۔۔تنہا تیری آہٹ قدم قدم ۔۔۔۔ اور میں! اس معیٓت میں بھی رہا ۔۔۔۔۔۔تنہا کہنہ یادوں کے برف زاروں سے ایک آنسو بہا ۔۔۔۔۔۔۔۔ بہا، تنہا ڈوبتے ساحلوں کے موڑ پہ دل ۔۔۔! اک کھنڈر سا ۔۔۔ رہا...
  2. فرخ منظور

    مجید امجد پنواڑی (نظم) ۔ مجید امجد

    پنواڑی (مجید امجد) بوڑھا پنواڑی ، اس کے بالوں میں مانگ ہے نیاری آنکھوں میں جیون کی بجھتی اگنی کی چنگاری نام کی اک ہَٹی کے اندر بوسیدہ الماری آگے پیتل کے تختے پر اس کی دنیا ساری پان ، کتھا ، سگرٹ ، تمباکو ، چونا ، لونگ ، سپاری عمر اس بوڑھے پنواڑی کی پان لگاتے گزری چونا گھولتے ، چھالیا کاٹتے ،...
  3. طارق شاہ

    مجید امجد :::::: بڑھی جو حد سے تو سارے طلسم توڑ گئی ::::: Majeed Amjad

    غزل بڑھی جو حد سے تو سارے طلِسم توڑ گئی وہ خوش دِلی ، جو دِلوں کو دِلوں سے جوڑ گئی ابد کی راہ پہ بے خواب دھڑکنوں کی دھمک جو سو گئے اُنھیں بُجھتے جگوں میں چھوڑ گئی یہ زندگی کی لگن ہے، کہ رتجگوں کی ترنگ ! جو جاگتے تھے اُنہی کو یہ دھن جھنجوڑ گئی وہ ایک ٹیس، جسے تیرا نام یاد رہا کبھی کبھی...
  4. فرخ منظور

    مجید امجد نژادِ نو ۔ مجید امجد

    نژادِ نَو برہنہ سر ہیں ، برہنہ تن ہیں ، برہنہ پا ہیں شریر روحیں ضمیر ہستی کی آرزوئیں چٹکتی کلیاں کہ جن سے بوڑھی ، اداس گلیاں مہک رہی ہیں غریب بچے ، کہ جو شعاعِ سحر گہی ہیں ہماری قبروں پہ گرتے اشکوں کا سلسلہ ہیں وہ منزلیں ، جن کی جھلکیوں کو ہماری راہیں ترس رہی ہیں انہی کے قدموں میں بس رہی ہیں...
  5. راحیل فاروق

    منٹو

    شاعر: مجید امجدؔ آواز: راحیلؔ فاروق
  6. طارق شاہ

    مجید امجد ::::: اب کے تمھارے دیس کا یہ روپ نیارا تھا ::::: Majeed Amjad

    غزلِ مجید امجد اب کے تمھارے دیس کا یہ روپ نیارا تھا بِکھرا ہُوا ہَواؤں میں سایا تمھارا تھا گُم سُم کھڑے ہیں اُونچی فصِیلوں کے کنکرے کوئی صدا نہیں! مجھے کِس نے پُکارا تھا رات آسماں پہ چاند کی منڈلی میں کون تھا تم تھے کہ اِک سِتار بجاتا سِتارہ تھا اُن دُورِیوں میں قُرب کا جادُو عذاب تھا...
  7. فرخ منظور

    مجید امجد قریب دل ، خروشِ صد جہاں ہم ۔ مجید امجد

    قریب دل ، خروشِ صد جہاں ہم جو تم سن لو ، تمہاری داستاں ہم کسی کو چاہنے کی چاہ میں گم جیے بن کر نگاہِ تشنگاں ہم ہر اک ٹھوکر کی زد میں لاکھ منزل ہمیں ڈھونڈھو ، نصیبِ گمرہاں ہم ہمیں سمجھو ، نگاہِ ناز والو ! لبوں پر کانپتا حرفِ بیاں ہم بجھی شمعوں کی اس نگری میں ، امجدؔ ابھرتے آفتابوں کی کماں ہم...
  8. فرخ منظور

