جدید نظم

  1. فرخ منظور

    ن م راشد ہم کہ عشّاق نہیں ۔ ۔ ۔ از ن م راشد

    ہم کہ عشّاق نہیں ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم کہ عشّاق نہیں ، اور کبھی تھے بھی نہیں ہم تو عشّاق کے سائے بھی نہیں! عشق اِک ترجمۂ بوالہوسی ہے گویا عشق اپنی ہی کمی ہے گویا! اور اس ترجمے میں ذکرِ زر و سیم تو ہے اپنے لمحاتِ گریزاں کا غم و بیم تو ہے لیکن اس لمس کی لہروں کا کوئی ذکر نہیں جس سے بول اٹھتے ہیں...
  2. فرخ منظور

    ن م راشد خود سے ہم دور نکل آئے ہیں ۔ ن م راشد

    خود سے ہم دور نکل آئے ہیں میں وہ اقلیم کہ محروم چلی آتی تھی سالہا دشت نوردوں سے، جہاں گردوں سے اپنا ہی عکسِ رواں تھی گویا کوئی روئے گزراں تھی گویا ایک محرومیِ دیرینہ سے شاداب تھے آلام کے اشجار وہاں برگ و بار اُن کا وہ پامال امیدیں جن سے پرسیِ افشاں کی طرح خواہشیں آویزاں تھیں، کبھی ارمانوں کے...
  3. پ

    منیر نیازی نظم - تو -منیر نیازی

    تو وہاں، جس جگہ پر صدا سو گئ ہے ہر اک سمت اونچے درختوں کے جھنڈ ان گنت سانس روکے ہوئے کھڑے ہیں جہاں ابر آلود شام اڑتے لمحوں کو روکے ابد بن گئ ہے وہاں عشق پیچاں کی بیلوں میں لپٹا ہوا اک مکاں ہو ! اگر میں کبھی راہ چلتے ہوئے اس مکاں کے دریچوں کے نیچے سے گزروں تو اپنی نگاہوں میں اک آنے والے...
  4. فرخ منظور

    مجید امجد سازِ فقیرانہ ۔ مجید امجد

    نظم از مجید امجد سازِ فقیرانہ گلوں کی سیج ہے کیا، مخملیں بچھونا کیا نہ مل کے خاک میں گر خاک ہوں تو سونا کیا فقیر ہیں، دو فقیرانہ ساز رکھتے ہیں ہمارا ہنسنا ہے کیا اور ہمارا رونا کیا ہمیں زمانے کی ان بیکرانیوں سے کام زمانے بھر سے ہے کم دِل کا ایک کونا کیا نظامِ دہر کو تیورا کے کس لئے...
  5. فرخ منظور

    سعود عثمانی جل پری از سعود عثمانی

    فیس بک سے اٹھائی گئی سعود عثمانی صاحب کی ایک نظم جل پری نیم خاک و نیم آب اے وصالِ ٓاب و گِل ، اے رمزِ دل اے سمندر کی سفیرِ خوشنوا تجھ سے مل کر ہوں میں خود پر منکشف مجھ سے بڑھ کر تُو ہے میری آشنا تیرے گیتوں سے فضا میں چار سُو صفحہ در صفحہ مرے دل کی کتاب اے تہِ دل کی مکیں ، اے نازنیں اے...
Top