نتائج تلاش

  1. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    چل میکدہ میں شیخ بسر کر مہِ صیام مسجد میں تنگ بیٹھا ہے کیوں اعتکاف سے (ذوق)
  2. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    کوئی ہے کافر، کوئی مسلماں، جدا ہر اک کی ہے راہِ ایماں جو اس کے نزدیک رہبری ہے، وہ اُس کے نزدیک رہزنی ہے (ذوق)
  3. کاشفی

    ذوق خوب روکا شکایتوں سے مجھے - ذوق

    غزل (ذوق) خوب روکا شکایتوں سے مجھے تونے مارا عنایتوں سے مجھے بات قسمت کی ہے کہ لکھتے ہیں خط وہ کن کن کنایتوں سے مجھے واجب القتل اُس نے ٹھہرایا آیتوں سے، روایتوں سے مجھے حالِ "مہر و وفا" کہوں تو ، کہیں نہیں شوق ان حکایتوں سے مجھے کہہ دو اشکوں سے کیوں ہوکرتے کمی شوق کم ہے...
  4. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    کھلتا نہیں دل، بند ہی رہتا ہے ہمیشہ کیا جانے کہ آجاتا ہے تو اُس میں کدھر سے (ذوق)
  5. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    کچھ رحمت باری سے نہیں دور کہ ساقی رو دیں جو ذرا مست تو مے ابر سے برسے (ذوق)
  6. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    میں وہ نہیں کہ تم ہو کہیں، اور کہیں ہوں میں میں ہوں تمہارا سایہ، جہاں تم، وہیں ہوں میں (ذوق)
  7. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    جُھکائے ہے سرِ تسلیم ماہ نو، پر، وہ غُرورِ حسن سے کس کا سلام لیتے ہیں ہمارے ہاتھ سے اے ذوق وقتِ مے نوشی ہزار ناز سے وہ ایک جام لیتے ہیں (ذوق)
  8. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    مجھے ہو کس طرح قول و قسم کا اعتبار اُن کے ہزاروں دے چکے وہ قول ،لاکھوں کھا چکے قسمیں (ذوق)
  9. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    پھر تو آئے خیر سے ہم جاکے اُس مغرور تک پر اُچھلتا ہی رہا اپنا کلیجہ دُور تک (ذوق)
  10. کاشفی

    ہے قحط نہ طوفاں نہ کوئی خوف وبا کا - سعید احمد اختر

    شکریہ جناب محمد وارث صاحب شکریہ جناب سخنور صاحب
  11. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    لے گیا دل کون میرا، ذوق کس کا نام لوں سامنے آجائے تو شاید بتا دوں دیکھ کر (ذوق)
  12. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    یارب یہ اس زمانہ کے لوگوں کو کیا ہوا جس کا برا ہو، اُن کو یہ کہنا، بھلا ہوا (ذوق)
  13. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    ہوئے انسان ہم دردِ محبت کے لیئے پیدا فرشتے ہوتے گر ہوتے عبادت کے لیئے پیدا (ذوق)
  14. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    بعدِ فراق کوئی دن، ایسا نہ وصل کا ہوا وہ کہیں تم کو کیا ہوا، ہم کہیں تم کو کیا ہوا (ذوق)
  15. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    چاندنی نے شب تجھ بن، روپ یہ دکھایا تھا مجھ کو ماہتابی پر، دھوپ میں بٹھایا تھا (ذوق)
  16. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    آگ ہے دل میں، درد جگر میں، آنکھ میں آنسو، لب پہ فغاں عشق نے اُس کے ذوق ہمارا دیکھ لو ، ہےیہ حال کیا (ذوق)
  17. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    ذوق نے ہو زلف کو چھیڑا تو لے مجھ سے قسم تونے خود چھیڑا اُسے اور برہم اتنا ہوگیا (ذوق)
  18. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    شکر پردے ہی میں اُس بُت کو حیا نے رکھا ورنہ ایمان گیا ہی تھا، خدا نے رکھا (ذوق)
  19. کاشفی

    ہے قحط نہ طوفاں نہ کوئی خوف وبا کا - سعید احمد اختر

    غزل (سعید احمد اختر) ہے قحط نہ طوفاں نہ کوئی خوف وبا کا اس دیس پہ سایہ ہے کسی اور بلا کا ہر شام سسکتی ہوئی فریاد کی وادی ہر صبح سُلگتا ہوا صحرا ہے صدا کا اپنا تو نہیں تھا میں کبھی، اورغموں نے مارا مجھے ایسا رہا تیرا نہ خدا کا پھیلے ہوئے ہر سمت جہاں‌حرص و ہوس ہوں پھولے...
  20. کاشفی

    شہر میں ہر سمت قتل عام ہے - سوہن راہی

    حسب حال غزل شہر میں ہر سمت قتل عام ہے خون میں ڈوبی سحر اور شام ہے جا بجا انسانیت کی دھجیاں ہر جگه کہرام ہی کہرام ہے آنکھ کی محراب ، اشکوں کے چراغ اب یہی منظر ہمارے نام ہے چھوڑئیے رنگ چمن کی داستاں اب قفس میں ہی مجھے آرام ہے حسن ہے بے عیب راہی سر بہ سر عشق تو...
Top