غزل برائے اصلاح

  1. حسین علی ہاشمی

    غزل برائے اصلاح : ہم بہاروں سے پہلے مر جائیں

    ہم بہاروں سے پہلے مر جائیں کاش! اس بار پُھول ڈر جائیں تم زمانوں سے دُور جاؤ کہیں ہم بھی شاموں کو اپنے گھر جائیں اُس نے بانہوں میں بھر لیا ہے ہمیں یار کیسے ؟ کہاں ؟ مُکَر جائیں کیوں سمندر کے درمیاں سوچیں ہے ہی مرنا تو چل گزر جائیں عشق وحشت ہے یار سمجھو اسے کیوں نہ پہلے سے ہم بکھر جائیں تیری...
  2. سید ذیشان حیدر

    برائے اصلاح

    سر الف عین اور دیگر احباب کی نظر برائے اصلاح کیا دلیری دِکھائی جا رہی ہے یادِ ماضی بُھلائی جا رہی ہے دُھول دِل سے ہٹائی جا رہی ہے پھر سے بستی بسائی جا رہی ہے تا سماعت دُہائی جا رہی ہے بے نیازی دِکھائی جا رہی ہے کھلبلی سی مچائی جا رہی ہے کیسے شہرت کمائی جا رہی ہے پڑھی ہوئی کتاب ہیں کیا ہم...
  3. سید ذیشان حیدر

    غزل برائے اصلاح

    السلام و علیکم! ایک غزل برائے اصلاح پیشِ خدمت ہے سر الف عین پہنچے جو قفس سے ہو کے آزاد وطن میں کچھ دام سے اچھے تو نہیں حال چمن میں شعلہ سا دبا رکھا ہے کیا اپنے دہن میں دہکے ہوئے الفاظ نکلتے ہیں سخن میں اُلجھے ہوئے مِلتے ہیں یہاں خار بدن میں لپٹے ہوئے دیکھے ہیں کئی پھول کفن میں اک آن بھی...
  4. سید ذیشان حیدر

    ڈوبے ہوئے سورج کا سفر دیکھ رہا ہوں ۔ برائے اصلاح

    السلام و علیکم۔ ایک غزل اصلاح کیلئے پیشِ خدمت ہے۔ سر الف عین ڈوبے ہوئے سورج کا سفر دیکھ رہا ہوں وحشت میں شبِ غم کا اثر دیکھ رہا ہوں اُمید لگائے میں جدھر دیکھ رہا ہوں اندوہ و مصیبت کا بھنور دیکھ رہا ہوں میں ہوں کہ نئی راہِ سفر دیکھ رہا ہوں دل ہے کہ ترے زیرِ اثر دیکھ رہا ہوں اظہارِ ضرورت کہ...
  5. راشد ماہیؔ

    برائے کرم اصلاح کیجئے۔۔!

    احباب و اساتذہ! مزمل شیخ بسمل محمد تابش صدیقی الف عین محمد وارث محمد یعقوب آسی محمد خلیل الرحمٰن محمد ریحان قریشی محمد اسامہ سَرسَری ذرا تفصیل سے اصلاح و تنقید کیجئے گا۔۔۔ ہم چلیں گے جوں ہی پیچھے یہ زمانہ ہوگا دل تو کیا چیز بتوں کو چلےآنا ہوگا پار وہ یار بلائے گا تو جانا ہوگا گر کھڑے...
  6. محمد ا حمد

    غزل برائے اصلا ح

    چپ ہی سہی لیکن زباں میں بھی رکھتا ہوں کہ لحن لوگوں کے اب میں بھی سمجھتا ہوں دلِ ویراں تجھےآباد کر بھی تو سکتا ہوں مگر مقاصدِ زندگی اوربھی کئ رکھتا ہوں مکینِ دل تجھے شاد کر بھی تو سکتا ہوں لیکن تیری ناشاد، صبحِ کل سے ڈرتا ہوں تاریک راہوں پہ اب بھی چلتا رہتا ہوں کہ گمانِ سحر ہمیشہ زندہ رکھتا ہوں...
  7. سید ذیشان حیدر

