جدید نظم

  1. فرخ منظور

    مصطفیٰ زیدی گسٹاپو ۔ مصطفیٰ زیدی

    گسٹاپو سفید پوش! ترے دل کی تیرگی کی قسم کہ تُو نے نجم و گہر کا خمیر بیچا ہے حقیر جاہ و حشم کے حصول کے بدلے دل و دماغ دیے ہیں، ضمیر بیچا ہے میں معترف ہوں کہ ہے میرا جرم حق گوئی مگر یہ مخبریِ حق، گناہ ہے کہ نہیں پیمبروں کے لہو سے بنی ہے جس کی بساط وہ شاہراہ تری شاہراہ ہے کہ نہیں حیات کے لئے...
  2. فرخ منظور

    مصطفیٰ زیدی تخلیق ۔ مصطفیٰ زیدی

    تخلیق کتنے جاں سوز مراحل سے گذر کر ہم نے اس قدر سلسلۂ سود و زیاں دیکھے ہیں رات کٹتے ہی بکھرتے ہوئے تاروں کے کفن جُھومتی صبح کے آنچل میں نہاں دیکھے ہیں جاگتے ساز ، دمکتے ہوئے نغموں کے قریب چوٹ کھائی ہوئی قسمت کے سماں دیکھے ہیں ڈوبنے والوں کے ہمراہ بھنور میں رہ کر ! دیکھنے والوں کے انداز ِ...
  3. فرخ منظور

    مصطفیٰ زیدی ائیر ہوسٹس ۔ مصطفیٰ زیدی

    ائیر ہوسٹس شہر کی روشنیاں کِرمکِ آوارہ ہیں نہ وہ ہوٹل کے دریچے نہ وہ بجلی کے ستون نہ وہ اطراف نہ رفتار کا گمنام سکون ہر گھڑی عشوۂ پرواز بنی جاتی ہے سیکڑوں فیٹ تلے رینگ رہی ہو گی زمین کہیں پٹرول کے مرکز، کہیں سڑکوں کا غبار تار کے آہنی کھمبوں میں گھِری راہ گذار صرف اِک دُور کی آواز بنی جاتی ہے...
  4. فرخ منظور

    لوحِ ایّام ۔ مجید اختر

    لوحِ ایّام آج کھولا جو اتفاقاً ہی اپنے سامان میں رکھا اک بیگ ڈھیر نکلا پرانی یادوں کا اور یکدم چمک اٹھا ماضی موم جامہ کیے ہوئے تعویذ ایک یٰسین، اک حدیثِ کساء جیبی سائز کی اک دعا کی کتاب (اب دعا کا حساب کیا رکھنا کچھ قبولی گئی ہیں، کچھ باقی ایک دن ہوں گی مُستجاب سبھی کھلتے کھلتے کھلے گا بابِ...
  5. فرخ منظور

    ن م راشد آگ کے پاس ۔ ن م راشد

    آگ کے پاس پیرِ واماندہ کوئی کوٹ پہ محنت کی سیاہی کے نشاں نوجوان بیٹے کی گردن کی چمک دیکھتا ہوں (اِک رقابت کی سیاہ لہر بہت تیز مرے سینۂ سوزاں سے گزر جاتی ہے) جس طرح طاق پہ رکھے ہوئے گلداں کی مس و سیم کے کاسوں کی چمک! اور گلو الجھے ہوئے تاروں سے بھر جاتا ہے کوئلے آگ میں جلتے ہوئے کن یادوں کی...
  6. فرخ منظور

    ن م راشد شہرِ وجود اور مزار ۔ ن م راشد

    شہرِ وجود اور مزار یہ مزار، سجدہ گزار جس پہ رہے ہیں ہم یہ مزارِ تار۔۔۔۔ خبر نہیں کسی صبحِ نو کا جلال ہے کہ ہے رات کوئی دبی ہوئی؟ کسی آئنے کو سزا ملی، جو ازل سے عقدۂ نا کشا کا شکار تھا؟ کسی قہقہے کا مآل ہے جو دوامِ ذات کی آرزو میں نزاز تھا؟ یہ مزار خیرہ نگہ سہی، یہ مزار، مہر بلب...
  7. فرخ منظور

