جدید نظم

  1. فرخ منظور

    مصطفیٰ زیدی ایک گمنام سپاہی کی قبر پر ۔ مصطفیٰ زیدی

    ایک گمنام سپاہی کی قبر پر تیری محراب پہ اے عصرِ کہن کی تاریخ صرف گوتم کے حسیں بت کا تبسم کیوں ہے کس ليے کیل سے لٹکی ہے فقط ایک صلیب ایک زنجیر کے حلقے کا ترنم کیوں ہے ایک ارسطو سے ہے کیوں گوشۂ دانش پرُ نور ایک سقراط کے سینے کا تلاطم کیوں ہے اسی محراب کے سائے میں کئی ابنِ علی کئی خونخوار یزیدوں...
  2. فرخ منظور

    مجید امجد پنواڑی (نظم) ۔ مجید امجد

    پنواڑی (مجید امجد) بوڑھا پنواڑی ، اس کے بالوں میں مانگ ہے نیاری آنکھوں میں جیون کی بجھتی اگنی کی چنگاری نام کی اک ہَٹی کے اندر بوسیدہ الماری آگے پیتل کے تختے پر اس کی دنیا ساری پان ، کتھا ، سگرٹ ، تمباکو ، چونا ، لونگ ، سپاری عمر اس بوڑھے پنواڑی کی پان لگاتے گزری چونا گھولتے ، چھالیا کاٹتے ،...
  3. فرخ منظور

    مصطفیٰ زیدی دستور ۔ مصطفیٰ زیدی

    دستور کل رات کو محرابِ خرابات تھی روشن اشعار کے حلقے میں تھی آیات کی آمد اربابِ حکایت نے سجائی تھی ادب سے افکار کے قالین پہ اقوال کی مسند اخلاص کے رشتوں پہ چھلکتے تھے نئے جام با وضع قدیمانۂ اخلاقِ اب و جد رقصندہ و رخشندہ و تابندہ و پُرکار جوّالہ و قتّالہ و سوزندہ و سرمد ہر ذرّہ گراں مایہ...
  4. فرخ منظور

    مصطفیٰ زیدی سایہ ۔ مصطفیٰ زیدی

    سایہ تمام شہر پہ آسیب سا مُسلط ہے دُھواں دُھواں ہیں دریچے ، ہوا نہیں آتی ہر ایک سمت سے چیخیں سُنائی دیتی ہیں صدائے ہم نَفَس و آشنا نہیں آتی گھنے درخت ، درو بام ، نغمہ و فانُوس تمام سحر و طلسمات و سایہ و کابُوس ہر ایک راہ پر آوازِ پائے نا معلُوم ہر ایک موڑ پہ اَرواحِ زِشت و بَد کا جلوس سفید...
  5. فرخ منظور

    مصطفیٰ زیدی سچّائی ۔ مصطفیٰ زیدی

    سچّائی مشرق کے پنڈت، مغرب کے گرجا والے صبح ہوئی اور سچّائی کے پیچھے بھاگے سچّائی اک قحبہ تھی جو رات کو تھک کر سوئی ہوئی تھی، شور سنا تو خوف کے مارے تھر تھر کانپی، روزِ عدالت سے گھبرائی بھیس بدل کر پیچھے نکلی، آگے آگے مشرق کے پنڈت، مغرب کے گرجا والے (مصطفیٰ زیدی)
  6. فرخ منظور

    مصطفیٰ زیدی آدمی ۔ مصطفیٰ زیدی

    آدمی مجھ کو محصور کیا ہے مری آگاہی نے میں نہ آفاق کا پابند، نہ دیواروں کا میں نہ شبنم کا پرستار، نہ انگاروں کا اہلِ ایقان کا حامی نہ گنہگاروں کا نہ خلاؤں کا طلب گار، نہ سیّاروں کا زندگی دھوپ کا میدان بنی بیٹھی ہے اپنا سایہ بھی گریزاں، ترا داماں بھی خفا رات کا روپ بھی بے زار، چراغاں بھی خفا...
  7. فرخ منظور

    مصطفیٰ زیدی تعبیر ۔ مصطفیٰ زیدی

    تعبیر مجھے یقیں تھا کہ تم نہیں ہو تھکے ہوے کھڑکیوں کے چہرے جلی ہوئی آسماں کی رنگت سیاہ آفا‍ق تک بگولے لہو کے آتش فشاں کی ساعت وجود پر ایک بوجھ سا تھا نہ صبح ِوعدہ نہ شامِ فرقت اسی مہیب آتشیں گھڑی میں کسی کی دستک سنی تو دل نے کہا کہ صحرا کی چوٹ کھائے کوئی غریب الدیار ہو گا یہ سچ کہ دل کی ہر ایک...
  8. فرخ منظور

