غزل
ختم ہر اچھا بُرا ہو جائے گا
ایک دن سب کچھ فنا ہوجائے گا
کیا پتہ تھا، دیکھنا اُس کی طرف
حادثہ اتنا بڑا ہو جائے گا
مدّتو ں سے بند دروازہ کوئی
دستکیں دینے سے وا ہو جائے گا
ہے ابھی تک اُس کے آنے کا یقیں
جیسے کوئی معجزہ ہو جائے گا
مُسکرا کر دیکھ لیتے ہو مجھے
اِ س طرح کیا حق ادا ہوجائے گا؟...