    کوئی دابی پور کماد کی ۔ احسان اکبر

    کوئی دابی پور کماد کی اک منزل پچھلے چاند کی نت روشن جس کی لو وہ وقت کو پیچھے چھوڑ گئی اسے دھنّے واد کہو دابی ہوئی پور کماد کی جو پھوٹی مگھر پو کتنوں کو یہی اک چاہ تھی وہ صرف مخاطب ہو اے روپ جمال وصال کے ترا کون سا ہے شبھ ناؤں وہ جن میں تیرے لوگ تھے کن گھاٹوں اترے گاؤں کن صدیوں پر تری...
  8. فرخ منظور

    ن م راشد بے چارگی از ن م راشد

    بے چارگی میں دیوارِ جہنم کے تلے ہر دوپہر، مفرور طالب علم کے مانند آ کر بیٹھتا ہوں اور دزدیدہ تماشا اس کی پراسرار و شوق انگیز جلوت کا کسی رخنے سے کرتا ہوں! معرّی جامِ خوں در دست، لرزاں اور متنبی کسی بے آب ریگستاں میں تشنہ لب سراسیمہ یزید اِک قلّۂ تنہا پر اپنی آگ میں سوزاں ابوجہل اژدہا بن کر...
  9. فرخ منظور

    ن م راشد انقلابی ۔ ن م راشد

    انقلابی مورخ، مزاروں کے بستر کا بارِ گراں عروس اُس کی نارس تمناؤں کے سوز سے آہ بر لب جدائی کی دہلیز پر، زلف در خاک، نوحہ کناں یہ ہنگام تھا، جب ترے دل نے اس غمزدہ سے کہا، لاؤ اب لاؤ دریوزۂ غمزۂ جانستاں مگر خواہشیں اشہبِ باد پیما نہیں جو ہوں بھی تو کیا کو جولاں گۂ وقت میں کس نے پایا...
  10. فرخ منظور

    یہ ہے میرا پاکستان ۔ مسعود منور

    یہ ہے میرا پاکستان! شاخوں پر بیٹھے سب اُلّو میرے ہیں پاکستان کے سانپ اور پچھو میرے ہیں فُٹ پاتھون پر رُلتے موتی میرے ہیں یہ مٹی کے راہو ، کیتو میرے ہیں مجھ کو ہے سب غداروں سے پیار بہت دہشت گردی کے یہ بِجّو میرے ہیں یہ لشکر ، یہ جیش ، جنود اور یہ جتھے سب بے ہنگم ، سب بے قابو میرے...
  11. فرخ منظور

    ن م راشد آرزو راہبہ ہے ۔ ن م راشد

    آرزو راہبہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ آرزو راہبہ ہے بے کس و تنہا و حزیں آرزو راہبہ ہے، عمر گزاری جس نے انہی محروم ازل راہبوں، معبد کے نگہبانوں میں ان مہ و سال یک آہنگ کے ایوانوں میں! کیسے معبد پہ ہے تاریکی کا سایہ بھاری روئے معبود سے ہیں خون کے دھارے جاری ۔۔۔۔۔۔۔۔ راہبہ رات کو معبد سے نکل آتی ہے...
  12. فرخ منظور

    ن م راشد آنکھیں کالے غم کی ۔ ن م راشد

    آنکھیں کالے غم کی اندھیرے میں یوں چمکیں آنکھیں کالے غم کی جیسے وہ آیا ہو بھیس بدل کر آمر کا آنے والے جابر کا! سب کے کانوں میں بُن ڈالے مکڑی نے جالے سب کے ہونٹوں پر تالے سب کے دلوں میں بھالے! اندھیرے میں یوں چمکے میلے دانت بھی غم کے جیسے پچھلے دروازے سے آمر آ دھمکے سر پر ابنِ آدم کے...
  13. فرخ منظور

    ن م راشد مریل گدھے از ن م راشد

    مریل گدھے تلاش۔۔۔ کہنہ، گرسنہ پیکر برہنہ، آوارہ، رہگزاروں میں پھرنے والی تلاش۔۔۔۔ مریل گدھے کے مانند کس دریچے سے آ لگی ہے؟ غموں کے برفان میں بھٹک کر تلاش زخمی ہے رات کے دل پر اُس کی دستک بہت ہی بے جان پڑ رہی ہے (گدھے بہت ہیں کہ جن کی آنکھوں میں برف کے گالے لرز رہے ہیں) ہوا کے...
  14. فرخ منظور

