نتائج تلاش

  1. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    ہوتا ہے وہی خدا جو چاہے مختار ہے جس طرح نبا ہے (پنڈت دَیا شنکر نسیم لکھنوی)
  2. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    سمجھانے سے تھا ہمیں سروکار اب مان نہ مان، تو ہے مختار (پنڈت دَیا شنکر نسیم لکھنوی)
  3. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    کیا لطف جو غیر پردہ کھولے جادو وہ جو سر چڑھ کے بولے (پنڈت دَیا شنکر نسیم لکھنوی)
  4. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    غم راہ نہیں کہ ساتھ دیجے دُکھ بوجھ نہیں کے بانٹ لیجے (پنڈت دَیا شنکر نسیم لکھنوی)
  5. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    انساں و پری کا سامنا کیا مٹھی میں ہَوا کا تھامنا کیا (پنڈت دَیا شنکر نسیم لکھنوی) پنڈت دَیا شنکر نسیم 1811ء میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد بزرگوار کا نام پنڈت گنگا پرشادکول تھا۔ لکھنؤ آپ کا وطن تھا۔
  6. کاشفی

    جوش سلام - جوش ملیح آبادی

    سلام جوش ملیح آبادی لکھنوی طبع میں کیا، تیغِ بُرّان میں روانی چاہیئے گل فشانی تا کُجا، اب خون فشانی چاہیئے بستہء زنجیرِ محکومی! خبر بھی ہے تجھے؟ مہرومہَ پر تجھ کو عزم حکمرانی چاہیئے مرقدِ شہزادہء اکبر سے آتی ہے صدا حق پہ جو مٹ جائے، ایسی نوجوانی چاہیئے شاہ فرماتے ہیں "جا لے جا...
  7. کاشفی

    جوش ناخُدا کہاں ہے ؟ - جوش ملیح آبادی

    ناخُدا کہاں ہے ؟ جوش ملیح آبادی خبر لو آسودگانِ ساحل! کہ سامنے مرگِ ناگہاں ہے چھِڑی ہوئی دیر سے لڑائی زبوں عناصر کے درمیاں ہے تمام دُنیا عرق عرق ہے، تمام ہستی رواں دواں ہے حقیر تِنکے کی طرح کشتی کبھی یہاں ہے کبھی وہاں ہے کوئی خدا کے لیے بتاؤ کہ ناخُدا کون ہے، کہاں ہے؟ غضب کے گِرداب...
  8. کاشفی

    جوش کب تک - جوش ملیح آبادی

    شکریہ سخنور صاحب!
  9. کاشفی

    جوش کب تک - جوش ملیح آبادی

    کب تک جوش ملیح آبادی رہے گی اہلِ جفا پر تری عطا کب تک بنے رہیں گے الہٰی! یہ بُت خدا کب تک لیے رہے گا دکھانے کو منہ میں گُلدستے زبوں شعار حکومت کا اژدھا کب تک کمندِ فکر میں‌اُلجھا کے ہنسے والوں‌کو زبانِ علم کہے گی گرہ کُشا کب تک کوئی بتاؤ یہ پیرانِ دامن آلودہ بنے رہیں‌گے جوانانِ پارسا کب تک...
  10. کاشفی

    آئینہ از عزیز قیسی

    بہت خوب جناب سخنور صاحب!
  11. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    محبت ہو کسی سے یا عداوت مزا دے جائے گی جو دل سے ہوگی (مصحفی)
  12. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    تیر پر تیر لگاؤ تمہیں ڈر کس کا ہے سینہ کس کا ہے مری جاں جگر کس کا ہے (امیر مینائی)
  13. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    تھمتے تھمتے تھمیں گے آنسو رونا ہے یہ کچھ ہنسی نہیں ہے (مصحفی)
  14. کاشفی

    وہ دل کہاں سے لاؤں شکیبا کہیں جسے - حکیم آزاد انصاری

    غزل (جناب حکیم آزاد انصاری صاحب) وہ دل کہاں سے لاؤں شکیبا کہیں جسے باقی بھی ہو، شکیب کا یارا کہیں جسے وہ درد دے کہ درد تمنّا کہیں جسے وہ دکھ عطا ہو، عین مداوا کہیں جسے سُن مجھ سے سُن، وہ کیا ہے؟ فقط ربط حسن و عشق اس دہر کی حقیقت کبریٰ کہیں جسے اے مرکز اُمید! خبر لے، کہ مٹ چلی...
  15. کاشفی

    تجلّیاتِ فروغ - جناب محمد حنیف صاحب فروغ

    تجلّیاتِ فروغ (جناب محمد حنیف صاحب فروغ ) مرتے دم تم نے اگر شکل دکھائی ہوتی کچھ مرے جینے کی صورت نکل آئی ہوتی داورِ حشر کو کچھ اور گماں ہوجاتا تم نے محشر میں اگر دیر لگائی ہوئی ہوکے برہم صفت ابر رُلایا برسوں ہنس کے بجلی دل عاشقی پہ گرائی ہوتی دل انساں سے نکل کر وہ سماتا اس میں...
  16. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    دیوانگی پہ میرے ہنستے ہیں عقل والے تیری گلی کا رستہ پوچھا تری گلی میں (ابولاعظم سید احمد حسین امجد حیدرآبادی)
  17. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    جو نظر آتے ہیں، نہیں اپنے جو ہے اپنا نظر نہیں آتا (ابولاعظم سید احمد حسین امجد حیدرآبادی)
  18. کاشفی

    جذباتِ عالیہ - حضرت امجد حیدر آبادی

    شکریہ جناب ایم جی کے آر ون ون
  19. کاشفی

    اردو رباعیات

    خالق ہے کوئی ارض و سما شاہد ہے اَنتَ کے لئے اپنا اَنا شاہد ہے اس پر بھی اگر کوئی نہ مانے نہ سہی خود، اپنے وجود پر، خدا شاہد ہے (ابولاعظم سید احمد حسین امجد حیدرآبادی)
Top