الف عین

  1. فلسفی

    برائے اصلاح

    سر الف عین اور دیگر احباب سے اصلاح کی گذارش۔ جاہل کسی بھی شخص کو دانا نہیں کہتے اشعار میں بھی ہم تو فسانہ نہیں کہتے ہم عشق میں پیمانے کے قائل نہیں ساقی ساغر سے پلانے کو پلانا نہیں کہتے محفل میں کسی دل سے جو نکلی تھیں صدائیں بے درد ان آہوں کو تو گانا نہیں کہتے جن کے دلِ مضطر میں ہے طوفانِ...
  2. فلسفی

    برائے اصلاح

    سر الف عین اور دیگر احباب سے اصلاح کی گذارش ہے انجامِ رند دیکھ کہ رویا نہ کیوں کروں اس مے کو چھوڑنے کا تہیہ نہ کیوں کروں دن میں تجھے ہے ڈر کہ مجھے جانتے ہیں لوگ لیکن میں بزمِ شب میں بھی آیا نہ کیوں کروں آنکھوں سے درد کی تپش آنے لگے اگر پلکوں سے غم کی دھوپ میں سایا نہ کیوں کروں میری خوشی...
  3. فلسفی

    ایک نئی بحر کا تجربہ اور میری تک بندیاں

    اہل فن حضرات سے پیشگی معذرت اگر طبع ناز پر گراں گزرے، کیونکہ یہ میری پہلی جسارت ہے اس بحر کے ساتھ دو دو ہاتھ کرنے کی۔ تمام احباب مکمل آزادی کے ساتھ اس کا تیا پانچا کرنے کی مکمل کوشش کریں اور اپنے قیمتی رائے سے نوازیں۔ سر الف عین اور دیگر اساتذہ اکرام اغلاط کی نشاندہی فرمادیں یا اس بحر کے حوالے...
  4. فلسفی

    برائے اصلاح

    سر الف عین اور دیگر احباب سے اصلاح کی گذارش ہے کہیں کوئی ایسا جہاں میں جہاں ہو جو حسنِ تخیل کا جلوہ کناں ہو دلِ بے کراں میں رہے دفن حسرت ضروری نہیں جو چھپا ہے عیاں ہو فصاحت کا پیکر ہیں چند آنسو اس کے بیاں ہو وہ کیسے جو ان سے بیاں ہو چلیں یاس کی آندھیاں دل جلا کر رہے راکھ باقی، نہ نام و نشاں...
  5. فلسفی

    برائے اصلاح

    سر الف عین اور دیگر احباب سے اصلاح کی گذارش ہے طبیعت سے ہم لا ابالی رہے ہیں ہمیشہ تکلف کے شاکی رہے ہیں نگاہوں سے ان کی جو مے پی رہے ہیں تخیل کے زیرِ نگیں جی رہے ہیں محبت میں دھوکے بہت ہیں، مگر ہم ہمیشہ سے مثبت خیالی رہے ہیں برا کیا جو نخرے اٹھائیں کسی کے کسی وقت ہم بھی تو ضدی رہے ہیں...
  6. فلسفی

    برائے اصلاح

    سر الف عین اور دیگر احباب سے اصلاح کی گذارش ہے مقصدِ زندگی نہیں رہتا جب کوئی دل میں ہی نہیں رہتا وہ اگر کچھ قریب آ جاتے رابطہ واجبی نہیں رہتا اک نظر دیکھنے کے بعد ان کو پھر کوئی متقی نہیں رہتا عزتِ نفس بیچ کر انسان واقعی آدمی نہیں رہتا سامنے جب کبھی وہ آجائیں مدعا یاد ہی نہیں رہتا وقت کے...
  7. فلسفی

    برائے اصلاح

    سر الف عین اور دیگر احباب سے اصلاح کی گذارش ہے چند لفظوں میں فقط لُبِ لباب آیا ہے مدتوں بعد کسی خط کا جواب آیا ہے اس لیے تھام لیا ہاتھ مرا ہاتھوں میں نیند میں شاید اسے ہجر کا خواب آیا ہے سرخ آندھی چلی ہے زور سے ، لگتا ہے یوں مجرموں کی کسی بستی میں عذاب آیا ہے میرے سب دوست گناہوں سے ہوئے ہیں...
  8. فلسفی

    برائے اصلاح

    سر الف عین اور دیگر احباب سے اصلاح کی گذارش ہے زندگی بتا تجھے، کس کا انتظار ہے تجھ پہ موت کے سوا، کس کا اختیار ہے گوشہء نشیں ہے وہ ، تو پھر آج شہر میں ہر درودوار پر، کس کا اشتہار ہے منزلیں سراب ہیں، دشتِ زیست میں تو پھر اے مسافر اب تجھے ، کس کا اعتبار ہے قصرِ شاہ کے قریب، بھوک محوِ رقص ہے...
  9. ذیشان لاشاری

    غزل برائے اصلاح۔ دیکھا ہمیں جو راہ میں تو منہ چھپا گئے

    دیکھا ہمیں جو راہ میں تو منہ چھپا گئے لگتا ہے وہ بھی غیر کی باتوں میں آ گئے میت کو پھر سے جینے کی خواہش سی ہو گئی وہ کیوں ہماری قبر پہ آنسو بہا گئے اس بار خواب میں بھی کہا اس نے الوداع اک شمع آخری تھی سو وہ بھی بجھا گئے ظالم وہ ہیں تو کیا کریں دل پر ہے کس کا زور نادان ہے بچارہ سو اس کو وہ بھا...
  10. محمد شکیل خورشید

