غزل برائے اصلاح : ہم بہاروں سے پہلے مر جائیں

حسین علی ہاشمی نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 22, 2020

  1. حسین علی ہاشمی

    حسین علی ہاشمی محفلین

    مراسلے:
    3
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    ہم بہاروں سے پہلے مر جائیں
    کاش! اس بار پُھول ڈر جائیں

    تم زمانوں سے دُور جاؤ کہیں
    ہم بھی شاموں کو اپنے گھر جائیں

    اُس نے بانہوں میں بھر لیا ہے ہمیں
    یار کیسے ؟ کہاں ؟ مُکَر جائیں

    کیوں سمندر کے درمیاں سوچیں
    ہے ہی مرنا تو چل گزر جائیں

    عشق وحشت ہے یار سمجھو اسے
    کیوں نہ پہلے سے ہم بکھر جائیں

    تیری محفل میں روشنی ہے بہت
    اب بتاؤ کہ ہم کدھر جائیں

    (حُسین ہاشمی)
     
  2. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,537
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ہر شعر مجھے دو لخت لگ رہا ہے یعنی دونوں مصرعوں میں ربط کی کمی ہے
     
  3. حسین علی ہاشمی

    حسین علی ہاشمی محفلین

    مراسلے:
    3
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    میں کوشش کرتا ہوں اسمیں بہتری کی۔۔بہت شکریہ
     

اس صفحے کی تشہیر