انساں و پری کا سامنا کیا
مٹھی میں ہَوا کا تھامنا کیا
(پنڈت دَیا شنکر نسیم لکھنوی)
پنڈت دَیا شنکر نسیم 1811ء میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد بزرگوار کا نام پنڈت گنگا پرشادکول تھا۔ لکھنؤ آپ کا وطن تھا۔
سلام
جوش ملیح آبادی لکھنوی
طبع میں کیا، تیغِ بُرّان میں روانی چاہیئے
گل فشانی تا کُجا، اب خون فشانی چاہیئے
بستہء زنجیرِ محکومی! خبر بھی ہے تجھے؟
مہرومہَ پر تجھ کو عزم حکمرانی چاہیئے
مرقدِ شہزادہء اکبر سے آتی ہے صدا
حق پہ جو مٹ جائے، ایسی نوجوانی چاہیئے
شاہ فرماتے ہیں "جا لے جا...
ناخُدا کہاں ہے ؟
جوش ملیح آبادی
خبر لو آسودگانِ ساحل! کہ سامنے مرگِ ناگہاں ہے
چھِڑی ہوئی دیر سے لڑائی زبوں عناصر کے درمیاں ہے
تمام دُنیا عرق عرق ہے، تمام ہستی رواں دواں ہے
حقیر تِنکے کی طرح کشتی کبھی یہاں ہے کبھی وہاں ہے
کوئی خدا کے لیے بتاؤ کہ ناخُدا کون ہے، کہاں ہے؟
غضب کے گِرداب...
کب تک
جوش ملیح آبادی
رہے گی اہلِ جفا پر تری عطا کب تک
بنے رہیں گے الہٰی! یہ بُت خدا کب تک
لیے رہے گا دکھانے کو منہ میں گُلدستے
زبوں شعار حکومت کا اژدھا کب تک
کمندِ فکر میںاُلجھا کے ہنسے والوںکو
زبانِ علم کہے گی گرہ کُشا کب تک
کوئی بتاؤ یہ پیرانِ دامن آلودہ
بنے رہیںگے جوانانِ پارسا کب تک...
غزل
(جناب حکیم آزاد انصاری صاحب)
وہ دل کہاں سے لاؤں شکیبا کہیں جسے
باقی بھی ہو، شکیب کا یارا کہیں جسے
وہ درد دے کہ درد تمنّا کہیں جسے
وہ دکھ عطا ہو، عین مداوا کہیں جسے
سُن مجھ سے سُن، وہ کیا ہے؟ فقط ربط حسن و عشق
اس دہر کی حقیقت کبریٰ کہیں جسے
اے مرکز اُمید! خبر لے، کہ مٹ چلی...
تجلّیاتِ فروغ
(جناب محمد حنیف صاحب فروغ )
مرتے دم تم نے اگر شکل دکھائی ہوتی
کچھ مرے جینے کی صورت نکل آئی ہوتی
داورِ حشر کو کچھ اور گماں ہوجاتا
تم نے محشر میں اگر دیر لگائی ہوئی
ہوکے برہم صفت ابر رُلایا برسوں
ہنس کے بجلی دل عاشقی پہ گرائی ہوتی
دل انساں سے نکل کر وہ سماتا اس میں...
خالق ہے کوئی ارض و سما شاہد ہے
اَنتَ کے لئے اپنا اَنا شاہد ہے
اس پر بھی اگر کوئی نہ مانے نہ سہی
خود، اپنے وجود پر، خدا شاہد ہے
(ابولاعظم سید احمد حسین امجد حیدرآبادی)