دُنیا
(جناب تلوک چند محروم)
نقش برسطح آب ہے دُنیا
بلکہ موجِ سراب ہے دُنیا
ایک حالت پہ رہ نہیں سکتی
پیکرِ انقلاب ہے دُنیا
شبِ غفلت ہے زندگی اپنی
اس میں نیرنگِ خواب ہے دُ نیا
چند روزہ ہے اور فانی ہے
پھر بھی کیا لاجواب ہے دُنیا
ہوشیار اس سے بچ کے رہتے ہیں
کہ نہایت خراب ہے...
وارداتِ قلب
(از جناب ماسٹر محمد حسین ، اسلامیہ کالج لاہور )
ماخذ: رسالہ مخزن جنوری 1930- ایڈیٹر : ابوالاثر حفیظ جالندھری
وہی زندہ رہے جو عشق کے مارے نکلے
اس سمندر میں جو ڈوبے وہ کنارے نکلے
مجھ کو چھوڑا تھا کہ ارباب وفا ملتے ہیں
وہ کسی کے نہ ہمارے نہ تمہارے نکلے
اس سے کیا جان سے...
غزل
(سید انشا اللہ خان انشا رحمتہ اللہ)
جھوٹا نکلا قرار تیرا
اب کس کو ہے اعتبار تیرا
دل میں سو لاکھ چٹکیاں لیں
دیکھا بس ہم نے پیار تیرا
دم ناک میں آرہا ہے اپنے
تھا رات یہ انتظار تیرا
کر جبر جہاں تلک تو چاہے
میرا کیا اختیار تیرا
لپٹوں ہوں گلے سے آپ اپنے
سمجھوں ہوں کہ ہے کنار تیرا...
غزل
(مصحفی)
خاموش ہیں ارسطو و فلاطوں مرے آگے
دعویٰ نہیں کرتا کوئی موزوں مرے آگے
دانش پہ گھمنڈ اپنی جو کرتا ہے بہ شدّت
واللہ کہ وہ شخص ہے مجنوں مرے آگے
لاتا نہیں خاطر میں سُخن بیہودہ گو کا
اعجاز میسحا بھی ہے افسوں مرے آگے
میں گوز سمجھتا ہوں سدا اُس کی صدا کو
گو بول اُٹھے ادھی کا چوں چوں...
غزل
(قطب شاہ)
سونے میں دیکھیا کہ پیتا ہوں میں شراب
عاشقاں کا دل ہوا ا س سے کباب
حور کھولے روز شیخاں پاس تھے
آبجاوے میرے میخانہ رباب
میرے بت کو پوجتے سارے بتاں
سبھی رما لاں کہو اس کا جواب
شکر و شکرو شکر لاکھاں شکر ہے
میری مجلس کوں ملک نا دیکھیں خواب
عاشقاں کے شعر تھے جگ مگ...