    ن م راشد گماں کا ممکن ۔۔۔ جو تُو ہے میں ہوں از ن م راشد

    گماں کا ممکن ۔۔۔ جو تُو ہے میں ہوں کریم سورج، جو ٹھنڈے پتھر کو اپنی گولائی دے رہا ہے جو اپنی ہمواری دے رہا ہے ۔۔۔۔۔ (وہ ٹھنڈا پتھر جو میرے مانند بھورے سبزوں میں دور ریگ و ہوا کی یادوں میں لوٹتا ہے) جو بہتے پانی کو اپنی دریا دلی کی سرشاری دے رہا ہے ۔۔۔ وہی مجھے جانتا نہیں مگر مجھی کو یہ وہم...
  15. فرخ منظور

    ن م راشد آنکھوں کے جال - ن م راشد

    آنکھوں کے جال آہ تیری مدبھری آنکھوں کے جال میز کی سطحِ درخشندہ کو دیکھ کیسے پیمانوں کا عکسِ سیمگوں اس کی بے اندازہ گہرائی میں ہے ڈوبا ہوا جیسے میری روح، میری زندگی تیری تابندہ سیہ آنکھوں میں ہے مے کے پیمانے تو ہٹ سکتے ہیں یہ ہٹتی نہیں قہوہ خانے کے شبستانوں کی خلوت گاہ میں آج کی شب...
  16. فرخ منظور

    گوتم کا آخری وعظ ۔ اسلم انصاری

    گوتم کا آخری وعظ مرے عزيزو مجھے محبت سے تکنے والو مجھے عقيدت سے سننے والو مرے شکستہ حروف سے اپنے من کی دنيا بسانے والو مرے الم آفريں تکّلم سے انبساطِ تمام کی لازوال شمعيں جلانے والو بدن کو تحليل کرنے والی رياضتوں پرعبور پائے ہوئے،سکھوں کو تجے ہوئے بے مثال لوگو حيات کی رمزِ آخريں کو...
  17. فرخ منظور

    سعود عثمانی احوال از سعود عثمانی

    احوال کس طرح رہے بھرم ہمارا یہ شعر و سخن ، یہ حرف و تمثیل یہ غم کے بھرے ہوئے پیالے جو کہہ نہیں پائے غم ہمارا اس لوح کا ماجرا عجب ہے اوروں کا تو ذکرکیا ، کہ خود پر احوال کھلا ہے کم ہمارا دنیا کا گلہ کریں تو کیسے خود سے بھی مکالمہ اگر ہو ہم پر ہو بہت کرم ہمارا کس عشق کی داد...
  18. فرخ منظور

    ظہیر کاشمیری شاہدہ ۔ از ظہیر کاشمیری

    شاہدہ کسی سنولائی ہوئی شام کی تنہائی میں دو سرکتے ہوئے سایوں میں ہوئی سرگوشی بات چھوٹی تھی --- مگر پھیل کے افسانہ بنی میں نے اکثر یہی سوچا --- ترا خوش رنگ بدن نقرۂ ناب کا ترشا ہوا ٹکڑا ہو گا دودھیا ۔۔۔۔۔ سرد ۔۔۔۔ حرارت سے تہی جس پہ طاری ہو خود اپنے ہی تصور کا جمود کوئی اعجازِ پرستش...
  19. ظ

    نوشی گیلانی لانگ ڈیسٹنس کال ( نظم )

    “ بہت برفاف موسم ہے ہوائیں برف رُت کی شال اوڑھے بند کمرے میں پناہیں ڈھونڈتیں ہیں یہ کمرہ جس میں ہیٹر چل رہا ہے اور بدن سارے کا سارا برف کی سل بن گیا ہے بدن کی حدتیں اب اک غبار آلود خواہش کی طرح گم ہو رہیں ہیں‌ مگر اس منجمد شب میں جہاں پر ذہن سُن ہو اور پوریں بےحس و حرکت وہاں...
  20. فرخ منظور

    مینارِ پاکستان کی لوحوں کا نیا نوشتہ ۔ مسعود منور

    مینارِ پاکستان کی لوحوں کا نیا نوشتہ عجیب باغوں کی سر زمیں ہے ، جسے مرے خواب سینچتے ہیں یہ خواب ، صحرا کی گل بدن داستاں سرائوں کی فاختائیں یہ منجمد فاختائیں جیسے حنوط لمحوں کے سرد تابوت زرد سورج کی نیلی بارش میں کانپتے ہیں یہ باغ ، گوتم کے گیان کی روشنی کے پیپل یہ قافلوں کے شرار آثار...
Top