    مکمل کلام مجید امجد

    موجِ تبسّم ستاروں کو نہ آتا تھا ابھی تک مسکرا اٹھنا دیے بن کر یوں ایوانِ فلک میں جگمگا اٹھنا حسیں غنچوں کے رنگیں لب تھے ناواقف تبسم سے چمن گونجا نہ تھا اب تک عنادل کے ترنم سے نہ پروانے تھے جلتے شمعِ سوزاں کے شراروں میں نہ آئی تھی ابھی ہمت یہ ننھے جاں نثاروں میں ابھی گہوارۂ ابرِ بہاری میں وہ...
  9. طارق شاہ

    مجید امجد :::: دل سے ہر گزُری بات گزُری ہے -- Majeed Amjad

    غزلِ مجید امجد دل سے ہر گزُری بات گزُری ہے کِس قیامت کی، رات گزُری ہے چاندنی، ۔۔ نیم وا دریچہ، سکوت آنکھوں آنکھوں میں رات گزُری ہے ہائے وہ لوگ، خُوب صُورت لوگ جن کی دُھن میں حیات گزُری ہے کسی بھٹکے ہوئے خیال کی موج کتنی یادوں کے سات۔ گزُری ہے تمتماتا ۔۔ہے ۔۔ چہرۂ ۔۔ ایّام ! دل...
  10. شعیب اصغر

    مجید امجد

    جب اک چراغ راہگزار کی کرن پڑے ہونٹوں کی لو لطیف حجابوں سے چھن پڑے شاخِ ابد سے جھڑتے زمانوں کا روپ ہیں یہ لوگ جن کے رخ پہ گمانِ چمن پڑے تنہا گلی، ترے مرے قدموں کی چاپ، رات ہر سو وہ خامشی کہ نہ تابِ سخن پڑے یہ کس دیار کی ٹھنڈی ہوا چلی ہر موجہء خیال پہ صد ہا شکن پڑے جب دل کی سل پہ بج اٹھے...
  11. طارق شاہ

    مجید امجد :::: اِک عُمر دِل کی گھات سے تُجھ پر نِگاہ کی

    غزلِ مجید امجد اِک عُمر دِل کی گھات سے تُجھ پر نِگاہ کی تُجھ پر، تِری نِگاہ سے چُھپ کر نِگاہ کی رُوحوں میں جَلتی آگ، خیالوں میں کِھلتے پھول ساری صداقتیں کِسی کافر نِگاہ کی جب بھی غمِ زمانہ سے آنکھیں ہُوئیں دوچار مُنہ پھیر کر تبسّمِ دِل پر نِگاہ کی باگیں کِھنچیں، مُسافتیں کڑکیں، فرس رُکے...
  12. طارق شاہ

    مجید امجد :::: تِرے فرقِ ناز پہ تاج ہے، مِرےدوشِ غم پہ گلِیم ہے

    غزلِ مجید امجد تِرے فرقِ ناز پہ تاج ہے، مِرےدوشِ غم پہ گلِیم ہے تِری داستاں بھی عظیم ہے، مِری داستاں بھی عظیم ہے مِری کتنی سوچتی صُبْحوں کو یہ خیال زہْر پِلا گیا کسی تپتے لمحے کی آہ ہے، کہ خِرامِ موجِ نسیم ہے تہِ خاک، کرمکِ دانہ جُو بھی شریک رقصِ حیات ہے نہ بس ایک جلوۂ طُور ہے، نہ بس...
  13. م

    مجید امجد آٹو گراف

    کھلاڑیوں کے خود نوشت دستخط کے واسطے کتابچے لئے ہوئے کھڑی ہیں منتظر حسین لڑکیاں ڈھلکتے آنچلوں سے بےخبر حسین لڑکیاں مہیب پھاٹکوں کے ڈولتےکواڑ چیخ اٹھے ابل پڑے الجھتے بازوؤں چٹختی پسلیوں کے پُر ہراس قافلے گرے، بڑھے، مُڑے بھنور ہجوم کے کھڑی ہیں یہ بھی راستے پہ اک طرف بیاضِ آرزو بکف نظر نظر میں نارسا...
  14. غدیر زھرا

    وہ قتل گاہ، وہ لاشے، وہ بے کسوں کے خیام (مجید امجد)

    وہ قتل گاہ، وہ لاشے، وہ بے کسوں کے خیام وہ شب، وہ سینہ کونین میں غموں کے خیام وہ رات، جب تری آنکھوں کے سامنے لرزے مرے ہوؤں کی صفوں میں، ڈرے ہوؤں کے خیام یہ کون جان سکے ، تیرے دل پہ کیاگذری لٹے جب آگ کی آندھی میں ، غمزدوں کے خیام ستم کی رات، کالی قنات کے نیچے بڑے ہی خیمہ دل سے تھے عشرتوں کے...
  15. پ

