غزل
(امیرؔ مینائی رحمتہ اللہ علیہ)
ظاہر میں ہم فریفتہ حُسنِ بُتاں کے ہیں
پر کیا کہیں نگاہ میں جلوے کہاں کے ہیں؟
یارانِ رفتہ سے کبھی جاہی ملیں گے ہم
آخر تو پیچھے پیچھے اسی کارواں کے ہیں
ٹھکرا کے میرے سر کو وہ کہتے ہیں ناز سے
لو ایسے مفت سجدے مرے آستاں کے ہیں
شکوہ شبِ...
دیکھئے ، دیکھئے یوں نہ شرمائیے گا
پاس آکے نہ تڑپائیے گا
پاس آکے نہ تڑپائیے گا
دیکھئے ، دیکھئے یوں نہ شرمائیے گا
ہیں کتنی حسیں، ہیں کتنی جواں یہ انگڑائیاں
یہ خاموشیاں، یہ بیہوشیاں، یہ تنہائیاں
آج تو، آج تو دل میں رہ جائیے گا
پاس آکے نہ تڑپائیے گا
پاس آکے نہ تڑپائیے گا
دیکھئے ،...
وہ پاس رہیں یا دور رہیں
نظروں میں سمائے رہتے ہیں
اتنا تو بتا دے کوئی ہمیں
کیا پیار اسی کو کہتے ہیں
وہ پاس رہیں یا دور رہیں
نظروں میں سمائے رہتے ہیں
اتنا تو بتا دے کوئی ہمیں
کیا پیار اسی کو کہتے ہیں
چھوٹی سی بات محبت کی
چھوٹی سی بات محبت کی
اور وہ بھی کہی نہیں جاتی
کچھ وہ...
غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
یوں مٹا جیسے کہ دہلی سے گمانِ دہلی
تھا مِرا نام و نشاں، نام و نشانِ دہلی
لے گئے لوٹ کے اب شوکت و شانِ دہلی
پوربی، پہلے اُڑاتے تھے زبانِ دہلی
اس سے بڑھ کر نہیںمحشر میںکوئی طولِ حساب
بس یہی ہوگا کہ ہم اور بیانِ دہلی
نیّرؔ و...