ن م راشد خود سے ہم دور نکل آئے ہیں ۔ ن م راشد

فرخ منظور نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 21, 2010

  1. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,661
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    خود سے ہم دور نکل آئے ہیں

    میں وہ اقلیم کہ محروم چلی آتی تھی
    سالہا دشت نوردوں سے، جہاں گردوں سے
    اپنا ہی عکسِ رواں تھی گویا
    کوئی روئے گزراں تھی گویا

    ایک محرومیِ دیرینہ سے شاداب تھے
    آلام کے اشجار وہاں
    برگ و بار اُن کا وہ پامال امیدیں جن سے
    پرسیِ افشاں کی طرح خواہشیں آویزاں تھیں،
    کبھی ارمانوں کے آوارہ، سراسیمہ طیّور
    کسی نادیدہ شکاری کی صدا سے ڈر کر
    ان کی شاخوں میں اماں پاتے تھے، سستاتے تھے،
    اور کبھی شوق کے ویرانوں کو اڑ جاتے تھے،
    شوق، بے آب و گیاہ
    شوق، ویرانۂ بے آب و گیاہ،
    ولولے جس میں بگولوں کی طرح ہانپتے تھے
    اونگھتے ذرّوں کے تپتے ہوئے لب چومتے تھے

    ہم کہ اب میں سے بہت دور نکل آئے ہیں
    دور اس وادی سے اک منزلِ بے نام بھی ہے
    کروٹیں لیتے ہیں جس منزل میں
    عشقِ گم گشتہ کے افسانوں کے خواب
    ولولوں کے وہ ہیولے ہیں جہاں
    جن کی حسرت میں تھے نقّاش ملول
    جن میں افکار کے کہساروں کی روحیں
    سر و روبستہ ہیں،
    اوّلیں نقش ہیں ارمانوں کے آوارہ پرندوں کے جہاں
    خواہشوں اور آمیدوں کے جنیں!

    اپنی ہی ذات کے ہم سائے ہیں
    آج ہم خود سے بہت دور نکل آئے ہیں!

    (ن م راشد)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  2. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,371
    بہت خوبصورت انتخاب ہے سخنور صاحب۔۔بہت ہی خوب!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,661
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    بہت شکریہ کاشفی صاحب!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. مجاز

    مجاز محفلین

    مراسلے:
    143
    بہت خوب۔۔ شکریہ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,661
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    پسندیدگی کے لئے شکریہ مجاز صاحب!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر