مجید امجد غزل - جاوداں قدروں کی شمعیں بجھ گئیں تو جل اٹھی تقدیرِ دل -مجید امجد

پیاسا صحرا نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 30, 2011

  1. پیاسا صحرا

    پیاسا صحرا محفلین

    مراسلے:
    704
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    غزل

    جاوداں قدروں کی شمعیں بجھ گئیں تو جل اٹھی تقدیرِ دل
    اب تو اس مٹی کے ہر ذی روح ذرے میں بھی ہے تصویرِ دلا

    اپنے دل کی راکھ چن کر ، کاش ان لمحوں کی بہتی آگ میں
    میں بھی اک سیال شعلے کے ورق پر لکھ سکوں تفسیرِ دل

    میں نہ سمجھا ورنہ ، ہنگاموں بھری دنیا میں ، اک آہٹ کے سنگ
    کوئی تو تھا آج جس کے قہقہ دل میں ہے دامن گیرِ دل


    رت بدلتے ہی ، چمن جو ہم صفیر ، اب کے بھی کوسوں دور سے،
    آ کے جب اس شاخ پر چہکے ، مرے دل میں بجی زنجیرِ دل

    کیا سفر تھا ، بے صدا صدیوں کے پل کے اس طرف اس موڑ تک
    پے بہ پے ابھرا، سنہری گرد سے اک نالہ دل گیرِ دل

    وار دنیا نے کئے مجھ پر تو امجد میں نے اس گھمسان میں
    کس طرح ، جی ہار کر، رکھ دی نیام حرف میں شمشیرِ دل


    مجید امجد​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  2. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,050
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    بہت شکریہ جناب شیئر کرنے کیلیے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. منذر رضا

    منذر رضا محفلین

    مراسلے:
    365
    جھنڈا:
    Pakistan
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    9,214
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
    جاوداں قد ( فاعلاتن)
    روں کی شمعیں (فاعلاتن)
    بجھ گئیں تو (فاعلاتن)
    جل اٹھی تق (فاعلاتن)
    دیرِ دل (فاعلن)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. منذر رضا

    منذر رضا محفلین

    مراسلے:
    365
    جھنڈا:
    Pakistan

اس صفحے کی تشہیر