نتائج تلاش

  1. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    شاعری کیا ہے؟ فقط اک جذبہ طوفاں خروش قوت تخئیل میں اک ولولہ انگیز جوش (مولانا عزیز لکھنوی)
  2. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    شاعری کیا ہے؟ دلی جذبات کا اظہار ہے دل اگر بیکار ہے تو شاعری بیکار ہے (مولانا صفی)
  3. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    سودا نگاہِ دیدہء تحقیق کے حضور جلوہ ہر ایک ذرہ میں ہے آفتاب کا (سودا)
  4. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    دیکھوں نہ کبھی گُل کو ترے منہ کے میں ہوتے سنبل کے سوازلف تری بو نہ کروں میں (سودا) بو کرنا یعنی سونگھنا
  5. کاشفی

    دل قابو سے نکلے گا تو کیا جانے کیا کیا ہوگا - افسر میرٹھی

    غزل (افسر میرٹھی) دل قابو سے نکلے گا تو کیا جانے کیا کیا ہوگا گھر گھر نام دھرے جائیں گے ہر گھرمیں چرچا ہوگا دل پر اپنا بس چلتا تو وحشت کاہے کو ہوتی اور کسی سے کیا مطلب ہے تو خود کیا کہتا ہوگا سچ تو یہ ہے اس دنیا میں حرکت ہی سے برکت ہے جس نے کچھ ڈھونڈا ہوگا تو اس نے کچھ پایا ہوگا...
  6. کاشفی

    پھر بسانا ہے کسی عالم کو - راز رامپوری

    شکریہ وارث صاحب! آپ درست فرما رہے ہیں ۔۔
  7. کاشفی

    اختر شیرانی بھلا کیوں کر نہ ھوں راتوں کو نیندیں بے قرار اس کی (اختر شیرانی)

    بھلا کیوں کر نہ ہو ں راتوں کو نیندیں بیقرار اُس کی - اختر شیرانی غزل (اختر شیرانی) بھلا کیوں کر نہ ہو ں راتوں کو نیندیں بیقرار اُس کی کبھی لہرا چکی ہو جس پہ زلفِ مشکبار اس کی اُمید وصل پر ، دل کو فریب صبر کیا دیجے؟ ادا وحشی صفت اس کی ،نظر بیگانہ وار ، اس کی! جفائے ناز کی میں نے...
  8. کاشفی

    فراق عشق کی مایوسیوں میں سوز پنہاں کچھ نہیں - فراق گورکھپوری

    شکریہ محمد وارث صاحب! شکریہ سخنور صاحب!
  9. کاشفی

    بارہا ہجر میں یوں ہم نے اُنہیں یا دکیا - ذوقی

    شکریہ محمد وارث صاحب! شکریہ سخنور صاحب! شکریہ الف عین صاحب! اس غزل کا ماخد رسالہ نگار اگست 1928ء ہے۔۔۔ شاعر کا نام ذوقی لکھاہوا ہے۔
  10. کاشفی

    پھر بسانا ہے کسی عالم کو - راز رامپوری

    شکریہ سخنو ر صاحب!
  11. کاشفی

    پھر بسانا ہے کسی عالم کو - راز رامپوری

    غزل (راز رامپوری) پھر بسانا ہے کسی عالم کو دیکھو دیکھو نہ مٹاؤ ہم کو سجدے کرنے کو ملک کافی تھے کیوں بنایا ہے بنی آدم کو سادگی ہائے محبت یعنی ان سے اُمید ِ وفا ہے ہم کو منزلیں ہجر کی طے کرنا ہیں رات اندھیری ہے، ستارو چمکو شادمانی کی تمنا نہ کریں غم ملے جائے جو پیہم ہم کو لاؤ غم سارا...
  12. کاشفی

    فراق عشق کی مایوسیوں میں سوز پنہاں کچھ نہیں - فراق گورکھپوری

    غزل (فراق گورکھپوری) عشق کی مایوسیوں میں سوز پنہاں کچھ نہیں اس ہوا میں یہ چراغ زیر داماں کچھ نہیں کیا ہے دیکھو حسرتِ سیرِ گلستاں کچھ نہیں کچھ نہیں اے ساکنانِ کنج زنداں کچھ نہیں جینے والے جی رہے ہیں اور ہی عالم میں اب دوستو طول غمِ شبہائے ہجراں کچھ نہیں عشق کی ہےخود نمائی عشق کی...
  13. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    یاد سب کچھ ہیں مجھے ہجر کے صدمے ظالم بھول جاتا ہوں مگر دیکھ کے صورت تیری (شاعر: معلوم نہیں)
  14. کاشفی

    بارہا ہجر میں یوں ہم نے اُنہیں یا دکیا - ذوقی

    غزل (ذوقی) بارہا ہجر میں یوں ہم نے اُنہیں یا دکیا جسم کو روح کیا، روح کو فریاد کیا اس لگاوٹ سے نگاہوں نے کچھ ارشاد کیا روح کو کشمکش یاس سے آزاد کیا اس نے اس حسنِ تبسم سے نگاہیں ڈالیں سب یہ سمجھے کہ سرِ بزم کچھ ارشاد کیا میں نے کس دن قفس غم سے رہائی چاہی میں نے کب شکوہء بے مہری...
  15. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    نگاہوں سے ہوئے اوجھل جو وہ پیشِ نظر ہو کر ہمارے دل کی دنیا رہ گئی زیر و زبر ہو کر (اثر رامپوری)
  16. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    دونوں راہیں چھوڑ دی ہیں ہم نے مشکل دیکھ کر دیر و کعبہ کون جائے، وسعتِ دل دیکھ کر (باسط بسوانی)
  17. کاشفی

    یہ ہے میرا پاکستان ۔ مسعود منور

    شکریہ شریکِ محفل کرنے کے لیئے۔۔۔خوش رہیں۔
  18. کاشفی

    مبارکباد جشنَ آزادی مبارک

    موج بڑھے یا آندھی آئے دیا جلائے رکھنا ہے گھر کی خاطر سو دُکھ جھیلیں گھر تو آخر اپنا ہے پاکستان ! اللہ تجھے اپنی امان میں رکھے۔ آمین
  19. کاشفی

    اردو رباعیات

    پُتلی کی طرح نظر سے مستور ہے تو آنکھیں جسے ڈھونڈھتی ہیں وہ نور ہے تو نزدیک رگِ جاں سے ہے اُس پر یہ بُعد اللہ اللہ کس قدر دور ہے تو (میرببر انیس اعلی اللہ مقامہ)
  20. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    خود نوید زندگی لائی قضا میرے لئے شمع کشتہ ہوں فنا میں ہے بقا میرے لئے (میرببر انیس اعلی اللہ مقامہ)
Top