    15-غزل برائے اصلاح

    ایک نئی غزل اصلاح کےلئے پیشِ خدمت ہے۔ اصلاح اور آراء سے نوازیئے! مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن ہمت بھی کہاں ہے کہ سہیں اور جفا اب ہم نے تو بہت دیکھا اُسے دیکھا خدا اب جس نے مجھے ہر دورِ مصیبت میں سنبھالا وہ عُنصرِ یکجائی ہوا مجھ سے جدا اب قصے جو ملیں گے تو کتابوں میں ملیں گے بس نام ہی کی رہ...
  8. سید ذیشان حیدر

    14-سلام (بحضورِ حسین عالی مقام ) برائے اصلاح

    سلام بحضور حسین عالی مقام برائے اصلاح پیشِ خدمت ہے: گلا درِ نماز جو کٹا دیا حسینؓ نے (جھکا کے سر نماز میں کٹا دیا حسین نے) ضمانتِ بقائے دیں بنا دیا حسین نے زمین و خلد کے تمام فاصلے سمٹ گئے جو دشت کو بہشت سے ملا دیا حسین نے* جہاں میں تیرگی تمام سُو جو پھیلنے لگی لہو سے پھر چراغِ دیں جلا دیا...
  9. سید ذیشان حیدر

    13- غزل برائے اصلاح

    نئی غزل پیشِ خدمت ہے۔ اصلاح کی درخواست ہے۔ ابھی زیرِ گرداب آئے ہوئے ہیں کہ طوفانوں نے سر اُٹھائے ہوئے ہیں یہ اُمید، یہ چارہ جوئی، یہ قسمت میاں میرے کس کام آئے ہوئے ہیں علاجِ غمِ جان و دل ہم سے مت پوچھ اِسی غم کے ہم بھی ستائے ہوئے ہیں مرے زخم کی دوستوں کو خبر ہے؟ قبا میں نمکداں چھپائے ہوئے...
  10. سید ذیشان حیدر

    10- غزل برائے اصلاح

    ایک نئی غزل برائے اصلاح پیشِ خدمت ہے۔ تمام اساتذہ کرام اور احباب سے بے لاگ تنقید و تبصرے کی درخواست ہے۔ مفاعلن مفاعلن مفاعلن مفاعلن ذرا ہمیں بھی دیکھ کر بتا نصابِ عشق میں ہمارا بھی کہیں پہ ذکر ہے کتابِ عشق میں مجھے ڈرائے ہے کوئی مرے شبابِ عشق میں یہ کون ہے کہاں سے آ گیا ہے خوابِ...
  11. سید ذیشان حیدر

    غزل برائے اصلاح

    اس غزل کی بحر شاید غیر مانوس ہو، چونکہ یہ غزل کچھ عرصہ قبل کہی تھی اس لئے پیش کر دی۔ تمام اساتذہ کرام اور احباب سے بے لاگ تنقید و تبصرے کی درخواست ہے۔ فاعلن مفاعلن فاعلن مفاعلن حسنِ زندگی بتا وہ جمال کیا ہوا اک ذرا سی دیر میں تیرا حال کیا ہوا وقت ہی بھلا گیا ذہن سے نقوش سب یہ بتا کہ اس میں...
  12. سید ذیشان حیدر

    غزل برائے اصلاح

    ایک نئی غزل تمام اساتذہ کرام اور احباب کی خدمت میں پیش ہے، تمام احباب سے بے لاگ تنقید و تبصرے کی درخواست ہے۔ قیامت نئی پھر اُٹھا دیجئے ہمیں اِک تماشا بنا دیجئے اُسے بھولنا قدرے آسان تھا یہی بات دل کو بتا دیجئے ہو جب حشر کا وعدہ تو ایسے میں کہیں بھی تو کیونکر، نبھا دیجئے کوئی نامہ بر بھیجئے...
  13. سید ذیشان حیدر

    غزل برائے اصلاح

    محترم اساتدہ کرم اور تمام احبابِ انجمن! السلام و علیکم! اُمید ہے سب خیر و عافیت سے ہوں گے۔ ایک نئی غزل لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں اور آپ کی قیمتی رائے کا متمنی ہوں۔ محترم سر الف عین ، محترم راحیل فاروق ، محمد خلیل الرحمٰن ، سید عاطف علی ، @ محمد ریحان قریشی، محمد وارث پھر کسی نے ہمیں...
  14. یاسر حسین

