غزل
جوش ملیح آبادی
اُن سے جا کر صبا یہ کہہ پیغام
نیند راتوں کی ہوگئی ہے حرام
اے فدا تجھ پہ دین و دل میرا
جلوہ گستر ہو میرے ماہِ تمام
یہ چلا کون اُٹھ کے پہلو سے؟
دل کی بستی میں پڑ گیا کُہرام
جتنے آشفتہ حال شہر میں ہیں
جوش کو مانتے ہیں اپنا امام
غزل
جوش ملیح آبادی
نُور رگوں میں دوڑ جائے، پردہء دل جَلا تو دو
دیکھنا رقص پھر مرا، پہلے نقاب اُٹھا تو دو
رنگ ہے زرد کیوں مرا، حال ہے غیر کس لئے؟
ہو جو بڑے ادا شناس اس کا سبب بتا تو دو
میرے مکاں میں تم مکیں، میں ہوںمکاں سے بے خبر
ڈھونڈ ہی لوں گا میں تمہیں، مجھ کو مرا پتا تو دو...
غزل
جوش ملیح آبادی
یہ بات، یہ تبسّم، یہ ناز، یہ نگاہیں
آخر تمہیں بتاؤ کیوں کر نہ تم کو چاہیں
اب سر اُٹھا کہ میں نے شکوؤں سے ہات اُٹھایا
مر جاؤں گا ستمگر، نیچی نہ کر نگاہیں
کچھ گُل ہی سے نہیں ہے رُوح نمو کو رغبت
گردن میں خار کی بھی ڈالے ہوئے ہے بانہیں
اللہ ری دلفریبی جلوؤں کے...
غزل
جوش ملیح آبادی
اپنی اِن انکھڑیوں کی تجھ کو قسم
ہاں اِدھر بھی کبھی نگاہِ کرم
آنے والی ہے کیا بَلا سر پر
آج پھر دل میں درد ہے کم کم
لذّتِ مرگ، اے معاذ اللہ
وائے برخضر و عیسیء مریم
یُوں بھی اے دل کوئی دھڑکتا ہے
کاکلیں اُن کی ہوگئیں برہم
تیری رفتارِ ناز کے قُرباں
بنتے...
غزل
جوش ملیح آبادی
کشتیء مے کو اے خدائے صُبوح
بخش دے قسمتِ سفینہء نُوح
بخش اس جسمِ پاک جوھر کو
مرگ فرسائی جلالتِ رُوح
چشمہء زندگی ہو مدحِ سرا
ارغوانی شراب ہو ممدوح
بادہ ہے اس طرف، اُدھر کوثر
اس کو فاتح بنا، اُسے مفتوح
آنچ آئے نہ مے پر اے معبود!
تیرے بندے ہیںخستہ و مجروح
غزل
جوش ملیح آبادی
ہوئی جاتی ہے زندگی برباد
اے مرے دیرآشنا! فریاد
ترک کروں گا شغلِ مے، ناصح!
ہاں سر آنکھوںپر آپ کا ارشاد
اُن کی صرف اک نگاہ کی خاطر
بیچ دی ہم نے عزتِ اجداد
جی کڑا کر کے، حالِ دل اُن سے
اب تو کہتے ہیں، ہر چہ بادا باد
مست باش اے نگاہِ بادہ فروش
ہوگئے کتنے...
غزل
(جوش ملیح آبادی)
عشوؤں کو چین ہی نہیں آفت کئے بغیر
تم اور مان جاؤ شرارت کئے بغیر؟
اہلِ نظر کو یار دکھاتا رہِ وفا
اے کاش ذکرِ دوزخ و جنت کئے بغیر
اب دیکھ اُس کا حال، کہ آتا نہ تھا قرار
خود تیرے دل کو جس پہ عنایت کئے بغیر
اے ہمنشیں محال ہے ناصح کا ٹالنا
یہ، اور یہاں سے جائیں...
غزل
(جوش ملیح آبادی)
ہٹ گئے دل سے تیرگی کے حجاب
آفریں اے نگاہِ عالم تاب
آڑے آیا نہ کوئی مشکل میں
مشورے دے کے ہٹ گئے احباب
کیا قیامت تھی صبر کی تلقین
اور بھی رُوح ہوگئی بیتاب
بارے اُٹھے تو ناصحِ مشفق!
ہاں کدھر ہے صراحیء مئے ناب
ہاں اثر اب ہوا محبت کا
ہم سے آنے لگا ہے اُن کو...
غزل
جوش ملیح آبادی
"کیوں چُپ ہیں سب، مریضِ محبت کو کیا ہوا؟"
اُن کا یہ پوچھنا تھا کہ محشر بپا ہوا
زحمت نہ ہو تو در پہ ذرا چل کے دیکھ لو
آیا ہے کوئی اپنا پتا پوچھتا ہوا
یہ میرا ذوقِ بادہ کشی، اور یہ تشنگی!
معبود! تیری شانِ کریمی کو کیا ہوا؟
اک تم کہ اہلِ دل کی نظر پر چڑھے ہوئے
اک میںکہ...
غزل
(سید احمد علی شمیم عشرت گیاوی)
فروغِ حسن عروجِ شباب دیکھے کون
یہ دوپہر کا چڑھا آفتاب دیکھے کون
فراقِ یار کے جینے سے موت اچھی ہے
یہ روز روز کا رنج و عذاب دیکھے کون
اٹھایا میں نے تو عیش و نشاط روز وصال
شب فراق کا رنج و عذاب دیکھے کون
انہیں نظر ہی نہیں حال زار پر میرے
یہ...