نتائج تلاش

  1. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    تم دل کی حقیقت سے آگاہ نہیں شاید ہر قطرہء خون میرا لختِ جگرِ دل ہے (مزاج)
  2. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    جس روز کسی اور پہ بیداد کرو گے یہ یار رہے ہم کو بہت یاد کرو گے (سودا)
  3. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    اہلِ ایماں سوز کو کہتے ہیں کافر ہوگیا آہ یارب! راز دل ان پر بھی ظاہر ہوگیا (سوز)
  4. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    تو ہم سے جو ہم شراب ہوگا عالم کا جگر کباب ہوگا (سوز)
  5. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    یہ رات شمع سے کہتا تھا درد پروانہ کہ حال دل کہوں گر جان کی اماں پاؤں (درد)
  6. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    سیر کر دنیا کی غافل زندگانی پھر کہاں زندگی گر کچھ رہی تو نوجوانی پھر کہاں (درد)
  7. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    کہیں ہوا ہے سوال و جواب آنکھوں میں یہ بے سبب نہیں ہم سے حجاب آنکھوں میں (درد)
  8. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    تمنّا ہے تیری اگر ہے تمنّا تری آرزو ہے اگر آرزو ہے نظر میرے دل پر پڑی درد کس کی جدھر دیکھتا ہوں وہی روبرو ہے (درد)
  9. کاشفی

    دُنیا - جناب تلوک چند محروم

    دُنیا (جناب تلوک چند محروم) نقش برسطح آب ہے دُنیا بلکہ موجِ سراب ہے دُنیا ایک حالت پہ رہ نہیں سکتی پیکرِ انقلاب ہے دُنیا شبِ غفلت ہے زندگی اپنی اس میں نیرنگِ خواب ہے دُ نیا چند روزہ ہے اور فانی ہے پھر بھی کیا لاجواب ہے دُنیا ہوشیار اس سے بچ کے رہتے ہیں کہ نہایت خراب ہے...
  10. کاشفی

    وارداتِ قلب - جناب ماسٹر محمد حسین

    وارداتِ قلب (از جناب ماسٹر محمد حسین ، اسلامیہ کالج لاہور ) ماخذ: رسالہ مخزن جنوری 1930- ایڈیٹر : ابوالاثر حفیظ جالندھری وہی زندہ رہے جو عشق کے مارے نکلے اس سمندر میں جو ڈوبے وہ کنارے نکلے مجھ کو چھوڑا تھا کہ ارباب وفا ملتے ہیں وہ کسی کے نہ ہمارے نہ تمہارے نکلے اس سے کیا جان سے...
  11. کاشفی

    ن م راشد انقلابی ۔ ن م راشد

    بہت خوب جناب!
  12. کاشفی

    ن م راشد اجنبی عورت ۔ ن م راشد

    بہت شکریہ شریکِ محفل کرنے کے لیئے۔۔
  13. کاشفی

    انشا اللہ خان انشا جھوٹا نکلا قرار تیرا - انشا اللہ خاں انشا

    غزل (سید انشا اللہ خان انشا رحمتہ اللہ) جھوٹا نکلا قرار تیرا اب کس کو ہے اعتبار تیرا دل میں سو لاکھ چٹکیاں لیں دیکھا بس ہم نے پیار تیرا دم ناک میں آرہا ہے اپنے تھا رات یہ انتظار تیرا کر جبر جہاں تلک تو چاہے میرا کیا اختیار تیرا لپٹوں ہوں گلے سے آپ اپنے سمجھوں ہوں کہ ہے کنار تیرا...
  14. کاشفی

    مصحفی خاموش ہیں ارسطو و فلاطوں مرے آگے - مصحفی

    غزل (مصحفی) خاموش ہیں ارسطو و فلاطوں مرے آگے دعویٰ نہیں کرتا کوئی موزوں مرے آگے دانش پہ گھمنڈ اپنی جو کرتا ہے بہ شدّت واللہ کہ وہ شخص ہے مجنوں مرے آگے لاتا نہیں خاطر میں سُخن بیہودہ گو کا اعجاز میسحا بھی ہے افسوں مرے آگے میں گوز سمجھتا ہوں سدا اُس کی صدا کو گو بول اُٹھے ادھی کا چوں چوں...
  15. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    ماجرائے عشق تو مجھ سے نہ پوچھ سخت کافر ماجرا ہوتا ہے عشق (مصحفی)
  16. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    دل نذر ایک یار پری وش کو کر چکے اے مصحفی اب اگے مقدر ہے اور ہم (مصحفی)
  17. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    مصحفی یوں تو سبھی شعر و سخن کہتے ہیں چاہئیے لطف سخن دل میں اثر کرنے کو (مصحفی)
  18. کاشفی

    سونے میں دیکھیا کہ پیتا ہوں میں شراب - قطب شاہ

    غزل (قطب شاہ) سونے میں دیکھیا کہ پیتا ہوں میں شراب عاشقاں کا دل ہوا ا س سے کباب حور کھولے روز شیخاں پاس تھے آبجاوے میرے میخانہ رباب میرے بت کو پوجتے سارے بتاں سبھی رما لاں کہو اس کا جواب شکر و شکرو شکر لاکھاں شکر ہے میری مجلس کوں ملک نا دیکھیں خواب عاشقاں کے شعر تھے جگ مگ...
  19. کاشفی

    بارہا ہجر میں یوں ہم نے اُنہیں یا دکیا - ذوقی

    :happy: دادی جان کے سب سے چھوٹے ماموں سے۔ان کے پاس بہت زیاد ہ پرانی کتابیں ہیں۔
  20. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    میں نے کہا کہ دعویٰ الفت مگر غلط اُس نے کہا کہ ہاں غلط اور کس قدر غلط (نواب یوسف علی خاں ناظم)
Top