    پہلی با وزن غزل

    سر خم کروں کہ ہے مکاں کا خالقے(اضافت ہے) نہاں ورنہ ہے کون میرا مگر مالکے جہاں ظلم و ستم رقیب یا شکوہ یا ذلتیں افسوس ہے یہ موت بھی ملتی نہیں یہاں پھولے گلاب کہتا ہے یہ بار ہا مجھے صورت کا خوب تو ہے مگر وہ ترا کہاں؟ آنکھوں میں اس کی جھانک کے میں آ گیا مگر میری محبتوں کا اثر ہی نہیں وہاں دنیا...
  15. محمد تابش صدیقی

    غزل برائے اصلاح: فقط احساس ہے میرا، نہیں ہے شاعری میری

    ایک ٹوٹی پھوٹی کاوش اساتذہ کی خدمت میں پیش ہے. یونہی مایوس رہتا ہوں، اِسی میں ہے خوشی میری تُمھیں مسرور کرتی ہے، پریشاں خاطری میری بتا اے چارہ گر مجھ کو، سبب کیا ایسی نسبت کا جو دل میں درد بڑھتا ہے، تو بڑھتی ہے ہنسی میری خدایا لاج رکھ احباب کی اندھی محبت کی اسی اخلاص کی خاطر، چھُپا کم مائیگی...
  16. سید ذیشان حیدر

    غزل برائے اصلاح

    محترم سر الف عین ، محترم سر راحیل فاروق اور دیگر اساتذہء کرام ‎فعولن فعولن فعولن فعل ‎وفاؤں کے بدلے وفا کیجئے ‎یہی رسمِ دنیا ہے، کیا کیجئے ‎لہو یہ ہماری وفاؤں کا ہے ‎اِسے آپ رنگِ حنا کیجئے ‎ہمارا تو دل بھی ہمارا نہیں ‎کسی کا گلہ آپ کیا کیجئے ‎مجھے دیکھ کر چارہ گر کہتے ہیں ‎اُسی در پہ...
  17. سید ذیشان حیدر

    غزل برائے اصلاح

    ایک غزل برائے اصلاح پیشِ خدمت ہے- خاص طور پر استاد الف عین صاحب کی رائے کا طالب ہوں- شکریہ فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن کچھ گھڑی کا یہ رکنا گزر ہی تو ہے زندگی اے بشر اک سفر ہی تو ہے اُٹھ گئی ہو گی آخر نظر ہی تو ہے ہوئی تو ہے خطا پر بشر ہی تو ہے دل نہ ہرگز بُرا کیجئے مجھ سے آپ پھیلی ہے شہر بھر میں...
  18. جاسمن

    آدم کے ساتھ حوّا بھی اُتری تھی کل یہاں

    ایک غزل برائے اِصلاح آواز دوں تو بند ہیں رستے سبھی یہاں چلنے لگوں تو ملتے نہیں پاؤں کے نشاں منزل تلک تو آنکھ کی بینائی ساتھ تھی منزل ملی تو ہوئی ہیں محسوس کرچیاں لوگوں نے تجھ سے پہلے مجھے دیں عقیدتیں رُسوا ہوئے تو کھول دیں سب ہی نے کھڑکیاں آؤ تو کبھی چاہنے والوں کے شہر میں دِل کی ہر گلی میں...
  19. Saif ullah

    محترم! غزل کو مکمل کر دیجیے

    جلو ے خود لوٹ رہے ہیں رخ تاباں کے قریب خون ہو ہو کے بہے جاتے ہیں سب قلب و جگر کوی نشتر نہ ہو پوشیدہ رگ جاں کے قریب
  20. رحیم ساگر بلوچ

    غزل برائے اصلاح

    شاعری کے فن سے واقف نھیں ھوں بس تکا لگاتا ھوں.ایک بے ردیف غزل اصلاح کیلئے حاضر ھے.امید ھے که رهنمائی کریں گے بات جب کوئی لب په ميرے آئی تھی حقیقت مگر کسی کو نه بهائی آج معلوم اک سیانے سے ھوا جھوٹ یاں بولنا ھے بڑی دانائی ترجمانی کرتی ھے مری وفا کا چار سو گونجتی مری رسوائی آج پھر برسیں گی...
Top