    اصلاح درکار ہے

    رہ بدلتا رہا ہوں ساری عمر پھر بھی چلتا رہا ہوں ساری عمر غم چھپاتا رہا ہوں سینے میں خوں اُگلتا رہا ہوں ساری عمر ہر قدم پر بھٹکنا چاہا تھا پر سنبھلتا رہا ہوں ساری عمر وقت نے جو سکھائے تھے کردار ان میں ڈھلتا رہا ہوں ساری عمر خار بن کر سبھی کی آنکھوں میں جیسے کَھلتا رہا ہوں ساری عمر ایک...
  11. ارشد چوہدری

    غزل برائے اصلاح

    بحر ۔۔ جمیل مثمن سالم ( مفاعلاتن مفاعلاتن مفاعلاتن مفاعلاتن ) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہی تو دنیا میں ہو رہا ہے کسی کے دل میں وفا نہیں ہے یہاں اُسی کو سزا ملے گی اگر کسی کی خطا نہیں ہے...
  12. فلسفی

    برائے اصلاح

    سر الف عین اور دیگر احباب سے اصلاح کی گذارش ہے جب تک غلط فہمی کا دریا بیچ میں حائل رہا نفرت کی طغیانی کے گرد امید کا ساحل رہا دنیا ہمیشہ دوسروں کی آنکھ سے دیکھی تو پھر اپنی بصارت کا تجھے کیا فائدہ حاصل رہا فرقہ پرست اس مولوی کو حشر میں ہوگی سزا جس کے سبب دنیا میں کوئی دین سے غافل رہا ملحد نے...
  13. محمد شکیل خورشید

    اصلاح درکار ہے

    لوچ تیری ادا میں کچھ بھی نہیں پیچ بندِقبا میں کچھ بھی نہیں کتنا سادہ مرض ہے چارہ گرو درد ہے اور دوا میں کچھ بھی نہیں حاصلِ عمر ہاتھ آیا کیا اک خلا اور خلا میں کچھ بھی نہیں زلف کھولی ہے تم نے شائد آج ورنہ خوشبو ہوا میں کچھ بھی نہیں کیسے پرنم ہو کوئی آنکھ شکیلؔ سوز تیری نوا میں کچھ بھی نہیں
  14. محمد شکیل خورشید

    نعت برائے اصلاح

    حضور آپ کی رحمت کا ہی سہارا ہے وگرنہ نامۂِ اعمال میں خسارا ہے بس ایک آپ کی نسبت ہے آپ کا ہی کرم یہ گرنصیب نہ ہو تو کہاں گزارا ہے کٹھن ہے راہ گزر، قافلے ہیں درماندہ مگر یہ حوصلہ ہے کہ وہ در ہمارا ہے پھرا ہوں کوچہ بہ کوچہ مگر اے شہرِ رسُل جو نقش دل میں ہے اب تک، ترا نظارا ہے شکیل اتنی سی ہے...
  15. فلسفی

    نعتیہ کلام - برائے اصلاح

    سر الف عین اور دیگر اساتذہ اکرام سے اصلاح کی گذارش ہے۔ معطر ہے فضا ہر چیز پر اک نور چھایا ہے مدینے پر خدا کے رحمتوں کا خاص سایہ ہے ادب اورعشق کا جذبہ ہمیشہ دل میں پایا ہے زباں پر جب بھی محبوبِؐ خدا کا نام آیا ہے سنو لا ترفعو اصواتکم قرآن میں کہہ کر ادب محبوبؐ کا اللہ نے کرنا سکھایا ہے خدا کے...
  16. فلسفی

    برائے اصلاح

    سر الف عین اور دیگر احباب سے اصلاح کی گذارش ہے۔ بہاروں کے سبب سارے چمن میں رونق آئی ہے مگر اب تک لبِ گل پر خزاؤں کی دہائی ہے نسیمِ صبح آنگن میں اچانک مسکرائی ہے اڑا کر شہر سے تیرے معطر خاک لائی ہے خطیبِ شہر اب جمعہ کے خطبے میں سنائے گا روایت اس نے گھر بیٹھے ہوئے جو خود بنائی ہے ہزاروں...
  17. آدم

    اصلاحِ سخن - خمارِ عشق و محبت اتر گیا کیسے

    سر الف عین ، یاسر شاہ اور دیگر احباب سے اصلاح کی گزارش ہے اور امید ہے کہ اپنے قیمتی وقت اور قیمتی رائے سے نوازیں گے۔ اس بحر میں غزل کہنے کی یہ میری پہلی کاوش ہے۔ خمارِ عشق و محبت اتر گیا کیسے وفا کا ڈھونگ رچاتے ہیں بے وفا کیسے فسانۂ غمِ الفت ختم ہوا کیسے بتاؤں کیا کہ مرا دل بکھر گیا کیسے وہ...
  18. فلسفی

    برائے اصلاح

    سر الف عین اور دیگر احباب سے اصلاح کی گذارش ہے یاس کی چنگاریوں کو جب ہوا دیتی ہے شب وسوسوں کی آگ سینے میں لگا دیتی ہے شب ڈوبتے سورج کو دیکھا ہے کبھی کیا غور سے روشنی کی شمع کو کیسے بجھا دیتی ہے شب آسماں پر باجماعت ماند تاروں کے لیے چاند جیسا خوبصورت مقتدا دیتی ہے شب شہر میں تاریکیاں...
  19. محمد شکیل خورشید

    اصلاح درکار ہے

    درد ظاہر نہ یوں کیا کیجے بے سبب مسکرا لیا کیجے ہوش میں ضبطِ غم نہیں ممکن آپ مدہوش ہی جیا کیجے سر پہ تہمت جنوں کی آئے نہ چاک دامن کے خود سیا کیجے خامشی الجھنیں بڑھاتی ہے بات جو بھی ہو کہہ دیا کیجے میکدے سے تو لوٹ آئے شکیل ان کی آنکھوں سے اب پیا کیجے
Top