نتائج تلاش

  1. کاشفی

    جوش جَلا کے میری نظر کا پردہ، ہٹا دی رُخ سے نقاب تُونے - جوش ملیح آبادی

    غزل جوش ملیح آبادی جَلا کے میری نظر کا پردہ، ہٹا دی رُخ سے نقاب تُونے چراغ اُٹھا کر، مرے شبستاں میں رکھ دیا آفتاب تُونے فلک، نظر سے تڑپ رہا ہے، زمین، عشوؤں سے ہل رہی ہے کہاں سے پایا ہے او ستمگر! یہ مست و کافر شباب تُونے نسیم، اوراق اُلٹ رہی ہے، نُجوم، مشعل دکھا رہے ہیں اُفق کی سُرخی میں‌...
  2. کاشفی

    فارسی شاعری مے کے بغیر بزم ہے کیا، نو بہار کیا . حافظ کی غزل کا منظوم ترجمہ

    بہت ہی خوب۔ شریکِ محفل کرنے کے لئے بیحد شکریہ جناب سخنور صاحب!
  3. کاشفی

    جوش کشتیء مے کو اے خدائے صُبوح - جوش ملیح آبادی

    شکریہ محمد وارث صاحب ! شکریہ سخنور صاحب!
  4. کاشفی

    جوش اپنی اِن انکھڑیوں کی تجھ کو قسم - جوش ملیح آبادی

    بیحد شکریہ محمد وارث صاحب !
  5. کاشفی

    جوش ہوئی جاتی ہے زندگی برباد - جوش ملیح آبادی

    شکریہ محمد وارث صاحب ! شکریہ سخنور صاحب!
  6. کاشفی

    جوش عشوؤں کو چین ہی نہیں آفت کئے بغیر - جوش ملیح آبادی

    بیحد شکریہ محمد وارث صاحب ! شکریہ سخنور صاحب!
  7. کاشفی

    جوش ہٹ گئے دل سے تیرگی کے حجاب - جوش ملیح آبادی

    بیحد شکریہ محمد وارث صاحب ! شکریہ سخنور صاحب!
  8. کاشفی

    جوش "کیوں چُپ ہیں سب، مریضِ محبت کو کیا ہوا؟" - جوش ملیح آبادی

    شکریہ محمد وارث صاحب ! شکریہ سخنور صاحب!
  9. کاشفی

    بیت بازی کا کھیل!

    تیغِ جلاد اُٹھی گردنِ تسلیم جھکی شکر ہے حق وفا آج ادا ہوتا ہے عشرت گیاوی
  10. کاشفی

    بیت بازی سے لطف اٹھائیں (3)

    آنکھیں اُٹھیں نہ جانبِ شمس و قمر کبھی اک حسنِ لازوال کا جلوہ نظر میں ہے (عشرت گیاوی)
  11. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    بڑا ملال ہوا سن کے یہ صدا مجھ کو عزیز بھول گئے خاک میں ملا کے مجھے (سید احمد علی عشرت گیاوی)
  12. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    نہ بار بار غش آتا نہ ہوتا میں بے خود نہ دیکھتے جو وہ پردہ اُٹھا اُٹھا کے مجھے (سید احمد علی عشرت گیاوی)
  13. کاشفی

    تمھیں بھی یاد ہے کچھ، یہ کلام کس کا تھا؟ خوبصورت مقطعے

    خنجر ہے جوش ہات میں، دامن لہو سے تَر یہ اُس کے طَور ہیں‌کہ مسیحا کہیں جسے
  14. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    کافر بنوں گا، کُفر کا ساماں تو کیجئے پہلے گھنیری زُلف پریشاں تو کیجئے جوش ملیح آبادی
  15. کاشفی

    جوش شاہد و مَے سے آشنائی ہے - جوش ملیح آبادی

    غزل جوش ملیح آبادی شاہد و مَے سے آشنائی ہے اپنی مشہور پارسائی ہے حُسن کو رام کر کے چھوڑوں گا مجھ سے دل نے قسم یہ کھائی ہے آپ سے، ہم سے، رنج ہی کیسا مُسکرا دیجئے، صفائی ہے آئی عاشق میں‌ شانِ محبوبی یعنی اب عشق انتہائی ہے حد ہے، اپنی طرف نہیں میں‌ بھی اور اُن کی طرف خدائی ہے
  16. کاشفی

    جوش دیر سے منتظر ہوں میں، بیٹھ نہ یوں حجاب میں - جوش ملیح آبادی

    غزل جوش ملیح آبادی دیر سے منتظر ہوں میں، بیٹھ نہ یوں حجاب میں تاروں کی چھاؤں ہے، در آ میرے دلِ خراب میں کس سے کہوں میں داستاں طولِ شب فراق کی جاگ رہا ہوں ایک میں، سارا جہاں ہے خواب میں اُس سے ڈرو وہ فتنہء بزمِ حیات جسے شیب میں‌تابِ مے نہ ہو، عشق نہ ہو شباب میں عرش سے آئی یہ صدا،...
  17. کاشفی

    جوش قدم انساں کا راہِ دہر میں‌ تھرّا ہی جاتا ہے - جوش ملیح آبادی

    تمام احباب کا بیحد شکریہ۔۔ خوش رہیں۔
Top