    مصطفیٰ زیدی تہدیہ ۔ مصطفیٰ زیدی

    تہدیہ مُغاں سے لُطفِ ملاقات لے کہ آیا ہُوں نگاہِ پِیرِ خرابات لے کے آیا ہُوں زمیں کے کرب میں شامِل ہُوا ہُوں ، راہ روو فقیر ِ راہ کی سوغات لے کے آیا ہُوں نظر میں عصرِ جواں کی بغاوتوں کا غرور جگر میں سوزِ روایات لے کے آیا ہُوں یہ فکر ہے کہ یُونہی تیری روشنی چمکے گناہ گار ہُوں، ظلمات لے کے آیا...
  9. فرخ منظور

    مصطفیٰ زیدی دوری ۔ مصطفیٰ زیدی

    دوری پہلے تیری مُحبّتیں چُن کر آرزو کے محل بناتے تھے بے نیازانہ زیست کرتے تھے صرف تجھ کو گلے لگاتے تھے زندگی کی متاعِ سوزاں کو تیری آواز لُوٹ جاتی تھی تیرے ہونٹوں کی لے ابھرتے ہی زخم کی تان ٹوٹ جاتی تھی تو کنول تھی، ایاغ تھی، کیا تھی روشنی کا سراغ تھی، کیا تھی میرا دل تھی، دماغ تھی، کیا...
  10. فرخ منظور

    مصطفیٰ زیدی بُہتان ۔ مصطفیٰ زیدی

    بُہتان کیا یہی ہونٹ ہیں، جو مرے واسطے انگبیں تھے، مئے ناب تھے، آگ تھے کیا یہی جسم ہے، جس کے سب زاویے میرے آغوش میں راگ ہی راگ تھے ہاں بڑی چیز ہے راہ و رسمِ جہاں دوست، خاوند، بہنیں، قفس، پاسباں ننگ و نامُوس۔۔۔۔سینے کی چنگاریاں وہ ترا امتحاں۔۔۔۔۔یہ مرا امتحاں رکھ لیا اپنے رشتوں کا تُو نے بھرم...
  11. فرخ منظور

    مصطفیٰ زیدی افتاد ۔ مصطفیٰ زیدی

    اُفتاد اے آتشِ تبسم و اے شبنمِ جمال خاموش آنسووں کی طرح جل رہے ہیں ہم تجھ کو خبر نہ ہو گی کہ دانش کے باوجود برسوں ترے خیال میں پاگل رہے ہیں ہم ہر بزمِ رنگ و رقص میں شرکت کے ساتھ ساتھ تنہا رہے ہیں اور سرِ مقتل رہے ہیں ہم دیکھا ہے تونے ہم کو بہاراں کے روپ میں مجروح قافلے کی طرح چل رہے ہیں ہم سب سے...
  12. فرخ منظور

    ہم اہل قلم کیا ہیں؟ ۔ شورش کاشمیری

    ہم اہل قلم کیا ہیں؟ از شورش کاشمیری اَلفاظ کا جھگڑا ہیں ، بے جوڑ سراپا ہیں بجتا ہوا ڈنکا ہیں ، ہر دیگ کا چمچا ہیں ہم اہلِ قلم کیا ہیں ؟ مشہور صحافی ہیں ، عنوانِ معافی ہیں شاہانہ قصیدوں کے، بے ربط قوافی ہیں ہم اہلِ قلم کیا ہیں ؟ چلتے ہوئے لَٹّو ہیں ، بے ِزین کے ٹَٹّو ہیں اُسلوبِ نگارش کے، منہ...
  13. فرخ منظور

    مصطفیٰ زیدی کربلا ۔ مصطفیٰ زیدی

    کربلا کربلا، میں تو گنہگار ہوں لیکن وہ لوگ جن کو حاصل ہے سعادت تری فرزندی کی جسم سے، روح سے، احساس سے عاری کیوں ہیں اِن کی مسمار جبیں، ان کے شکستہ تیور گردشِ حسنِ شب و روز پہ بھاری کیوں ہیں تیری قبروں کے مجاور، ترے منبر کے خطیب فلس و دینار و توجّہ کے بھکاری کیوں ہیں؟ روضۂ شاہِ شہیداں پہ اک...
  14. فرخ منظور

