غزل
(ذوق)
خوب روکا شکایتوں سے مجھے
تونے مارا عنایتوں سے مجھے
بات قسمت کی ہے کہ لکھتے ہیں
خط وہ کن کن کنایتوں سے مجھے
واجب القتل اُس نے ٹھہرایا
آیتوں سے، روایتوں سے مجھے
حالِ "مہر و وفا" کہوں تو ، کہیں
نہیں شوق ان حکایتوں سے مجھے
کہہ دو اشکوں سے کیوں ہوکرتے کمی
شوق کم ہے...
غزل
(سعید احمد اختر)
ہے قحط نہ طوفاں نہ کوئی خوف وبا کا
اس دیس پہ سایہ ہے کسی اور بلا کا
ہر شام سسکتی ہوئی فریاد کی وادی
ہر صبح سُلگتا ہوا صحرا ہے صدا کا
اپنا تو نہیں تھا میں کبھی، اورغموں نے
مارا مجھے ایسا رہا تیرا نہ خدا کا
پھیلے ہوئے ہر سمت جہاںحرص و ہوس ہوں
پھولے...
حسب حال غزل
شہر میں ہر سمت قتل عام ہے
خون میں ڈوبی سحر اور شام ہے
جا بجا انسانیت کی دھجیاں
ہر جگه کہرام ہی کہرام ہے
آنکھ کی محراب ، اشکوں کے چراغ
اب یہی منظر ہمارے نام ہے
چھوڑئیے رنگ چمن کی داستاں
اب قفس میں ہی مجھے آرام ہے
حسن ہے بے عیب راہی سر بہ سر
عشق تو...