غزل
جوش ملیح آبادی
جَلا کے میری نظر کا پردہ، ہٹا دی رُخ سے نقاب تُونے
چراغ اُٹھا کر، مرے شبستاں میں رکھ دیا آفتاب تُونے
فلک، نظر سے تڑپ رہا ہے، زمین، عشوؤں سے ہل رہی ہے
کہاں سے پایا ہے او ستمگر! یہ مست و کافر شباب تُونے
نسیم، اوراق اُلٹ رہی ہے، نُجوم، مشعل دکھا رہے ہیں
اُفق کی سُرخی میں...
غزل
جوش ملیح آبادی
شاہد و مَے سے آشنائی ہے
اپنی مشہور پارسائی ہے
حُسن کو رام کر کے چھوڑوں گا
مجھ سے دل نے قسم یہ کھائی ہے
آپ سے، ہم سے، رنج ہی کیسا
مُسکرا دیجئے، صفائی ہے
آئی عاشق میں شانِ محبوبی
یعنی اب عشق انتہائی ہے
حد ہے، اپنی طرف نہیں میں بھی
اور اُن کی طرف خدائی ہے
غزل
جوش ملیح آبادی
دیر سے منتظر ہوں میں، بیٹھ نہ یوں حجاب میں
تاروں کی چھاؤں ہے، در آ میرے دلِ خراب میں
کس سے کہوں میں داستاں طولِ شب فراق کی
جاگ رہا ہوں ایک میں، سارا جہاں ہے خواب میں
اُس سے ڈرو وہ فتنہء بزمِ حیات جسے
شیب میںتابِ مے نہ ہو، عشق نہ ہو شباب میں
عرش سے آئی یہ صدا،...