بہت خوب انتخاب ہے اعجاز صاحب۔۔۔!
اچھی تحریر ہے اور اچھی مثال ہے اس بات کی بڑے شعراء سے باقی لوگ دانستہ یا غیر دانستہ اثر لے ہی لیتے ہیں لیکن یہاں کچھ زیادہ ہی اثر لے لیا۔
اس تحریر میں زبیر رضوی کی جس نظم کا ذکر ہے وہ محفل میں اس ربط پر موجود ہے۔
غزل
کٹ چکی تھی یہ نظر سب سے بہت دن پہلے
میں نے دیکھا تھا تجھے اب سے بہت دن پہلے
آج تک گوش بر آواز ہوں سنّاٹے میں
حَرف اُترا تھا ترے لب سے بہت دن پہلے
میں نے مستی میں یہ پوچھا تھا کہ ہستی کیا ہے
رفتگانِ مئے و مشرب سے بہت دن پہلے
مسلکِ عشق فقیروں نے کیا تھا ایجاد
اے مبلّغ ترے مذہب سے بہت دن...
غزل
کیا چاہیے نہ تھا یہ کبھی پوچھنا تمھیں
کیسے ہو تم شعورؔ یہ کیا ہوگیا تمھیں
ماتھا جلا ہوا ہے کڑی دھوپ سے اور آنکھ
کہتی ہے رات رات کا جاگا ہوا تمھیں
کیا اضطراب تھا کہ سکوں چھین لے گیا
کیا انقلاب تھا جو نہ راس آسکا تمھیں
کس سمت سے چلی تھی، کس آنگن سے آئی تھی
بادِ سموم، جس نے پریشاں کیا...
غزل
وہ لب میری نظر کے سامنے ہے
گُلِ تر چشمِ تر کے سامنے ہے
دوامی زندگی کی کیا حقیقت
حیاتِ مختصر کے سامنے ہے
دریچہ باغ میں کھلتا تھا پہلے
اب اک بازار گھر کے سامنے ہے
بشر نے ہاتھ سے تعمیر کی ہے
یہ دنیا جو بشر کے سامنے ہے
شعور اپنی زباں سے کیا بتاؤں
سبھی کچھ شہر بھر کے سامنے ہے
انور شعورؔ
واہ واہ واہ
شاندار فرخ بھائی! بہت بہت مبارک باد قبول کیجے۔
اتنی کثرت کے باوجود اتنا خوبصورت اور منتخب کلام آپ پیش کرتے ہیں کہ تحسین کے لئے الفاظ نہیں ملتے۔
ہمیشہ خوش رہیے۔
اللہ آپ کو شاد آباد رکھے۔