    مصطفیٰ زیدی یہ ایک نام ۔ مصطفیٰ زیدی

    یہ ایک نام شفق سے دُور ، ستاروں کی شاہراہ سے دُور اُداس ہونٹوں پہ جلتے سُلگتے سِینے سے تمھارا نام کبھی اِس طرح اُبھرتا ہَے فضا میں جیسے فرشتوں کے نرم پَر کُھل جائیں دِلوں سے جَیسے پُرانی کدُورتیں دُھل جائیں یہ بولتی ہُوئی شب ، یہ مُہِیب سناٹا کہ جیسے تُند گناہوں کے سیکڑوں عفرِیت بس ایک...
  15. فرخ منظور

    مصطفیٰ زیدی عدالت (نظم)۔ مصطفیٰ زیدی

    عدالت خدائے قُدّوس کی بُزرگ اور عظیم پلکیں زمیں کے چہرے پہ جُھک گئی ہَیں زمین کی دُخترِ سعید اپنے آنسوؤں اور ہچکیوں میں شفیق ، ہمدرد باپ کی بارگاہ کا اک ستُون تھامے گُنہ کا اقرار کر رہی ہے ترے فرشتے ۔۔۔۔۔۔۔ ترے فرشتے کہ جن کی قسمت میں محض تسبیح و نَے نوازی نہ سوزِ فطرت نہ دل گُدازی یہ وُہ ہیں...
  16. فرخ منظور

    مصطفیٰ زیدی کراہتے ہوئے دِل ۔ مصطفیٰ زیدی

    کراہتے ہوئے دِل مَیں اسپتال کے بستر پہ تم سے اتنی دُور یہ سوچتا ہُوں کہ ایسی عجیب دُنیا میں نہ جانے آج کے دن کیا نہیں ہُوا ہو گا کِسی نےبڑھ کے ستارے قفس کیے ہوں گے کسی کے ہات میں مہتاب آگیا ہو گا جلائی ہوں گی کِسی کے نفَس نے قِندیلیں کِسی کی بزم میں خورشید ناچتا ہو گا کِسی کو ذہن کا...
  17. فرخ منظور

    مصطفیٰ زیدی برف باری

    برف باری کون سنتا اس بھیا نک رات میں دل کی صدا میرے ہونٹوں پر مری فریاد جم کر رہ گئی زندگی اک بے وفا لڑکی کے وعدوں کی طرح آنسوؤں کے ساتھ آئی آنسوؤں میں بہہ گئی تم کو کیا الزام دوں پہلے ہی اپنے ذہن میں کون سی شائستگی تھی ، کون سی تنظیم تھی صُبح یوں سورج کی کرنیں پھیلتی تھیں ٹوٹ کر جیسے اک ہاری...
  18. فرخ منظور

    مصطفیٰ زیدی احسان فراموش ۔ مصطفیٰ زیدی

    احسان فراموش جب منڈیروں پہ چاند کے ہمراہ بجھتی جاتی تھیں آخری شمعیں کیا ترے واسطے نہیں ترسا اُس کا مجبور مضمحل چہرا؟ کیا ترے واسطے نہیں جاگیں؟ اُس کی بیمار رحم دل آنکھیں کیا تجھے یہ خیال ہے کہ اُسے اپنے لٹنے کا کوئی رنج نہیں اُس نے دیکھی ہے دن کی خونخواری اس پہ گزری ہے شب کی عیّاری پھر بھی...
  19. فرخ منظور

    مصطفیٰ زیدی پاگل خانہ ۔ مصطفیٰ زیدی

    پاگل خانہ ہر طرف چاکِ گریباں کے تماشائی ہیں ہر طرف غولِ بیاباں کی بھیانک شکلیں ہم پہ ہنسنے کی تمنا میں نکل آئی ہیں چند لمحوں کی پر اسرار رہائش کے لیے عقل والے لبِ مسرور کی دولت لے کر دور سے آئے ہیں اشکوں کی نمائش کے لیے عقل کو زہر ہے وہ بات جو معمول نہیں عقل والوں کے گھرانوں میں پیمبر کے لیے...
  20. فرخ منظور

    مجاز ایک دوست کی خوش مذاقی پر ۔ اسرار الحق مجاز

    ایک دوست کی خوش مذاقی پر ہو نہیں سکتا تری اس "خوش مذاقی" کا جواب شام کا دلکش سماں اور تیرے ہاتھوں میں کتاب رکھ بھی دے اب اس کتابِ خشک کو بالائے طاق اُڑ رہا ہے رنگ و بُو کی بزم میں تیرا مذاق چھُپ رہا ہے پردۂ مغرب میں مہرِ زرفشاں دید کے قابل ہیں بادل میں شفق کی سرخیاں موجزن جوئے شفق ہے اس طرح...
Top