مصطفیٰ زیدی دستور ۔ مصطفیٰ زیدی

فرخ منظور نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 24, 2016

  1. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,867
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    دستور

    کل رات کو محرابِ خرابات تھی روشن
    اشعار کے حلقے میں تھی آیات کی آمد

    اربابِ حکایت نے سجائی تھی ادب سے
    افکار کے قالین پہ اقوال کی مسند

    اخلاص کے رشتوں پہ چھلکتے تھے نئے جام
    با وضع قدیمانۂ اخلاقِ اب و جد

    رقصندہ و رخشندہ و تابندہ و پُرکار
    جوّالہ و قتّالہ و سوزندہ و سرمد

    ہر ذرّہ گراں مایہ و آفاق نشیمن
    ہر قطرہ گُہر رشتہ و الماس و زبرجد

    نغموں کا تلاطم تھا کہ تفسیرِ دو عالم
    ہر گیت کا اِک گھیر تھا ہر بول کا اِک قد

    ہر دھن سے ترشتے تھے تھرکتے ہوئے اصنام
    ہر راگ میں اِک خال تھا، ہر تان میں اِک خَد

    گھُلتا ہوا ساغر میں ہر اسلوبِ کم و بیش
    مٹتا ہوا ہر تفرقۂ احمد و اسود

    صہبا کی حرارت سے درکتی تھی صراحی
    بیٹھے تھے تہی جام مگر حضرتِ امجدؔ

    وابستگیِ شرع نظر بندیِ رنداں
    پابندیِ آئین و گرفتاریِ مقصد

    آخر حرم و دیر کے مینار پکارے
    اے واقفِ اسرارِ دلِ ہوّض و ابجد

    دستورِ قوانینِ ازل مٹ نہیں سکتے
    ہر شرع کا اِک وقت ہے ہر بات کی اِک حد

    اِس شہر اور اُس شہر پہ موقوف نہیں ہے
    "ویراں شود آں شہر کہ مے خانہ نہ دارد"

    (مصطفیٰ زیدی)​
     
    آخری تدوین: ‏اکتوبر 24, 2016

اس صفحے کی تشہیر