    مجید امجد نظم - دل دریا سمندروں ڈنگھے - مجید امجد

    دل دریا سمندروں ڈونگھے----------------------- اتنی آنکھیں، اتنے ماتھے، اتنے ہونٹ چشمکیں، تیور، تبسم ، قہقہے اس قدر غماز ، اتنے ترجماں اور پھر بھی لاکھ پیغام ان کہے لاکھ اشارے جو ہیں ان بوجھے ابھی لاکھ باتیں جو ہیں گویائی سے دور دور---- دل کے کنج ناموجود میں روز شب موجود ، ناصبور! کون...
  16. پ

    مجید امجد غزل - جاوداں قدروں کی شمعیں بجھ گئیں تو جل اٹھی تقدیرِ دل -مجید امجد

    غزل جاوداں قدروں کی شمعیں بجھ گئیں تو جل اٹھی تقدیرِ دل اب تو اس مٹی کے ہر ذی روح ذرے میں بھی ہے تصویرِ دلا اپنے دل کی راکھ چن کر ، کاش ان لمحوں کی بہتی آگ میں میں بھی اک سیال شعلے کے ورق پر لکھ سکوں تفسیرِ دل میں نہ سمجھا ورنہ ، ہنگاموں بھری دنیا میں ، اک آہٹ کے سنگ کوئی تو تھا آج...
  17. پ

    مجید امجد غزل- اپنے دل کی کھوج میں کھو گئے کیا کیا لوگ - مجید امجد

    غزل اپنے دل کی کھوج میں کھو گئے کیا کیا لوگ آنسو تپتی ریت میں بو گئے کیا کیا لوگ کرنوں کے طوفان سے بجرے بھر بھر کر روشنیاں اس گھاٹ پر ڈھو گئے کیا کیا لوگ سانجھ سمے اس کنج میں زندگیوں کی اوٹ بج گئی کیا کیا بانسری رو گئے کیا کیا لوگ میلی چادر تان کر اس چوکھٹ کے دوار صدیوں کے کہرام...
  18. فرخ منظور

    مجید امجد اُمّیدِ دیدِ دوست کی دنیا بسا کے ہم ۔ مجید امجد

    غزل اُمّیدِ دیدِ دوست کی دنیا بسا کے ہم بیٹھے ہیں مہر و ماہ کی شمعیں جلا کے ہم وہ راستے خبر نہیں کس سمت کھو گئے نکلے تھے جن پہ رختِ غمِ دل اُٹھا کے ہم پلکوں سے جن کو جلتے زمانوں نے چُن لیا وہ پھول، اس روش پہ، ترے نقشِ پا کے ہم آئے کبھی تو پھر وہی صبحِ طرب کہ جب روٹھے ہوئے غموں سے ملیں...
  19. فرخ منظور

    مجید امجد غزل: دن کٹ رہے ہیں کش مکشِ روزگار میں ۔ مجید امجد

    غزل دن کٹ رہے ہیں کش مکشِ روزگار میں دم گھُٹ رہا ہے سایہ ابرِ بہار میں آتی ہے اپنے جسم کے جلنے کی بُو مجھے لُٹتے ہیں نکہتوں کے سبُو جب بہار میں گزرا ادھر سے جب کوئی جھونکا تو چونک کر دل نے کہا: "یہ آ گئے ہم کس دیار میں" اے کنجِ عافیت تجھے پا کر پتہ چلا کیا ہمہمے تھے گردِ سرِ رہگذار میں...
  20. فرخ منظور

    مجید امجد سازِ فقیرانہ ۔ مجید امجد

    نظم از مجید امجد سازِ فقیرانہ گلوں کی سیج ہے کیا، مخملیں بچھونا کیا نہ مل کے خاک میں گر خاک ہوں تو سونا کیا فقیر ہیں، دو فقیرانہ ساز رکھتے ہیں ہمارا ہنسنا ہے کیا اور ہمارا رونا کیا ہمیں زمانے کی ان بیکرانیوں سے کام زمانے بھر سے ہے کم دِل کا ایک کونا کیا نظامِ دہر کو تیورا کے کس لئے...
Top