مصطفیٰ زیدی برف باری

فرخ منظور

لائبریرین
برف باری

کون سنتا اس بھیا نک رات میں دل کی صدا
میرے ہونٹوں پر مری فریاد جم کر رہ گئی
زندگی اک بے وفا لڑکی کے وعدوں کی طرح
آنسوؤں کے ساتھ آئی آنسوؤں میں بہہ گئی

تم کو کیا الزام دوں پہلے ہی اپنے ذہن میں
کون سی شائستگی تھی ، کون سی تنظیم تھی
صُبح یوں سورج کی کرنیں پھیلتی تھیں ٹوٹ کر
جیسے اک ہاری ہوئی صف پر جواری کی ہنسی
مجھ کو خود احساس تھا اس کا کہ شاید یہ خلش
اک نہ اک دن مستقل آوارگی بن جائے گی

دل تو پہلے ہی لہو تھا تم کو کیا الزام دوں
اور بھی اک زخم کا منہ کُھل گیا تو کیا ہوا
ایک بے معنی تمنا کی جبیں سے سُرخ رنگ
تیز بوچھاروں کی زد میں دُھل گیا تو کیا ہوا
ایک بے مقصد تسلسل کو سمجھ لینے کا زہر
روز و شب کی دھڑکنوں میں گھُل گیا تو کیا ہوا

تم نے شاید یہ نہیں سوچا کہ میری روح میں
اک اجنتا گر گیا پتھر کے ٹکڑے رہ گئے
کتنی نظموں کے لبوں پر پپڑیا ں سی جم گئیں
کتنے افسانے خس و خاشاک بن کر رہ گئے
کتنے گیتوں کا تصور جم گیا مضراب میں
کتنے بُت آدرش کے اندھے کھنڈر میں رہ گئے

کل تو اس آوارگی میں بھی تھی منزل کی تلاش
اور اب تو مضطرب قدموں کو صحرا بھی کہاں
جو ترے بالوں کو سلجھا کر بھی ٹھنڈی رہ گئیں
اُن ٹھٹھرتی اُنگلیوں میں کیفِ صہبا بھی کہاں
جن سے کل شیشے میں پگھلی جارہی تھی کائنات
آج ان ہونٹوں کو حِدّت کی تمنا بھی کہاں

(مصطفیٰ زیدی)
 
آخری تدوین:
Top