ن م راشد آنکھیں کالے غم کی ۔ ن م راشد

فرخ منظور نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 7, 2011

  1. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,661
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    آنکھیں کالے غم کی

    اندھیرے میں یوں چمکیں آنکھیں کالے غم کی
    جیسے وہ آیا ہو بھیس بدل کر آمر کا
    آنے والے جابر کا!
    سب کے کانوں میں بُن ڈالے مکڑی نے جالے
    سب کے ہونٹوں پر تالے
    سب کے دلوں میں بھالے!

    اندھیرے میں یوں چمکے میلے دانت بھی غم کے
    جیسے پچھلے دروازے سے آمر آ دھمکے
    سر پر ابنِ آدم کے!
    غم بھی آمر کے مانند اک دُم والا تارا
    یا جلتا بجھتا شرارا،
    جو رستے میں آیا سو مارا!

    غم گرجا برسا، جیسے آمر گرجے برسے
    خلقت سہمی دبکی تھی اک مبہم سے ڈر سے
    خلقت نکلی پھر گھر سے!
    بستی والے بول اٹھے! "اے مالک! اے باری!
    کب تک ہم پہ رہے گا غم کا سایہ یوں بھاری،
    کب ہوگا فرماں جاری؟"

    (ن م راشد)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,371
    بہت خوب جناب سخنور صاحب!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر