اے زاہدو تم سے کیا جھگڑ کر لوں میں
غصہ سے کروں کس لئے دل کو خوں میں
میخوار و صنم پرست کہتے ہو مجھے
تم ہو تم ہو ، جو کچھ کہ ہوں میں ہوں میں
(ذوق رحمتہ اللہ علیہ)
اعلٰی جو علی علیہ السلام کی ہے امامت کا مقام
رکھتے ہیں خبر اُس سے یہاں خاص وعام
جو لوگ صف اول میثاق میں تھے
پوچھے کوئی اُن سے کہ وہ کیسا تھا امام
(ذوق رحمتہ اللہ علیہ)
تو بھلا ہے تو بُرا ہو نہیں سکتا اے ذوق
ہے بُرا وہ ہی کہ جو تجھ کو بُرا جانتا ہے
اور اگر تو ہی بُرا ہے تو وہ سچ کہتا ہے
کیوں بُرا کہنے سے تو اُس کے بُرا مانتا ہے
(ذوق رحمتہ اللہ علیہ)
تو بھلا ہے تو بُرا ہو نہیں سکتا اے ذوق
ہے بُرا وہ ہی کہ جو تجھ کو بُرا جانتا ہے
اور اگر تو ہی بُرا ہے تو وہ سچ کہتا ہے
کیوں بُرا کہنے سے تو اُس کے بُرا مانتا ہے
(ذوق رحمتہ اللہ علیہ)
غزل
(شیخ ابراہیم دہلوی متخلص بہ ذوقؔ)
جُدا ہوں یار سے ہم، اور نہ ہوں رقیب جُدا
ہے اپنا اپنا مقدر جُدا نصیب جُدا
تری گلی سے نکلتے ہی اپنا دم نکلا
رہے ہے کیونکہ گلستاں سے عندلیب جُدا
دکھا دے جلوہ جو مسجد میں وہ بُتِ کافر
تو چیخ اُٹھے مؤذن جُدا خطیب جُدا
جُدا نہ دردِ...
غزل
(ذوق)
میں کہاں سنگِ درِ یار سے ٹل جاؤں گا
نہ وہ پتھر ہے پھسلنا کہ پھسل جاؤں گا
دل یہ کہتا ہے کہ تاچرخِ زحل جاؤں گا
بلکہ میں توڑ کے اُس کو بھی نکل جاؤں گا
آج اگر راہ نہ پاؤں گا تو کل جاؤں گا
کوچہء یار میں ، میں سر ہی کے بل جاؤں گا
کہتا وحشت سے ہے یہ جامہء پیری میرا
دیکھ...